حنا جاوید قتل کیس: فرانزک رپورٹس کیلیے مقتولہ کے بھائی کا محتسب پنجاب سے رجوع

image

حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے شواہد اور تحقیقات کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے محتسب پنجاب عائشہ حامد سے رجوع کرلیا ہے۔ فہد جاوید نے درخواست میں قتل کیس سے متعلق تمام فرانزک رپورٹس، تفتیشی ریکارڈ اور شواہد کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹس میں متضاد نتائج سامنے آئے ہیں جبکہ فرانزک شواہد میں گھریلو ملازم اور مقتولہ کے شوہر کے ڈی این اے کا ذکر بھی موجود ہے۔ درخواست گزار نے مقتولہ کے جسم اور جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے ڈی این اے شواہد کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فہد جاوید نے پولیس اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس، اپارٹمنٹ اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فنگر پرنٹس، کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی مصدقہ نقول بھی مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کی فرانزک رپورٹس، کال ڈیٹیل ریکارڈ، ملزمان کے بیانات، اعترافات اور پولی گراف ٹیسٹ سے متعلق ریکارڈ کی فراہمی کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں ملزم ڈاکٹر فیصل اصغر کے سابقہ تعلیمی اداروں کے ڈسپلنری ریکارڈ اور ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقتولہ کے اہلخانہ نے شواہد کی ہینڈلنگ اور تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ چالان عدالت میں جمع ہونے یا مزید قانونی کارروائی سے قبل انہیں کیس کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

درخواست کی ایک نقل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔ مقتولہ کے اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کے لیے انہیں کیس سے متعلق تمام شواہد اور ریکارڈ تک رسائی دی جائے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US