لائبہ اعجاز کیس میں مبینہ ویزا فراڈ کے ملزم کا پانچ روزہ ریمانڈ: ’پریشانی کے عالم میں میری بیٹی نے انتہائی قدم اٹھایا‘

ملزم کو پیر کی صبح جوڈیشل مجسٹریٹ زنیرہ ظفر کی عدالت میں چہرہ ڈھانپ کر پیش کیا گیا جہاں تفتیشی حکام نے بتایا کہ انھیں دستیاب شواہد اور ابتدائی تفتیش کی روشنی میں ملزم مزید تفتیش کے لیے مطلوب ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزم کے 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔
Laiba Islamabad Suicide
Getty Images

اس رپورٹ میں جرم اور خودکشی سے متعلق تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ کا نشانہ بننے والی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے کیس میں گرفتار ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ملزم کو پیر کی صبح جوڈیشل مجسٹریٹ زنیرہ ظفر کی عدالت میں چہرہ ڈھانپ کر پیش کیا گیا جہاں تفتیشی حکام نے بتایا کہ انھیں دستیاب شواہد اور ابتدائی تفتیش کی روشنی میں ملزم مزید تفتیش کے لیے مطلوب ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزم کے 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ جمعہ (نو اکتوبر) کے روز صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی طالبہ لائبہاعجاز کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس کے مطابق لائبہ نے بظاہر گلے میں دوپٹہ ڈال کر مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔

خودکشی کی مبینہ وجہ بعدازاں یہ سامنے آئی کہ ملزم نے لائبہ اور اُن کے اہلخانہ سے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر 50 لاکھ روپے بٹورے تھے۔ بعدازاں جب ملزم کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کو چیک کروایا گیا تو وہ جعلی نکلے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسی معاملے پر دلبرداشتہ لائبہ نے موت کو گلے لگا لیا کیونکہ اس رقم کی ادائیگی کے لیے اُن کے والد نے ناصرف اپنی جمع پونجی خرچ کی تھی بلکہ اُس پلاٹ کو بھی فروخت کر دیا تھا جس پر وہ اپنا مکان بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

لائبہ اعجاز کی مبینہ خود کشی کا وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیا تھا، جس کے بعد ملزم کو حراست میں لیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟

اس واقعے کی ایف آئی آر اسلام آباد کے تھانہ رمنہ میں قتل بسبب (322) اور مجرمانہ نیت (34) کے تحت درج کی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر کو ابتدا میں سیل کر دیا گیا تھا تاہم پیر کی صبح یہ ایف آئی آر ڈی سیل کر دی گئی ہے۔

ایف آئی آر لائبہ کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے بیرونِ ملک تعلیم کے لیے ویزا دلوانے کے نام پر مبینہ فراڈ کیا اور مالی دباؤ کے باعث اُن کی بیٹی لائبہ اعجاز نے انتہائی قدم (خودکشی) اٹھایا۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ اسلام آباد میں دودھ دہی کی دکان چلاتے ہیں جبکہ اُن کی 23 سالہ بیٹی لائبہ اعجاز اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ اور سکالرشپ ہولڈر تھیں۔

والد کے مطابق تقریباً چھ سے سات ماہ قبل اُن کی بیٹی کی ملاقات ملزم سے ہوئی،جس نے خود کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ عہدیدار ظاہر کیا اور لائبہ کو سٹڈی ویزا پر امریکہ بھجوانے کی پیشکش کی۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے 93 لاکھ روپے کی رقم طے پائی، جس میں سے 21 لاکھ روپے نقد جبکہ 29 لاکھ روپے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے ملزم کو ادا کیے گئے۔

والد کے مطابق بعد میں ملزم کی جانب سے اُن کی بیٹی کو ویزا سے متعلق دستاویزات دی گئیں، تاہم جانچ پڑتال پر وہ مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوئیں۔ ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ بینک سٹیٹمنٹ کے لیے 20 ہزار امریکی ڈالر اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی رسید بھی جعلی نکلی۔

والد کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے یہ تفصیل سامنے آنے پر ملزم سے رابطہ کیا تو اُس نے فون کالز کا جواب دینا بند کر دیا جبکہ ملزم کی ایک ساتھی کی جانب سے دوران مبینہ طور پر مزید رقم کا مطالبہ جاری رہا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ اور پریشانی کے باعث لائبہ اعجاز شدید اضطراب کا شکار رہیں اور اسی صورتحال کے نتیجے میں انھوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

پولیس دستاویزات کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر تفتیشی افسر موقع پر پہنچے جبکہ فرانزک ٹیم نے بھی شواہد اکٹھے کیے۔ لائبہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

یاد رہے کہ اس معاملے کا انکوائری ایف آئی اے بھی کر رہی ہے اور ایف آئی اے کے اسلام آباد ریجن کے ڈائریکٹر شہزاد بخاری نے بی بی سی اُردو کو بتایا ’اس واقعہ سے متعلق تمام شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور ملزم کے موبائل کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔‘

’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا ورنہ وہ مر جائیں گے‘

Laiba Islamabad Suicide
Getty Images

یہ الفاظ لائبہ کے ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر خود کشی کرنے سے پہلے اپنے بہنوئی کو فون کرکے کہے تھے۔

لائبہ کے بہنوئی نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لائبہ لائق اور قابل طالبہ تھیں اور اسلامک یونیورسٹی میں سکالر شپ پر پڑھی تھیں جبکہ اُن کی یونیورسٹی نے انھیں مزید سکالر شپ پر سعودی عرب بھیجنے کی آفر بھی کر رکھی تھی۔

اُن کے بہنوئی کے مطابق بی ایس مکمل کرنے کے بعد لائبہ آن لائن کام کرتی تھیں، جہاں اُن کا رابطہ ایک شخص سے ہوا جس پر خاندان کا الزام ہے کہ اس نے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کیے۔

بہنوئی کا دعویٰ ہے کہ لائبہ نے اس شخص کو اسلامک یونیورسٹی کی جانب سے اعلی تعلیم کے لیے سعودی عرب بھیجنے کی آفر کے بارے میں بتایا تو اس نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ دلوا سکتا ہے جس کے لیے رقم کی ادائیگی طے پائی تھی۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ 'لائبہ کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر جانے کا شوق تھا اور اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیا جنھوں نے بچی کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ پلاٹ بھی بیچ دیا جواپنے گھر کی تعمیر کے لیے خریدا تھا۔'

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم گذشتہ مہینوں میں مختلف اوقات میں اس خاندان سے مختلف دستاویزات کی تیاری کے نام پر پیسے بٹورتا رہا، مگر بعد میں اس کی طرف سے دیے گئے تمام ڈاکومینٹس جعلی نکلے، جس پر لائبہ انتہائی پریشان تھیں کیونکہ اُن کی والد اس کام پر اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر چکے تھے جبکہ ملزم نے بھی رابطہ کرنا بند کر دیا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US