وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نئے فارمولے کے تحت آئل ریفائنریز کے تعاون سے پیٹرول کی قیمت میں عوام کو 15 روپے فی لیٹر تک ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال، لاجسٹک مسائل اور انشورنس کے اخراجات کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پریمیئم میں اضافہ ہوا ہے، تاہم جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ 15 روپے کا اضافہ روک دیا گیا۔ ریفائنریز نے پیٹرول کی قیمت کنٹرول میں رکھنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے 15 ارب روپے کا بوجھ خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ ڈیزل پر خام تیل کا فارمولا لاگو ہے اور مقامی ریفائنریز 30 فیصد پیٹرول بناتی ہیں۔ وہ خود فیول قیمتوں میں ڈی ریگولیشن کے حامی ہیں، تاہم خطے کے حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود حکومت عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی سخت ہدایت پر پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھنے دی گئی۔ دنیا بھر کی معیشت جنگی حالات سے متاثر ہوئی ہے لیکن پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فیول ریلیف کا سلسلہ جاری رہے گا اور اب تک پیٹرول کی مد میں 27 ارب روپے کا ریلیف دیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت مقرر کرنے کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے اور وفاقی کابینہ نے نئے فارمولے کی منظوری دے دی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق آئل ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درآمدی قیمت اور ریفائنری کی سطح پر مقررہ قیمت کے درمیان فرق سرکاری خزانے میں جمع کرائیں، جسے پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کر کے عوام کو پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں منتقل کیا جائے گا۔
مزید برآں، ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ 30 روز تک پیٹرول کی قیمت کے تعین میں پریمیئم، دیگر اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کی سطح 7 مارچ 2026 کے مطابق برقرار رکھی جائے۔