وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے نومبر تک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتظامات کر لیے ہیں تاہم سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے باعث ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بنکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان نے فوری معاشی دباؤ کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایندھن کی قلت پیدا نہیں ہوئی، نہ ہی پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں اور نہ ہی امن و امان کی کوئی غیر معمولی صورتحال سامنے آئی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سردیوں کے موسم کے لیے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فی الحال ہنگامی ضرورت پیش آنے تک مہنگے اسپاٹ نرخوں پر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو خطے میں حالات معمول پر آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے چاہے جنگ کی شدت میں کمی ہی کیوں نہ آ جائے۔
ان کے مطابق توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے تسلسل سے عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کے تقریباً 7 ارب ڈالر کے تین سالہ قرض پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق رواں ماہ آئی ایم ایف نے اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔