سرگودھا میں سکول ٹیچر پر بچوں کے مبینہ ریپ کا الزام: ’میرے نواسے کو ویڈیوز وائرل کرنے اور سکول سے نکالنے کی دھمکی دی‘

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے وہ موبائل برآمد کر لیے گئے ہیں جن میں کم عمر طلبا کے مبینہ ریپ کی ویڈیوز موجود تھیں۔
children
Getty Images
بچہ سکول سے بھاگ کر گھر آ گیا اور زاروقطار رونے لگا (علامتی تصویر)

پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے سرگودھا شہرمیں ایک سرکاری سکول میں زیر تعلیم کم عمر بچوں کے مبینہ ریپ اور بعدازاں ویڈیوز کی بنیاد پر طلبا کو بلیک میل کرنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سرکاری سکول میں بچوں کو انگلش کی تعلیم دینے والا ٹیچر بھی شامل ہے جسے والدین نے مرکزی ملزم نامزد کیا ہے۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے وہ موبائل برآمد کر لیے گئے ہیں جن میں کم عمر طلبا کے مبینہ ریپ کی ویڈیوز موجود تھیں۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ تین متاثرہ بچوں کے ابتدائی طبی معائنے کی رپورٹس پازیٹیو آئی ہیں جبکہ ڈی این اے رپورٹس کا انتظار ہے۔

انھوں نے کہا کہ تفتیشی حکام اس پہلو پر بھی تفتیش کر رہی ہیں کہ ملزمان کا تعلق کسی ایسے بین الاقوامی گینگ سے تو نہیں، جو بچوں کی پورنوگرافی کے دھندے میں ملوث ہیں۔

کمسن بچوں کے مبینہ ریپ کا یہ معاملہ اُس وقت منظر عام پر آیا تھا جبچھٹی جماعت کا ایک 11 سالہ بچہ مبینہ ریپ کا نشانہ بننے کے بعد اتنا خوفزدہ ہوا کہ وہ سکول سے بھاگ کر گھر آ گیا، خود کو کمرے میں بند کر لیا اور زاور قطار رونا شروع کر دیا۔

اس واقعے کی ایف آئی آر بچے کے نانا کی مدعیت میں درج کی گئی ہے کیونکہ 11 سالہ بچے کے والد وفات پا چکے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق بچے کے نانا نے الزام عائد کیا کہ 21 اکتوبر کو سکول میں انگلش کے ٹیچر اُن کے نواسے کو بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گئے جہاں دو لڑکے، جن کی عمریں 12 اور 15 سال بتائی گئی ہیں، پہلے سے موجود تھے۔

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’میرا نواسہ اُن کو دیکھ کر پریشان ہو گیا، جس پر استاد نے اسے دھمکایا اور شلوار اتارنے پر مجبور کرتے ہوئے سکول سے خارج کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ میرے نواسے کے انکار پر استاد نے خود زبردستی یہ کام کیا اور ساتھ کھڑے دونوں طلبا سے باری باری میرے نواسے کا ریپ کرنے کا کہا۔‘

نانا نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد دونوں کم عمر طلبا نے باری باری اُن کے نواسے کا مبینہ ریپ کیا اور اس دوران ٹیچر مبینہ طور پر اپنے موبائل پر ویڈیو بناتا رہا۔

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 21 اکتوبر کو پیش آئے اس اجتماعی ریپ کے واقعے کے اگلے روز جب اُن کا نواسہ دوبارہ سکول گیا تو ٹیچر نے بریک کے دوران اسے دوبارہ اپنے گھر لے جانے کا کہا اور دھمکی دی کہ اگر بات نہ مانی تو وہ ویڈیوز وائرل کر دے گا اور سکول سے بھی نکال دے گا۔

ایف آئی آر کے مطابق ’میرا نواسہ اس پر بہت خوفزدہ ہوا اور اپنا بیگ سکول میں ہی چھوڑ کر گھر بھاگ آیا، جس پر ٹیچر نے دو بچوں کو بھیج کر میرے نواسے کو دوبارہ سکول بلوایا، مگر میرے نواسہ کمرے میں چھپ گیا اور زارو قطار روتا رہا۔ گذشتہ روز کی وجہ سے ڈرا ہوا ہونے کی وجہ سے اس نے ابتدا میں کسی کو بھی کچھ نہ بتایا۔ پھر میری بیٹی (بچے کی والدہ) نے مجھے اپنے گھر بلایا۔‘

نانا کے مطابق وہ اپنی بیٹی کے گھر پہنچے اور اپنے نواسے سے بات کی تو اُس نے گذشتہ روز پیش آئے واقعے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ نانا نے پولیس سے درخواست کی ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے۔

نانا نے الزام عائد کیا کہ جب انھوں نے دیگر بچوں کے والدین سے رابطہ کیا تو دو مزید بچوں نے ریپ اور ویڈیوز بنانے کا دعویٰ کیا۔

اسی ٹیچر کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات کے تحت ایک 13 سالہ طالبعلم کے والد نے بھی مقامی پولیس میں 26 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کروائی ہے۔

والد نے مقامی پولیس کو بتایا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں اور اُن کا بیٹا سرکاری سکول میں نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ والد کے مطابق ابتدائی بچے کا کیس سامنے آنے کے بعد علاقہ مکینوں سے پتا چلا کہ میرا بیٹا بھی متاثرہ ہے اور جب انھوں نے اپنے بیٹے سے دریافت کیا تو اس نے زاروقطار روتے ہوئے بتایا کہ ٹیچر اس کا بھی متعدد مرتبہ ریپ کر چکا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق والد نے الزام عائد کیا کہ اُن کے بیٹے نے بتایا کہ مذکورہ ٹیچر آخری مرتبہ 15 اکتوبر کو اپنے گھر لے گیا اور مبینہ ریپ کا نشانہ بنایا اور ویڈیو کی بنیاد پر اسے بلیک میل بھی کیا۔

Sargodha
Getty Images
ٹیچر کے خلاف تین ایف آئی آرز والدین کی درخواستوں پر جمع کروائی گئی ہیں (علامتی تصویر)

’پہلے میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنا چاہتا تھا‘

چھٹی کلاس کے 11 سالہ بچے کے نانا نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ بچے کے والد دو سال پہلے وفات پا گئے تھے جس کے بعد وہی ان کی کفالت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب اُن کے نواسے نے انھیں پوری بات بتائی تو ابتدا میں بدنامی کے ڈر سے وہ اس معاملے میں خاموشی اختیار کرنا چاہتے تھے، ’لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ اگر میں خاموش رہا گیا تو ملزم مزید کمسن بچوں کو بھی ریپ کا نشانہ بنائے گا۔‘

نانا کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھوں نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا اور مقدمہ درج کروایا۔

مقامی تھانے کے پولیس افسر محمد الیاس کے مطابق اس ابتدائی مقدمے کے اندراج کے بعد متعدد کم عمر طالبعلموں کے والدین نے پولیس سے رابطہ کیا اور انھوں نے بھی ملزم ٹیچر پر مبینہ طور پر اس نوعیت کے الزامات عائد کیے۔

انھوں نے کہا کہ اب تک ایسے واقعات سے متعلق تین مقدمات درج ہو چکے ہیں اور ان مقدمات میں ٹیچر اور دو کمسن لڑکوں کو ہی بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقدمات کے اندراج کے بعد اِن مقدمات کی تفتیش سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے۔

دوسریجانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن سرگودھا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے بچوں کے مبینہ ریپ اور ویڈیوز بنانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد ملزم ٹیچر کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سکول کے ہیڈ ماسٹر کو بھی مبینہ غفلت اور انتظامی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US