ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے واقعے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے خلاف کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مطابق یتیم خانے میں زیرِ کفالت 106 بچوں کو ان کے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ 16 بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر کے یتیم خانے کی دونوں عمارتیں خالی کروالی گئی ہیں۔
بیورو کا کہنا ہے کہ یتیم خانے کی رجسٹریشن کی درخواست پہلے ہی مسترد کی جاچکی تھی، جبکہ اسے چلانے والی این جی او کی رجسٹریشن بھی منسوخ کردی گئی ہے اور گورننگ باڈی کے گرفتار سیکریٹری جنرل کو مقامی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ مقتول بچہ وسیم عباس ملزم کے غیر انسانی رویے سے تنگ آ کر وہاں کام نہیں کرنا چاہتا تھا، جس پر ملزم نے اسے گاڑی سے کچل دیا تھا۔
ہلاک ملزم کو پہلے جوڈیشل مجسٹریٹ نے 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، جہاں عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء نے اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا، جبکہ اس واقعے کے بعد یتیم خانوں میں مقیم بچوں کی حفاظت سے متعلق بھی شدید سوالات اٹھ رہے تھے۔