ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ویکسین کی خریداری میں مبینہ اربوں روپے کے فراڈ کیس میں گرفتار تین ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بی ایچ ایس پی کے ڈائریکٹر محمد عابد حسین شاہ، پردیپ کمار اور ڈاکٹر سید غلام مرتضیٰ شاہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں پیش کیا۔ ایف آئی اے نے ملزمان سے تفتیش اور شواہد کی برآمدگی کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے 7 روزہ ریمانڈ منظور کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر مینینگوکوکل اور انفلوئنزا ویکسین کی خریداری کے پانچ سالہ معاہدے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور من پسند کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے الزامات ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر مارکیٹ سروے اور مختلف بولیوں کا تقابلی جائزہ لیے بغیر واحد بولی دہندہ کمپنی ’میڈیسنز فارما کنیکٹ‘ کو ٹھیکہ دیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں اصل خریداری کا ریکارڈ، سرکاری خط و کتابت اور دیگر متعلقہ شواہد برآمد کرنے کے علاوہ مبینہ سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے ملزمان سے مزید تفتیش ضروری ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد تینوں ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مدت مکمل ہونے پر دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ ملزمان پر ویکسین کی خریداری کے معاہدے میں مبینہ غبن، مالی بے ضابطگیوں اور قومی خزانے پر تقریباً 2.445 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کے الزامات ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔