انڈیا کی سب سے مہنگی فلم رامائن جو دو حصوں میں بنائی گئی ہے اور جس پر مبینہ طور پر 500 ملین ڈالر (370 ملین پاؤنڈ) لاگت آئی ہے، دنیا بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
انڈیا کی سب سے مہنگی فلم رامائن جو دو حصوں میں بنائی گئی ہے اور جس پر مبینہ طور پر 500 ملین ڈالر (370 ملین پاؤنڈ) لاگت آئی ہے، دنیا بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
نتیش تیواری کی ہدایت کاری میں بننے والی ’رامائن: رائز آف اے لیجنڈ‘ میں بالی وڈ کے چند بڑے ستارے، ہالی وڈ کی ویژول ایفیکٹس مہارت اور آسکر ایوارڈ یافتہ دو موسیقاروں کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ ملک کی تاریخ کی سب سے اہم اور قدیم داستانوں میں سے ایک کو عالمی ناظرین تک پہنچایا جا سکے۔
ہندو مت کی بنیادی رزمیہ داستانوں میں سے ایک ’رامائن‘ صدیوں اور براعظموں کا سفر طے کر چکی ہے، اور شاعری، مندروں کے مجسمہ سازی کے فن، پتلی تماشوں، لوک تھیٹر اور نسل در نسل منتقل ہونے والی کہانیوں کی صورت میں اظہار پاتی رہی ہے۔
یہ سلطنتوں اور حکومتوں کے ختم ہو جانے کے بعد بھی زندہ رہی، مذہبی عقیدت اور سیاسی تحریکوں کو متاثر کرتی رہی، اور بار بار ٹی وی اور سنیما میں نئی زندگی حاصل کرتی رہی۔
تیواری کا ورژن محبت، فرض، جلاوطنی اور جنگ کی اسی معروف کہانی کی طرف واپس آتا ہے، جو دیوتاؤں، آسمانی ہتھیاروں اور طاقتور سلطنتوں کی دنیا میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔
رنبیر کپور ایودھیا کے نیک شہزادے بھگوان رام کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنی سلطنت سے 14 برس کے لیے جلا وطن کیے جانے کے بعد وہ اپنی اہلیہ سیتا (جن کا کردار سائی پلوی نے ادا کیا ہے) کے ساتھ جنگل چلے جاتے ہیں، جنھیں بعد میں لنکا کا دس سروں والا بادشاہ راون اغوا کر لیتا ہے۔
جنوبی انڈیا کے بڑے ستاروں میں شمار ہونے والے یش راون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ راون ایک طاقتور جنگجو ہے جس کا غرور اسے رام کے ساتھ ایک عظیم جنگ میں لے جاتا ہے، جسے اگلے سال ریلیز ہونے والے دوسرے حصے میں دکھایا جائے گا۔
فلم کے پروڈیوسر نامت ملہوترا ویژول ایفیکٹس کمپنی DNEG کے سربراہ ہیں، جنھوں نے Dune اور Interstellar سمیت ہالی وڈ کی بڑی فلموں پر کام کیا ہے۔
موسیقی آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان، جنھوں نے Slumdog Millionaire کے لیے موسیقی ترتیب دی، اور ہانس زیمر کے درمیان اشتراک کا نتیجہ ہے، جن کی Gladiator، The Dark Knight اور Dune کے لیے تخلیق کردہ دھنوں نے جدید ہالی وڈ کے صوتی انداز کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
فلم دیوالی سے چند روز قبل ریلیز ہوئی، جو ہندوؤں کا روشنیوں کا تہوار ہے اور رام کی جلاوطنی کے بعد ایودھیا واپسی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
تاہم اب تک ناقدین کا ردعمل ملا جلا رہا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے سیبل چیٹرجی نے فلم کو پانچ میں سے تین ستارے دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بصری تماشا اکثر کہانی پر حاوی ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق اس کی بے پناہ وسعت ’زیادہ تر مواقع پر واحد چیز ہے جو نمایاں نظر آتی ہے‘، جبکہ اداکاری ’انتہائی غیر یکساں‘ محسوس ہوتی ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے رشبھ سوری زیادہ پُرجوش تھے اور انھوں نے فلم کو چار ستارے دیے۔
انھوں نے لکھا: ’مجھے خوشی ہے کہ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ اتنی خطیر رقم واقعی پردے پر دکھائی دیتی ہے۔‘
انھوں نے اداکاری اور ویژول ایفیکٹس کی تعریف کی، تاہم ان کے مطابق فلم کا پہلا حصہ سست رفتار اور موسیقی کم متاثر کن تھی۔
دی انڈین ایکسپریس کی شبھرا گپتا نے، جنھوں نے فلم کو تین ستارے دیے، اعتراف کیا کہ فلم کے غیر معمولی پیمانے کے بارے میں انھیں ابتدا میں خدشات تھے، لیکن آہستہ آہستہ وہ اس سے متاثر ہو گئیں۔
انھوں نے لکھا کہ اس میں ’جادو، سنسنی اور مہم جوئی‘ کی اتنی مقدار موجود ہے کہ یہ اس بصری شان و شوکت کو برقرار رکھ سکے، اور فلم ساز ایک وسیع داستان سنانے میں کامیاب رہے بغیر اس کے کہ وہ خود اس کے بوجھ تلے دب جاتے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی فلم کے بارے میں آرا مختلف رہیں۔
دی گارڈین میں لکھتے ہوئے پیٹر بریڈشا نے اسے ’انتہائی دلکش، جوش دلانے والا اور شاندار انڈین رزمیہ میلوڈراما‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق شاہی سازش، جو رام کو جلاوطنی پر مجبور کرتی ہے، شیکسپیئر کی یاد دلاتی ہے، جبکہ سیتا کی بازیابی کی ان کی مہم ہومر کے قصوں کی بازگشت محسوس ہوتی ہے۔
وسیع مناظر اور تخیلاتی تصویری دنیا نے انھیں The Lord of the Rings اور The Lion King کی یاد دلائی۔
انھوں نے لکھا: ’یہ واقعی حیرت انگیز ہے‘، اور فلم کو چار ستارے دیے۔
تاہم سب اتنے متاثر نہیں تھے۔
IGN کے سدھانت ادلکھا نے فلم کو دس میں سے چار نمبر دیے اور اس کی ایکشن مناظر کو ’بھدا‘ جبکہ کمپیوٹر سے تخلیق کردہ مناظر کو ’آنکھوں کے لیے تکلیف دہ‘ قرار دیا۔
Next Best Picture کے جیوانی لاگو نے، جنھوں نے فلم کو دس میں سے پانچ نمبر دیے، یش کے پُرکشش راون اور رحمان و زیمر کی موسیقی کی تعریف کی۔
تاہم ان کا خیال تھا کہ فلم کی وسیع داستان کو Game of Thrones طرز کی ایک سیریز میں زیادہ بہتر انداز سے پیش کیا جا سکتا تھا۔
انگریزی زبان کے ورژن میں اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکات کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تنقید کی گئی۔
اگرچہ تیواری کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد فلم کو بین الاقوامی ناظرین کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانا تھا، تاہم ادلکھا نے اس نتیجے کو ’مزاحیہ خاکوں کے لیے ساکت تصاویر پر چسپاں کیے گئے مبالغہ آمیز ہونٹوں کی حرکت‘ سے تشبیہ دی۔
انڈیا میں اس فلم کا موازنہ پہلے ہونے والی کاوشوں سے بھی کیا گیا، خصوصاً رامانند ساگر کی رامائن سے، جس نے تقریباً چار دہائیوں قبل سادہ سیٹوں اور ایسے سپیشل ایفیکٹس کے ذریعے پورے ملک کو مسحور کر دیا تھا جو آج سادہ اور پرانے محسوس ہوتے ہیں۔
جب یہ پہلی بار 1987 میں نشر ہوا تو پورے انڈیا میں اتوار کی صبحیں تقریباً عقیدت مندانہ سکون اختیار کر لیتی تھیں۔
سڑکیں خالی ہو جاتیں، دکانوں کے شٹر گر جاتے اور لوگ ٹی وی سیٹوں کے گرد جمع ہو جاتے۔
کچھ ناظرین پروگرام شروع ہونے سے پہلے غسل کرتے، لوبان جلاتے اور اپنی سکرینوں پر ہار چڑھاتے، گویا عبادت کی تیاری کر رہے ہوں۔
نیویارک یونیورسٹی کے میڈیا سکالر اروند راجاگوپال نے 2019 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ بعض اوقات ٹرینیں اور بسیں رک جاتیں اور مسافر سڑک کنارے لگے ٹی وی سیٹوں پر یہ پروگرام دیکھنے کے لیے اتر جاتے۔
سرکاری نشریاتی ادارے دوردرشن پر نشر ہونے والی اس 78 اقساط پر مشتمل سیریز کے بعض مقبول ترین حصوں کو اندازاً 80 سے 100 ملین ناظرین دیکھتے تھے، جو اس دور میں حیران کن تعداد تھی جب انڈیا میں ٹی وی رکھنا ایک آسائش سمجھا جاتا تھا۔
اداکار بھی عقیدت کی علامت بن گئے تھے۔ رام کا کردار ادا کرنے والے ارون گوول نے یاد کیا ہے کہ لوگ انھیں دیکھ کر رونے لگتے اور ان کے پاؤں چھوتے تھے۔
اب ایک ایسی کاسٹنگ میں جس میں پرانی یادوں کی بھرپور جھلک ہے، گوول تیواری کی فلم میں رام کے والد دشرتھ کے کردار میں واپس آئے ہیں۔
دیگر لوگوں نے بھی اس داستان کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
1992 کی انڈین-جاپانی اینی میٹڈ فلم Ramayana: The Legend of Prince Rama نے انتہائی باریک بینی سے ہاتھ سے تیار کردہ اینی میشن کے ذریعے اس کہانی کو زندگی بخشی۔
تیواری کی رامائن ایسے تکنیکی وسائل کے ساتھ سامنے آئی ہے جن کا اس کے پیش رو شاید تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، لیکن ساتھ ہی اسے ان نسلوں کی توقعات کا بھی سامنا ہے جو اس داستان اور اس کے کرداروں کے ساتھ پروان چڑھی ہیں۔
یہ فلم انڈیا میں ایک ایسے سیاسی طور پر حساس دور میں بھی سامنے آئی ہے جہاں رام ہندو شناخت کی ایک طاقتور علامت بن چکے ہیں، اور گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران اس رزمیہ داستان کے مقبول تجزیے یا نئی پیشکشیں بھی تنازعات کا شکار ہوتی رہی ہیں۔
2023 کی فلم آدی پورش، جو رامائن کی ایک اور بڑے بجٹ کی پیشکش تھی، کئی حوالوں سے شدید ردعمل کا باعث بنی۔
ہندو گروہوں نے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ اس میں مذہبی شخصیات کی بے حرمتی کی گئی ہے، جبکہ بعض ناقدین نے راون کی تصویر کشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ مغل طرز کے تصورات سے متاثر ہے اور مسلمانوں کے بارے میں دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتی ہے۔
فلم کے مکالموں اور ویژول ایفیکٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
تازہ فلم میں ان کرداروں کو ادا کرنے والے فنکاروں کے لیے بھی اس ذمہ داری کا احساس گہرا تھا۔
رنبیر کپور نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے ہارون رشید سے گفتگو میں کہا: ’میں خوف سے بھر گیا تھا۔‘
’مجھے معلوم تھا کہ شاید میں اس کردار کے لیے زیادہ عمر کا ہوں۔ شاید میں اس کے ساتھ انصاف نہ کر سکوں۔‘
انھوں نے اس کردار کو ’زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع‘ قرار دیا، لیکن کہا کہ ایک ایسی شخصیت کا کردار ادا کرنا جس کی کروڑوں لوگ عبادت کرتے ہیں، تخلیقی آزادی کے لیے بہت کم گنجائش چھوڑتا ہے، جس سے وہ اپنی دوسری فلموں میں لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔
سیتا کا کردار ادا کرنے والی سائی پلوی نے کہا کہ یہ تجربہ فنّی ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی بھی تھا۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ وہ ایک مذہبی گھرانے میں پلی بڑھیں، اس لیے انھوں نے اس کردار کو صرف اداکاری نہیں بلکہ اپنی ذاتی نشوونما کے موقع کے طور پر بھی دیکھا۔
فلم کو کس طرح پذیرائی مل رہی ہے، اس کا اندازہ جلد مزید واضح ہو جائے گا کیونکہ ناظرین بڑی تعداد میں سینما گھروں کا رخ کر رہے ہیں۔
لیکن فیصلہ جو بھی ہو، یہ انڈیا کے لیے ایک اہم ثقافتی لمحہ ہے، کیونکہ اس نے نسلوں سے محبوب ایک داستان کو بے مثال پیمانے پر بڑی اسکرین تک پہنچایا ہے۔