سیالکوٹ کے فراز اسپورٹس اسٹیڈیم میں معروف ٹک ٹاکر انصر محمود عرف 'مسٹر پتلو' کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 ہوگئی جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس نے ضوابط اور انتظامی شرائط کی خلاف ورزی پر مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد اور 45 نامعلوم افراد کے خلاف قتل بالسبب، توڑ پھوڑ اور غیر قانونی اجتماع کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے 6 افراد کو گرفتار کرلیا ہے تاہم مرکزی ملزم مفرور ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور عین شاہدین کے مطابق، مسٹر پتلو کی جانب سے سوشل میڈیا پر گاڑی، 50 موٹر سائیکلوں اور 2 کروڑ روپے کے انعامات کا لالچ دے کر بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کیا گیا تھا۔ تقریب میں اسٹیج سے یکدم گراؤنڈ میں داخلے کے اعلان اور سیکیورٹی گارڈز کے لاٹھی چارج کے باعث بھگدڑ مچی۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وقت سے پہلے ہجوم اور شرائط کی خلاف ورزی پر تقریب کا این او سی پہلے ہی منسوخ کردیا گیا تھا۔
دوسری جانب، مسٹر پتلو نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام میں واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بے قصور بتایا اور کہا کہ وہ کمر کی چوٹ کے باعث موقع پر موجود نہیں تھے اور جلد پولیس کے سامنے پیش ہوں گے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ڈسکہ میں مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر پتلو مفرور ہے اور اپنے اثرورسوخ کے ذریعے قانون کو بے اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ڈسکہ میں پیش آنے والے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ٹک ٹاکر پتلو نے اپنی شادی کی تقریب میں بھاری نقد انعامات سمیت قیمتی تحائف دینے کا اعلان کرکے عوام کا بڑا ہجوم جمع کیا۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ تمام سرگرمی مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے مزید کمائی کے لیے کی گئی، جہاں انعامات کو سرمایہ کاری اور سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو اصل مقصد بنایا گیا۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد مذکورہ ٹک ٹاکر قانون سے بچنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کر رہا ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا کے احتساب اور ٹک ٹاکرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔