سینیٹ کی قواعد و ضوابط اور استحقاق کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت ہوا، جس میں مختلف تحریکاتِ استحقاق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلہ جات سامنے آئے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم کی عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی) کے معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی جائے۔
سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور دیگر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات، انکوائری کے طریقہ کار اور موصول ہونے والے الزامات کے مدنظر، ذیلی کمیٹی کا کنوینر سینیٹر پلواشہ محمد زئی خان کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ سینیٹر دوست علی جیسار اور سینیٹر جان محمد اس کے ارکان ہوں گے۔
کمیٹی تمام 13 متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے طلب کرے گی۔ علاوه ازیں، یونیورسٹی سینیٹ کے ان ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی جو زوم کے ذریعے بلائے جانے کے باوجود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے حوالے سے سینیٹر پلواشہ محمد زئی خان کی تحریکِ استحقاق پر بھی غور کیا گیا۔ اسپتال میں طبی سہولیات، آلات کی عدم دستیابی اور مریضوں کی دیکھ بھال میں غفلت پر کمیٹی نے شدید تشویش ظاہر کی۔ چیئرمین کمیٹی نے اسپتال کا سرپرائز وزٹ کرنے کی ہدایت جاری کی، تاہم پمز انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی معذرت قبول کرلی گئی۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران مبینہ نامناسب رویے اور اجلاس میں عدم شرکت پر بھی ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ وزارت کی طرف سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا، جس پر دوبارہ خط ارسال کرتے ہوئے معاملے کو جواب آنے تک کے لیے مؤخر کردیا گیا۔
اسی طرح سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ پر ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے اہلکاروں کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ اور عام مسافروں کے ساتھ نامناسب رویے سے متعلق تحریکِ استحقاق کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعلقہ اہلکار کا تبادلہ کر دیا گیا ہے، تاہم کمیٹی نے واضح کیا کہ مسافروں کے ساتھ شائستہ اور قانونی دائرے میں برتاؤ ضروری ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ افسران اور اہلکار کو آئندہ اجلاس میں ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے اے ایس ایف کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔