آڈٹ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے دور میں مختلف محکموں کے اخراجات میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں اور مشکوک ادائیگیاں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ میں ایک ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ٹھیکوں کی مشکوک منظوری، 90 کروڑ 81 لاکھ روپے کی اضافی ادائیگیوں اور 60 کروڑ روپے سے زائد کے غیر مجاز اخراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ٹھیکیداروں کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر کارروائی نہ ہونے سے 37 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کے مالی نقصان کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 11 کروڑ 70 لاکھ 9 ہزار روپے کی ریکوری کی گئی، جس کی آڈٹ حکام نے تصدیق بھی کردی ہے۔