پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاہم وفاقی حکومت شہر کے مسائل میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ وفاقی اور صوبائی ادارے باہمی تعاون سے کام کریں تو شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
لیاری میں آئی اسپنسر اسپتال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے کراچی کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی لینے کے بجائے شہر میں نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آئی اسپنسر اسپتال کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جہاں آنکھوں کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس اسپتال میں مفت طبی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے، جبکہ سندھ حکومت عوام پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے بجلی کے بھاری بلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادائیگی عام شہریوں کے لیے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پورے لیاری کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔ سندھ حکومت اس سلسلے میں اقدامات کر رہی ہے تاکہ لیاری کے عوام کو شمسی توانائی کی سہولت فراہم کی جاسکے اور بجلی کے اخراجات میں کمی لائی جاسکے۔
صوبائی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور اسے متعدد مواقع پر بیان کیا جا چکا ہے۔ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں، سندھ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق صرف سندھ کے عوام کو حاصل ہے۔
28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کسی نے آگاہ نہیں کیا۔