آئی فون 17 اور 20 کلو بریانی سمیت دیگر ’تحائف‘: سینکڑوں پارسل جو ایک خاندان کے لیے دردِ سر بن گئے

مدورائی کے اس انفلوئنسر کو گزشتہ چند دنوں سے’ایمازون‘، ’سوِگی‘ اور دیگر آن لائن ایپس کے ذریعے مسلسل پارسل موصول ہو رہے ہیں۔ ان میں کھانا، ٹی وی، فریج، آئی فون اور یہاں تک کہ 20 کلو بریانی بھی شامل ہے۔
شنموگناتھن ویرامانی اپنے گھر پہنچنے والے پارسل کو دکھا رہے ہیں
Shanmuganathan Veeramani/ Instagram
شنموگناتھن ویرامانی اپنے گھر پہنچنے والے پارسل کو دکھا رہے ہیں

’روزانہ کم از کم 30 سے 40 کیش آن ڈیلیوری پارسل موصول ہو رہے ہیں۔ گھر کے مالک اور پڑوسی سب ناراض ہیں۔ اب ہمیں یہ گھر چھوڑنا پڑے گا۔ براہِ کرم اپنی ذاتی معلومات عوامی طور پر شیئر نہ کریں۔‘

یہ مشورے دینے والی سمنگلی ویرامنی ہیں۔ وہ جنوبی انڈیا کے شہر مدورائی کے سوشل میڈیا انفلوئنسر شنموگناتھن ویرامنی کی اہلیہ ہیں۔

کیونکہ ان کے شوہر کو گذشتہ چند دنوں سے’ایمازون‘، ’سوِگی‘ اور دیگر آن لائن ایپس کے ذریعے مسلسل پارسل موصول ہو رہے ہیں۔ ان میں کھانا، ٹی وی، فریج، آئی فون اور یہاں تک کہ 20 کلو بریانی بھی شامل ہے۔

یہ تمام پارسل اب ان کے خاندان کے لیے پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں ’کیش آن ڈیلیوری‘ (سی او ڈی) طریقۂ کار کے تحت بھیجی جا رہی ہیں۔ یعنی یہ اشیا وصول کرنے کے لیے ویرامنی خاندان کو رقم ادا کرنا ہوگی۔

اور اگر وہ پارسل میں موجود سامان کی مقررہ قیمت ادا نہیں کر سکتے تو انھیں وہ پارسل واپس بھیجنا ہوگا۔

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

کسی شخص نے اس انفلوئنسر کا نام اور فون نمبر گردے عطیہ کرنے والوں کی فہرست میں بھی درج کر دیا ہے۔

آخرکار ویرامنی کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کرنا پڑی اور لوگوں سے درخواست کی کہ انھیں کوئی چیز نہ بھیجیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ڈیلیوری کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی گھنٹی بجاتا رہتا ہے۔ اب دروازہ کھولنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم انہیں بتائیں کہ ہم نے کوئی آرڈر نہیں دیا، تو بھی کئی لوگ ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوتے۔‘

سمنگلی ویرامنی نے کہا، ’اسی وجہ سے میرے شوہر شہر چھوڑ چکے ہیں۔ اس کا اثر ہماری آمدنی پر بھی پڑا ہے۔‘

سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گھر کے پتے اور فون نمبر جیسی ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔

مسٹر بھیرامانی سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں۔
Shanmuganathan Veeramani/ Instagram
مسٹر بھیرامانی سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں

یہ معاملہ کیسے شروع ہوا؟

تمل ناڈو کے رہائشی شنموگناتھن ویرامنی باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں۔

انسٹاگرام پر ان کے لاکھوں فالوورز ہیں۔

گذشتہ ماہ پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے اپنا فون نمبر شیئر کیا تھا۔ دراصل اس انفلوئنسر نے کیرالا کے سفر کے لیے سوشل میڈیا پر اپنے فالوورز سے مالی مدد کی درخواست کی تھی۔

بعد میں ایک اور ویڈیو میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس طریقے سے انھیں چھ ہزار روپے بھی موصول ہوئے تھے۔

لیکن معاملہ جلد ہی دوسری سمت مڑ گیا۔

ایک فالوور نے انھیں تحفہ بھیجنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے ان کا پتہ مانگا۔ اس پر مسٹر ویرامنی نے سوشل میڈیا پر اپنے گھر کا پتہ بھی شیئر کر دیا۔

ان کی اہلیہ نے بی بی سی تمل کو بتایا: ’اسی دن سے ہمارے گھر مختلف قسم کی اشیا آنا شروع ہو گئیں۔ لیکن چونکہ سب کچھ کیش آن ڈیلیوری پر تھا، اس لیے ہم مشکل میں پڑ گئے۔‘

’لوگ لاکھوں روپے مالیت کی اشیا بھیج رہے ہیں۔ ان میں آئی فون 17، ٹیلی ویژن، فریج، واشنگ مشین، فرنیچر، کپڑے اور یہاں تک کہ روزمرہ استعمال کی اشیا بھی شامل ہیں۔ چند روز قبل کسی نے کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے 20 کلو بریانی بھی بھیجی تھی۔‘

ان غیر متوقع ’تحفوں‘ سے پریشان ہو کر اس انفلوئنسر نے آخرکار سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی اور لوگوں سے اشیا نہ بھیجنے کی درخواست کی۔

انسٹاگرام پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’مجھے مسلسل پارسل موصول ہو رہے ہیں۔ ڈیلیوری ایجنٹس کو سمجھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ براہِ کرم میرے نام پر کوئی چیز نہ بھیجیں۔‘

بعد میں ایک اور ویڈیو میں انھوں نے کہا: ’لوگ مسلسل میرے گھر کیش آن ڈیلیوری پر اشیا بھیج رہے ہیں۔ ایک شخص نے گردہ عطیہ کرنے کے لیے بھی میرا فون نمبر دے دیا ہے۔‘

’میں کسی اور جگہ منتقل ہو رہا ہوں۔ براہِ کرم میرے نام پر کوئی سامان نہ بھیجیں۔‘

مسٹر بھیرامانی کو اپنے گھر پہنچنے والے پارسلوں میں مسئلہ ہے۔
Shanmuganathan Veeramani/ Instagram
مسٹر بھیرامانی کو اپنے گھر پہنچنے والے پارسلوں میں مسئلہ ہے

100 سے زیادہ پارسل باقی ہیں

تاہم سمنگلی ویرامنی کے مطابق اس اپیل کا زیادہ فائدہ نہیں ہوا، اور اب بھی اسی طرح ان کے گھر پارسل آ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میرے شوہر اب تک مدورائی واپس نہیں آئے۔ وہ گھر آنے سے بھی ڈر رہے ہیں۔ ڈیلیوری ایجنٹس مجھ سے او ٹی پی مانگتے ہیں۔ انھیں بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ اشیا کس نے بھیجی ہیں۔‘

’کچھ لوگ ہماری بات سمجھ لیتے ہیں، جبکہ بعض ناراض ہو کر بحث کرنے لگتے ہیں۔ اسی لیے اب مجھے بھی گھر سے باہر نکلنے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔‘

سمنگلی ویرامنی نے بتایا کہ ان کے شوہر پہلے مدورائی کی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے، لیکن اب وہ بے روزگار ہیں۔

انھوں نے کہا: ’وہ اب بے روزگار ہیں۔ وہ انسٹاگرام پر باقاعدگی سے ویڈیوز پوسٹ کرتے تھے، لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ گھر کے مالک اور پڑوسی کافی پریشان ہیں۔ ہم جلد ہی یہ گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔‘

ایک نجی کوریئر کمپنی کے ملازم ارون (نام تبدیل کیا گیا ہے) نے بتایا کہ مسٹر ویرامنی کے نام پر 100 سے زیادہ پارسل اب بھی موجود ہیں جو ابھی تک پہنچائے نہیں جا سکے۔

ارون نے کہا: ’جب کیش آن ڈیلیوری آرڈر واپس چلا جاتا ہے تو اس کا اثر ہمارے کام پر بھی پڑتا ہے۔ اس میں وقت، محنت اور ایندھن سب ضائع ہوتا ہے۔ اگر ہمیں ایک ہی پتے پر روزانہ 30 سے 40 پارسل پہنچانے پڑیں تو بہت سے ملازمین وہاں جانے سے ہی گریز کرنے لگتے ہیں۔‘

ماہرین نے سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات افشا کرنے کے خلاف خبردار کیا - علامتی تصویر
Getty Images
ماہرین نے سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات افشا کرنے کے خلاف خبردار کیا

مشہور ہونے کے لیے اٹھائے گئے غلط اقدامات

ہم نے اس بارے میں سائبر سکیورٹی کے ماہر اور وکیل مسٹر بالو سے بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کی خواہش میں لوگ اکثر بغیر سوچے سمجھے ایسے کام کر بیٹھتے ہیں۔ آج کی آن لائن دنیا میں ہم غیر ارادی طور پر جو معمولی سی معلومات بھی شیئر کر دیتے ہیں، وہ بڑے جرائم کا سبب بن سکتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہاکہ ’معلومات کی رازداری کیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں، اس بارے میں عوامی آگاہی کی کمی ہی ایسے واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔‘

’بار بار لاکھوں روپے مالیت کی اشیا کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے بھیجنا ایک قسم کی ذہنی ہراسانی ہے۔ اس کے خلاف پولیس میں باضابطہ شکایت درج کروائی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کے آرڈرز مکمل طور پر رک جائیں گے، لیکن یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ انہیں بھیجنے والے کون ہیں۔‘

آن لائن معلومات کی جانچ کرنے والے ماہر مرلی کرشنن چِنّا دورائی نے کہا: ’اس طرح اپنے گھر کا پتہ اور فون نمبر عام کرنے سے مالی دھوکہ دہی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں، ان معلومات کی بنیاد پر جعلی شناختی دستاویزات بھی بنائی جا سکتی ہیں۔‘

’ہم کس کے ساتھ کون سی معلومات شیئر کر رہے ہیں، یہ بہت اہم ہے۔ یہ بھی جانچنا چاہیے کہ ان معلومات کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ ذاتی معلومات شیئر کرنے سے مختلف قسم کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اس بات میں احتیاط کرے کہ کیا کہنا یا شیئر کرنا ہے اور کیا نہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US