ترکی کی وزارتِ قومی دفاع کی جانب سے حالیہ بیان میں سعودی عرب کی مدد کے طریقۂ کار سے متعلق قانونی اور عسکری روڈ میپ کے اشارے دیے گئے۔ جمہوریہ ترکی کے آئین کا آرٹیکل 92 اس بات کو ریکارڈ پر لاتا ہے کہ ترکی کی فوج کو بیرونِ ملک بھیجنے یا غیر ملکی افواج کو ترکی میں تعینات کرنے کا اختیار ترکی کی پارلیمان کے پاس ہے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کی مدد کے لیے ترکی کی جانب سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت دی جانے والی ممکنہ عسکری حمایت کے آپشنز کا تعین ترکیہ کی گرینڈ قومی اسمبلی کی منظوری اور آئینی عمل مکمل ہونے کے بعد زمینی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔
اس تناظر میں انقرہ کی ترجیحات پہلے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پارلیمان سے منظور کروانا اور اس کے بعد بیرونِ ملک فوج بھیجنے کی اجازت سے متعلق قرارداد کو دوبارہ پارلیمان کی منظوری کے لیے پیش کرنا ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کی ضروریات اور مطالبات کے مطابق دی جانے والی حمایت کے دائرہ کار کا تعین کرنے کا منصوبہ ہے۔
نمایاں آپشن سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے فضائی دفاع اور دیگر عسکری لاجسٹک صلاحیتوں کو فعال کرنا ہے۔
سعودی عرب کی عسکری حمایت
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپوں میں خصوصاً گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔
ان جھڑپوں میں سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ہوائی اڈوں کے ساتھ ساتھ بعض مقدس مقامات بھی نشانہ بنے ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں پر ترکیہ اور پاکستان سمیت متعدد ممالک نے ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے، ’دونوں ممالک کے سعودی عرب کو عسکری حمایت فراہم کرنے‘ کے فیصلے سے متعلق ایک سوال پر کہا: ’میرا خیال ہے کہ وہ سعودی عرب کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور یہ اچھی بات ہے۔‘
ترکی نے خاص طور پر مکہ اتحاد کے تحت سعودی عرب کو عسکری حمایت فراہم کرنے کے معاملے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔
صدر رجب طیب اردوغان اور وزیر خارجہ حقان فیدان نے اپنے بیانات کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اس حمایت کی فراہمی کے حوالے سے انقرہ میں مضبوط سیاسی عزم موجود ہے۔
اردوغان نے 13 اکتوبر کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
سعودی عرب کو ممکنہ حمایت سے متعلق عمل وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔
پہلے قانونی عمل مکمل ہو گا
جمعرات کو وزارتِ قومی دفاع کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب کی مدد کے طریقۂ کار سے متعلق قانونی اور عسکری روڈ میپ کے اشارے دیے گئے۔
وزارت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو ترکیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی ممکنہ عسکری قوت اور صلاحیتوں سے متعلق عمل آئینی دفعات کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔
اس کے لیے پہلے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی ترکی پارلیمان سے منظوری اور پھر ترک مسلح افواج کی بیرونِ ملک تعیناتی سے متعلق قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔
جمہوریہ ترکی کے آئین کا آرٹیکل 92 اس بات کو ریکارڈ پر لاتا ہے کہ ترکی کی فوج کو بیرونِ ملک بھیجنے یا غیر ملکی افواج کو ترکی میں تعینات کرنے کا اختیار ترکی کی پارلیمان کے پاس ہے۔
صدر اردوغان نے بھی 12 اکتوبر کو کہا تھا کہ معاہدہ آنے والے دنوں میں پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔
معاہدے اور قرارداد کی پارلیمان سے منظوری کے لیے سادہ اکثریت کافی ہے۔
قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد عسکری حمایت کا تعین کیسے ہو گا، اس بارے میں وزارتِ قومی دفاع نے کہا:
’ممکنہ تعاون کے دائرہ کار سے متعلق اصولوں کا تعین سعودی عرب کی ضروریات اور مطالبات، زمینی پیش رفت اور آپریشنل ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمارے متعلقہ اداروں کے جائزوں اور فریقین کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کے مطابق کیا جائے گا۔‘
حوثیوں کے ساتھ براہِ راست تصادم متوقع نہیں
انقرہ میں ہونے والے جائزوں کے مطابق، سعودی عرب کو تعاون فراہم کرتے ہوئے ترکی بنیادی طور پر سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت میں اضافے پر توجہ دے گا۔ خاص طور پر فضائی دفاع، لاجسٹک اور انٹیلیجنس معاونت کو ترجیح حاصل ہوگی۔
وزیر خارجہ حقان فیدان کا آٹھ اکتوبر کا بیان اس حوالے سے انقرہ کے مؤقف کی اہم عکاسی کرتا ہے۔
فیدان نے کہا تھا: ’مکہ معاہدہ ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ یہ حملے کا معاہدہ نہیں۔ جب معاہدے کا کوئی فریق حملے کا شکار ہوتا ہے تو آپ اس کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر فوج بھیج کر وہاں کوئی حملہ نہیں کرے گا۔‘
ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے لیے مکہ اتحاد میں مشترکہ دفاع اور دشمن کو حملے سے روکنے کی صلاحیت اہم ترجیحات ہیں۔
تاہم تینوں ممالک کے درمیان معاہدہ، نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرح، یہ اصول بھی شامل کرتا ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مکہ اتحاد کا سب سے اہم فیصلہ سازی کا نظام سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SSSK) ہے۔
اس کمیٹی نے پانچ اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کو فوری عسکری حمایت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم اتحاد کے بہت نیا ہونے اور اس کے ادارہ جاتی عمل کے ابھی مکمل نہ ہونے کے سبب عسکری حمایت سے متعلق اقدامات میں وقت لگنے کی بات کہی جا رہی ہے۔
اگلے سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی اجلاس تک فریقین کی جانب سے عسکری حمایت کے لیے مشاورت کو مزید پختہ بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
زمینی پیش رفت انقرہ کے تعاون کو متاثر کر سکتی ہے
سعودی عرب اور یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھنے والے حوثیوں کے درمیان جھڑپیں 2014 سے وقفے وقفے سے جاری ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے خصوصاً امریکہ/اسرائیل۔ایران جنگ کے تناظر میں باب المندب آبنائے سے ٹینکروں کی آمدورفت محدود کرنے کی کوششوں نے سعودی۔حوثی تنازع کے بین الاقوامی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔
امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ واشنگٹن، ریاض کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل بھی اس عمل میں انٹیلیجنس اور عسکری معاونت جیسے آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
وزارتِ قومی دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ تعاون کے دائرہ کار کے تعین میں ’زمینی پیش رفت‘ کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔
ترکی اپنی عسکری شراکت سے متعلق حتمی جائزہ ان تمام آپشنز کو سامنے رکھتے ہوئے کر سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ مکالمہ بھی جاری
اس عمل میں ترکی ایک اور اہم توازن کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے، یعنی انقرہ اور تہران کے تعلقات میں ممکنہ کشیدگی سے گریز۔
صدر اردوغان نے 12 اکتوبر کو کہا تھا: ’ترکی کا مؤقف، حساسیت اور وہ اصول جن کا ہم دفاع کرتے ہیں، سب واضح ہیں۔ ہم کبھی بھی واقعات کو نسلی یا فرقہ وارانہ زاویے سے نہیں دیکھتے۔‘
اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پورے خطے میں امن اور استحکام غالب ہو۔ آئندہ بھی ہم علاقائی ذمہ داری کی بنیاد پر امن کا دفاع کرتے رہیں گے اور امن کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔‘
وزیرِ خارجہ فیدان نے 13 اکتوبر کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے درکار اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں ممالک کے حکام کے درمیان علاقائی پیش رفت سے متعلق بات چیت آنے والے عرصے میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔