برطانوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق خود کو ’امریکا کا نوسٹرڈیمس‘ کہنے والے مصنف جان ہوگ، جو گزشتہ چار دہائیوں سے 16ویں صدی کے فرانسیسی نجومی نوسٹرڈیمس کی تحریروں کا مطالعہ کر رہے ہیں، نے مستقبل کے بارے میں تین اہم دعوے کیے ہیں۔ جان ہوگ قدیم تحریروں، علمِ نجوم اور موجودہ عالمی سیاسی حالات کو ملا کر اپنے اندازے پیش کرتے ہیں۔
جان ہوگ کا پہلا دعویٰ ہے کہ امریکا 11 ستمبر 2028ء تک، جو نائن الیون حملوں کی 27 ویں برسی ہوگی، اپنی عالمی سپر پاور کی حیثیت کھو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ستمبر 2026ء سے ستمبر 2028ء کا دور امریکا کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کی وجوہات میں بڑھتا ہوا قرض، مہنگائی، ایندھن کی قلت، سیاسی تقسیم اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت شامل ہیں۔
دوسرا دعویٰ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کے بارے میں ہے۔ جان ہوگ کے مطابق ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر حملہ خطے میں شدید جوابی کارروائیوں کا باعث بن سکتا ہے، جس میں ایران امریکی بحری جہازوں اور شمالی کوریا کے ڈرونز بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
مزید برآں، اگر یورپی ممالک یوکرین جنگ میں براہِ راست مداخلت کرتے ہیں تو روس اور یورپ کے درمیان کشیدگی بڑھ کر تیسری عالمی جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچ سکتی ہے۔
تیسرا دعویٰ ایک ایسی عالمی جنگ کا ہے جو 27 سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس طویل جنگ کے نتیجے میں مغربی ایشیاء میں تیل، قدرتی گیس اور ہیلیئم کی صنعتیں شدید متاثر ہوں گی، جس سے عالمی سطح پر توانائی، خوراک اور پانی کی فراہمی کے نظام پر زبردست دباؤ آئے گا۔
جان ہوگ نے وضاحت کی ہے کہ ان کے ان اندازوں کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ جنگ کے نتائج سے خبردار کرنا اور امن کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ نوسٹرڈیمس کی مبہم تحریروں کے مختلف مطالب نکالے جاتے ہیں اور علمِ نجوم یا قدیم پیشگوئیوں کی بنیاد پر کسی جنگ یا معاشی زوال کی حتمی تاریخیں متعین نہیں کی جاسکتیں۔