دبئی میں ہونے والے افغانستان پریمیئر لیگ کے ڈرافٹ کے دوران اعلان کیا گیا ہے کہ سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر پانچ ٹیموں میں سے ایک قندھار واریئرز کا حصہ ہوں گے۔

دبئی میں ہونے والے افغانستان پریمیئر لیگ کے ڈرافٹ کے دوران اعلان کیا گیا ہے کہ سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر پانچ ٹیموں میں سے ایک قندھار واریئرز کا حصہ ہوں گے۔
محمد عامر کے علاوہ کوئی بھی سابق یا موجودہ پاکستانی کرکٹر افغانستان پریمیئر لیگ کے ڈرافٹ میں پِک نہیں کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستانی کھلاڑیوں کو افغانستان پریمیئر لیگ کھیلنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاحال پی سی بی نے اس لیگ کے لیے این او سی کے اجرا سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پی سی بی نے تاحال بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔ تاہم کرکبز نامی کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ترجمان پی سی بی نے کہا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو افغانستان پریمیئر لیگ کھیلنے کا این او سی جاری کیا جائے گا۔
خیال ہے کہ محمد عامر برطانوی شہری کی حیثیت سے افغانستان پریمیئر لیگ کے ڈرافٹ میں شامل ہوئے ہیں۔ اس لیے انھیں پی سی بی سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
افغانستان پریمیئر لیگ میں پانچ ٹیموں کے معاون عملے کے ارکان میں عرفان پٹھان، وقار یونس، تلکارتنے دلشان، اظہر محمود اور مارک باؤچر کو شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ افغانستان کے نمایاں بین الاقوامی کھلاڑیوں راشد خان، عظمت اللہ عمرزئی، رحمان اللہ گرباز، رحمت شاہ اور ابراہیم زدران کو ٹیموں کا کپتان نامزد کیا گیا ہے۔
ڈرافٹ میں کون سے کھلاڑی شامل ہوئے؟
ڈرافٹ سے قبل لیگ کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ننگرھار کازمک اور ٹیم پکتیا کے کپتان آپس میں تبدیل ہوئے ہیں۔ رحمان اللہ گرباز اب پکتیا کی کپتانی کریں گے جبکہ رحمت شاہ ننگرھار کازمک کے کپتان ہوں گے۔
پلاٹینم کیٹگری میں کون سا کھلاڑی کس ٹیم میں گیا:
قندھار واریئرز: محمد عامر
ٹیم بلخ: معین علی
ننگرھار کازمک: الیکس ہیلز
ایکسل یونائیٹڈ کابل: جانسن چارلز
ٹیم پکتیا: وینندو ہسرنگا
ڈائمنڈ کیٹگری میں کون سا کھلاڑی کس ٹیم میں گیا:
قندھار واریئر: محمد نبی
ایکسل یونائیٹڈ کابل: فضل حق فاروقی
ٹیم بلخ: اللہ محمد غضنفر
ٹیم پکتیا: نور احمد
ننگرھار کازمک: درویش رسولی
ننگرھار کازمک: شکیب الحسن
ٹیم پکتیا: ناہید رانا
ٹیم بلخ: لوک ووڈ
ایکسل یونائیٹڈ کابل: دشمنتھا چمیرا
قندھار واریئر: جو کلارک
افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت پر برطانیہ میں بحث
اکتوبر کے دوران اولی پوپ نے افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) کے ڈرافٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ انگلش بورڈ کے ڈائریکٹر آف کرکٹ راب کی نے کہا کہ پوپ اے پی ایل میں نہیں کھیلیں گے تاہم کھلاڑیوں کو اس لیگ میں شرکت سے روکنا ’قانونی طور پر مشکل ہے۔‘
کسی بھی انگلش کھلاڑی کو اس لیگ میں شرکت کے لیے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ درکار ہو گا۔
راب کی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک اخلاقی فیصلہ بن جاتا ہے اور کھلاڑیوں کو درست اخلاقی مؤقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔'
انھوں نے کہا کہ ’ذاتی طور پر، اور یہ بات کہنا میرے لیے آسان ہے، میں وہاں جا کر نہیں کھیلوں گا۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا کھلاڑی پر منحصر ہے۔‘
ای سی بی نے 2021 میں طالبان کی افغانستان میں واپسی کے بعد سے افغانستان کے خلاف دوطرفہ کرکٹ سیریز شیڈول کرنے سے انکار کیا ہے۔
گذشتہ سال ای سی بی کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ طالبان کے سلوک کو ’صنفی اپارتھائیڈ‘ قرار دیا تھا۔
تاہم انگلینڈ نے افغانستان کے خلاف عالمی مقابلوں میں کھیلنا جاری رکھا ہے، جن میں محدود اوورز کے دونوں فارمیٹس کے ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی شامل ہیں۔
راب کی نے کہا کہ ’میں افغانستان میں خواتین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے اتفاق نہیں کرتا۔ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایسی چیز نہیں جس سے میں متفق ہوں، اس لیے یہ کوئی ایسا کام نہیں جو میں خود کرنے جاؤں۔‘
سابق انگلش بلے باز ڈیوڈ ملان نے بھی اے پی ایل کے ڈرافٹ کے لیے اندراج کرایا ہے۔ جبکہ دیگر نمایاں ناموں میں معین علی، جیمز ونس اور جیمز ریو شامل ہیں۔
ملان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بطور کھلاڑی ہم اپنی رہنمائی آئی سی سی اور کرکٹ بورڈز سے لیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بطور کھلاڑی یہ ایک مشکل صورتحال ہوتی ہے کیونکہ ایک طرف وہ چیز ہے جو اخلاقی طور پر درست ہے اور دوسری طرف وہ جو قانون کے مطابق ہے۔‘
سابق انگلش آل راؤنڈر معین علی کے ایجنٹ ڈین احمد نے ایکس پر لکھا: ’کھیلوں میں اخلاقیات اہم ہیں، لیکن مستقل مزاجی بھی اہم ہے۔‘
’خواتین کے ساتھ طالبان کا سلوک ناقابلِ دفاع ہے۔ لیکن پھر کرکٹرز ہی کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ حکومتیں اور کارپوریشنز ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتی ہیں جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوتے ہیں۔ منتخب غم و غصہ اخلاقیات نہیں ہے۔‘
افغانستان پریمیئر لیگ کیا ہے؟
افغانستان کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈرافٹ کے لیے تقریباً 1500 افغان اور بین الاقوامی کھلاڑیوں نے اندراج کرایا تھا، تاہم بعد ازاں منگل کو ہونے والے ڈرافٹ کے لیے اس فہرست کو کم کر کے 462 کھلاڑیوں پر مشتمل پول تک محدود کر دیا گیا۔ کھلاڑیوں کا انتخاب پلاٹینم، ڈائمنڈ، گولڈ، سلور اور ایمرجنگ کیٹیگریز میں کیا جائے گا۔
قواعد کے مطابق سکواڈ کا حجم 19 ’فعال کھلاڑیوں‘ پر مشتمل ہو گا، جس میں 17 کھلاڑیوں کا بنیادی ڈرافٹ سکواڈ اور سپلیمنٹری راؤنڈ میں زیادہ سے زیادہ دو اضافی کھلاڑی شامل کیے جا سکیں گے۔ افغان یا مقامی کھلاڑیوں کی تجویز کردہ کم از کم تعداد 12 مقرر کی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی کم از کم تعداد چھ اور زیادہ سے زیادہ سات ہو سکتی ہے۔ پلیئنگ الیون میں تین سے چار غیر ملکی کھلاڑی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ پلیئنگ الیون میں کم از کم سات افغان یا مقامی کھلاڑیوں کی موجودگی بھی لازمی ہو گی، جن میں کم از کم ایک ایمرجنگ کھلاڑی شامل ہو گا۔
فرنچائزز کے لیے کھلاڑیوں کے معاوضوں کی مد میں تنخواہوں کی حد 725,000 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
اے سی بی نے 2018 کے اوائل میں بھی افغانستان پریمیئر لیگ کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اس لیگ کا صرف ایک سیزن پانچ ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔ کرس گیل، برینڈن میک کولم اور شاہد آفریدی جیسے بڑے نام اس لیگ کا حصہ تھے، لیکن بعد ازاں ادائیگیوں کے مسائل اور لیگ کی شفافیت سے متعلق خدشات سامنے آنے پر اسے بند کر دیا گیا۔
افغانستان پریمیئر لیگ کا افتتاحی سیزن افغانستان کے بجائے متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔