فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے شہریوں اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ 31 اکتوبر کے بعد تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے، جبکہ لیٹ فائلر کی کیٹیگری ختم کرنے کی بھی تیاری ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ یکم نومبر سے گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو لیٹ فائلر کے بجائے نان فائلر تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں کو زیادہ مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق انفرادی ٹیکس دہندگان کی جانب سے مقررہ وقت پر گوشوارہ جمع نہ کرانے پر جرمانہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے تک کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے جرمانہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے، جبکہ کمپنیوں کے لیے 20 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے مقرر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب تاجروں کو بھی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رجسٹریشن کے لیے 31 اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔ مقررہ تاریخ تک رجسٹریشن اور ٹیکس سے متعلق تقاضے پورے نہ کرنے والوں کو بھی کارروائی اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آسان ٹیکس اسکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق پہلے ماہ تاخیر پر 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور گوشوارے جمع کرانے کے عمل میں بہتری لانا ہے۔