مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایران کے جوہری منصوبے پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران ایسے ہتھیار تیار کر رہا ہے جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کا انتظار کیے بغیر بھی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق امریکی صدر نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ایران کے معاملے کو فیصلہ کن انجام تک پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا کہ واشنگٹن نے رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے خلاف اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائی رکوا دی تھی۔
اس سے قبل میڈیا میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی فوج 10 اور 11 اکتوبر کو ایران میں کارروائی کی منصوبہ بندی کر چکی تھی، لیکن مبینہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی نئے تصادم سے بچنے کے لیے اسے مؤخر کرنے کا کہا تھا۔
ان بیانات کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے جوہری بم تیار کرنے یا اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں اسرائیلی وزیراعظم کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔