خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی اور بدامنی سے متاثرہ اضلاع میں تعینات سول اور پولیس افسران کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی رسک الاؤنس کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اہل افسران کو رننگ بنیادی تنخواہ کا 250 فیصد اضافی الاؤنس دیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے وہ افسران اس سہولت کے اہل ہوں گے جو دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق الاؤنس کے لیے اہل اضلاع کا تعین محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کرے گا، جبکہ متعلقہ اضلاع کی فہرست ہر مالی سال کے آغاز پر مرتب کی جائے گی۔ افسر کی تبدیلی، معطلی، رخصت یا او ایس ڈی تعیناتی کی صورت میں الاؤنس ادا نہیں کیا جائے گا۔
حکومتی فیصلے کے تحت الاؤنس کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی اور اس پر انکم ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کی صورت میں صوبائی حکومت عارضی طور پر ادائیگیاں کرے گی، تاہم اس سے صوبے پر کوئی مستقل مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا۔
حکومت نے محکمہ خزانہ کو الاؤنس کی ادائیگیوں، اخراجات اور وفاقی حکومت سے وصولیوں کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔