امریکا کے حالیہ انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدواروں نے بھی اپنی سیاسی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ مختلف ریاستوں میں انتخابی میدان میں اترنے والے امیدواروں میں سے تین نے کامیابی حاصل کی، جبکہ ایک امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست ٹیکساس میں پاکستانی نژاد سلمان بھوجانی اور سلیمان لالانی ایک مرتبہ پھر ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔ دونوں امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں تقریباً 67 فیصد ووٹ حاصل کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
سلمان بھوجانی نے ٹیکساس کے ڈسٹرکٹ 92 سے انتخاب لڑا اور ووٹرز کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرکے اپنی نشست برقرار رکھی۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ 76 سے سلیمان لالانی بھی دوبارہ منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔ دونوں سیاست دانوں کی کامیابی سے ٹیکساس کی ریاستی سیاست میں پاکستانی نژاد نمائندگی برقرار رہی۔
دوسری جانب ریاست جارجیا میں فاروق مغل نے بھی ریاستی اسمبلی کی نشست جیت کر پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے لیے ایک اور کامیابی حاصل کی۔ ان کی فتح کو مقامی سیاست میں پاکستانی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کے حوالے سے اہم سمجھا جارہا ہے۔
تاہم تمام پاکستانی نژاد امیدوار کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ ریاست فلوریڈا میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے انتخاب لڑنے والے امتیاز محمد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ریاستی اسمبلی تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
ان انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری مختلف ریاستوں میں سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکساس میں دو امیدواروں کا دوبارہ منتخب ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں ووٹرز کی حمایت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ان امیدواروں کی کامیابیاں امریکی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں ہوئی ہیں، نہ کہ وفاقی کانگریس میں۔ ریاستی اسمبلیاں تعلیم، صحت، مقامی قوانین اور دیگر اہم معاملات پر قانون سازی میں کردار ادا کرتی ہیں۔
امریکا میں پاکستانی نژاد امیدواروں کی یہ کامیابیاں کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی کے لیے اہم پیش رفت ہیں، جبکہ آنے والے برسوں میں ان منتخب نمائندوں کی کارکردگی ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔