حملے سے ہونے والے انفراسٹرکچر کا نقصان شاید اتنی بڑی بات نہیں، لیکن یہ ضرور ہے ان حملوں کے باعث ایک مستحکم اور محفوظ ملک کے طور پر سعودی عرب کی بین الاقوامی ساکھ کو دھچکا پہنچ رہا ہے۔

ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حالیہ میزائل حملے اور اُس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اور بظاہر سعودی عرب اِن غیر متوقع اور غیرمعمولی حملوں کے لیے تیار نہیں تھا۔
سعودی دارالحکومت ریاض کے مرکزی ایئرپورٹ پر ایک کے بعد ایک ہونے والے حملوں میں مختلف قومیتوں کے کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
یمن کے حوثیوں نے دنیا بھر کی ایئرلائنز اور مسافروں کو سعودی ایئرپورٹس سے دور رہنے کا انتباہ جاری کیا ہے، جس کے بعد خطے میں شہری فضائی سفر کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں نے سعودی سرزمین پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، تاہم گذشتہ چند روز میں حوثیوںکے حملوں کا ہدف سعودی عرب میں نہایت اہم بنیادی اور شہری ڈھانچہ بنا ہے۔
دارالحکومت ریاض کے مرکزی ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں سے بظاہر یہ تاثر ملا ہے کہ حوثی سعودی فضائی دفاعی نظام کو نسبتاً آسانی سے عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
حملے سے ہونے والے انفراسٹرکچر کا نقصان شاید اتنی بڑی بات نہیں، لیکن یہ ضرور ہے ان حملوں کے باعث ایک مستحکم اور محفوظ ملک کے طور پر سعودی عرب کی بین الاقوامی ساکھ کو دھچکا پہنچ رہا ہے۔
ہوائی اڈوں پر حملوں کے علاوہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے اطراف میں اہم سٹریٹجک مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اس کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ میں محفوظ جہاز رانی کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ ہوا ہے، اگرچہ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے باب المندب کو ’محفوظ‘ بنا دیا ہے۔
یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان خانہ جنگی ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ اس تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہو گیا ہے۔
یہ ایک پیچیدہ اور اکثر الجھا دینے والا جغرافیائی سیاسی تنازع ہے، اور حالیہ کشیدگی کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
10 اکتوبر کو شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، جس میں مسافروں کے ٹرمینل میں دھواں اٹھتے اور مسافروں میں افراتفری کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہےسنہ 2000 کی دہائی کے وسط میں القاعدہ کی شورش کے بعد پہلی بار سعودی عرب کو اس نوعیت کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔
سعودی حکومت نے اُس وقت عوامی حمایت حاصل کرنے کی مؤثر حکمت عملی کے ذریعے القاعدہ سے درپیش چیلنج پر قابو پایا تھا۔ بعد ازاں اس نے عرب دنیا میں آنے والی ’عرب سپرنگ‘ کی تحریکوں کا بھی مقابلہ کیا، جن کے نتیجے میں تیونس، لیبیا، مصر اور یمن کے حکمران اقتدار سے محروم کر دیے گئے تھے۔
مارچ 2026 میں ریاض پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کو بھی سعودی عرب نے کسی حد تک ناراضی کے باوجود برداشت کر لیا تھا۔
تاہم موجودہ صورتحال مختلف ہے۔ سعودی عرب کے پاس مشرق وسطیٰ کی طاقتور ترین فضائیہ میں سے ایک موجود ہے اور وہ حوثی ٹھکانوں پر تباہ کن فضائی حملے بھی کر رہا ہے۔ اس کے باوجود یمن میں مخالف قوتیں (حوثی) ملک کے شمالی اور مغربی حصوں سمیت وسیع علاقوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب رہی ہیں۔
تاہم حوثیوں کو بخوبی معلوم ہے کہ سعودی عرب کو کہاں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے: یعنی سعودی معیشت کے حساس ترین حصوں کو نشانہ بنا کر۔
’محورِ مزاحمت‘ کا حصہ ہونے کے ناطے حوثی ایران کے لیے ایک اہم سٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر جیزان سے لے کر خریص کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس تک، حوثی دھماکا خیز ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے انتہائی درستگی سے حملے کر رہے ہیں۔
بحیرہ احمر کا بحری تجارتی راستہ اب مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ خلیج کے دوسری جانب واقع آبنائے ہرمز امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔
بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانا بھی حوثیوں کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔ ان حملوں سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، جو تہران کے لیے ایک اہم سفارتی اور سیاسی ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔
ستمبر کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ وہ یمن کے تنازع میں براہ راست مداخلت نہیں کرے گا، تاہم سعودی عرب کو انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ بعد میں امریکہ نے تصدیق کی کہ وہ انٹیلیجنس معلومات فراہم کر رہا ہے اور اس نے سعودی عرب میں فوجی ماہرین بھی تعینات کیے ہیں۔
تاہم ریاض پر حالیہ حملے، جس میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا، کے بعد صورتحال نے ممکنہ طور پر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیچر کے روز ہونے والے حملے کو 'خوفناک' قرار دیا اور اشارہ دیا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی مداخلت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں حالیہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے، اس لیے ہم فیصلہ کریں گے۔ ہم بہت تیزی سے اقدامات کرتے ہیں۔‘
تاہم کم از کم اگلے ماہ ہونے والے اہم امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایسے کسی اقدام کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
سنہ2024میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں جنگوں میں امریکہ کے کردار کا خاتمہ کریں گے۔ اس کے باوجود امریکہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق تین غیر حل شدہ تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔
اگر ٹرمپ ایک اور تنازع، اس بار یمن میں، میں شامل ہوتے ہیں تو امکان ہے کہ امریکی ووٹرز اس اقدام کو پسند نہیں کریں گے۔
اب یہ جنگ اس تاثر کو مضبوط کرتی دکھائی دے رہی ہے کہ کسی غیر مستحکم جنگ بندی تک پہنچنے سے پہلے اس میں مزید شدت آئے گی، خواہ امریکہ اس میں شامل ہو یا نہ ہو۔
اضافی تجزیہ: عبدالبصیر حسن، بی بی سی عربی