سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (AMUOBA) کے انتخابی تنازع کے دوران یونیورسٹی کے مالیاتی اکاؤنٹس سے قانونی اخراجات کی مد میں مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد کے چیکس جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر مالیاتی شفافیت اور اخراجات کے قانونی جواز سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دستیاب مالیاتی ریکارڈ کے مطابق 11 فروری 2026 کو ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم پر سندھ ہائیکورٹ سے عارضی حکمِ معطلی حاصل کیے جانے کے روز یونیورسٹی کے اکاؤنٹس سے 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے مختلف چیکس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ 25 فروری 2026 کو قانونی اخراجات کی مد میں مزید 35 لاکھ روپے کا چیک جاری کیے جانے کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔
ممبران اور سینئر علیگ کی جانب سے اس معاملے پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (AMUOBA) کے انتخابی تنازع اور اس سے متعلق قانونی کارروائیوں کے اخراجات سرسید یونیورسٹی کے فنڈز سے کس قانون، ضابطے یا انتظامی اختیار کے تحت ادا کیے گئے؟ ان ادائیگیوں کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی، اس بارے میں بھی وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سینئر علیگ ممبران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ ادائیگیوں کے علاوہ بھی کئی کروڑ روپے مالیت کے مزید چیکس جاری کیے گئے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کی فیسوں کی مد میں جمع ہونے والے تعلیمی فنڈز کو کسی ایسوسی ایشن کے انتخابات یا ذاتی نوعیت کے قانونی مقدمات کے اخراجات کے لیے استعمال کرنا مالیاتی ضوابط اور اختیارات کے استعمال کے حوالے سے سنگین معاملہ ہے۔
ممبران نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ یونیورسٹی کے فنڈز سے ہونے والی ان ادائیگیوں کی منظوری کس سطح پر اور کس اختیار کے تحت دی گئی۔
سینئر علیگ ممبران نے اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے مالیاتی معاملات کا فورنزک آڈٹ کرایا جائے، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ یونیورسٹی کے فنڈز کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوئے اور اگر کسی سطح پر مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ سامنے آئے تو ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔