سندھ کے ضلع تھرپارکر کے علاقے ڈانو داندل میں بنیادی مرکز صحت کے باہر کھڑی ایمبولینس میں آگ لگنے اور دھماکے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی نے فرانزک اور تکنیکی رپورٹس کا انتظار کرنے کی سفارش کی ہے۔
سندھ کے ضلع تھرپارکر کے علاقے ڈانو داندل میں بنیادی مرکز صحت کے باہر کھڑی ایمبولینس میں آگ لگنے اور دھماکے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی نے فرانزک اور تکنیکی رپورٹس کا انتظار کرنے کی سفارش کی ہے۔
یاد رہے کہ اس واقعے میں ایک نومولود بچی سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آکسیجن سلینڈر تبدیل کرتے وقت آگ بھڑک اٹھی تھی۔
محکمہ صحت سندھ نے 29 اکتوبر 2026 کو واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے کنوینر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ تھے۔
کمیٹی نے 30 اکتوبر کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور عینی شاہدین کے بیانات، تصاویر، جسمانی شواہد اور بنیادی صحت مرکز کا دستیاب ریکارڈ چیک کیا۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈانو داندل کے بنیادی مرکز صحت میں ایک خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش کے بعد طبیعت بگڑنے پر انھیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مٹھی منتقل کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایمبولینس میں نصب آکسیجن سلنڈر خالی پایا گیا تھا جس کی جگہ دوسرا بھرا ہوا سلنڈر لگانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق دھماکہ نئے سلنڈر کو نصب کرنے کے دوران یا اس کے فوراً بعد ہوا۔
ایک عینی شاہد امولک نے کمیٹی کو بتایا کہ فلومیٹر کو زبردستی کھولا جا رہا تھا جبکہ کمیونٹی مڈ وائف ثمینہ کے مطابق اس وقت ایمبولینس کا انجن بھی چل رہا تھا۔
ثمینہ اس مرکز صحت میں کمیونٹی مڈ وائف کے طور پر کام کرتی ہیں اور اس واقعہ میں وہ بھی زخمی ہوئیں۔
مٹھی کے ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد مزید علاج کے لیے انھیں کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ثمینہ کے شوہر سلیمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب دھماکہ ہوا تو وہ ڈسپینسری سے ملحقہ اپنے کوارٹر میں تھے اور ثمینہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھیں۔
’دھماکے کی آواز سنتے ہی میں ڈسپینسری کی جانب بھاگا تو ایمبولینس کے ہر طرف وہاں آگ ہی آگ دکھائی دی۔ ثمینہ، آیا اور دیگر عملہ گیٹ پر کھڑے تھے اور یہ دھماکہ ہوتے ہی گیٹ کے اندر کی جانب بھاگے۔‘
ان کے مطابق ’تقریباً 20 سے 25 منٹ تک آگ کی شدت کی وجہ سے ہم آگے نہیں جا سکے۔ ایک آیا، نورجہاں (مڈ وائف) معمولی زخمی تھیں جبکہ ثمینہ کے پیٹ پر زخم آیا۔
’پھر پولیس اور ایمبولینس کے عملے نے مٹھی کے ہسپتال پہنچایا۔ ان کا خون بہت بہہ رہا تھا۔ بچہ گھر پر پریشان ہیں لیکن شکر اس بات کا ہے کہ میری بیوی کی جان بچ گئی۔‘
تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ تعین نہیں کیا جا سکا کہ دھماکہ آکسیجن سلنڈر، والو یا ریگولیٹر میں خرابی، سلنڈر نصب کرنے کے طریقہ کار میں غلطی، کسی آلے کے استعمال، آگ لگنے کے کسی ذریعے یا گاڑی کے برقی نظام میں خرابی کے باعث ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے فرانزک اور دیگر تکنیکی تحقیقات مکمل ہونا ضروری ہیں۔
انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں مریضہ کی منتقلی کے وقت ایمبولینس کا آکسیجن سلنڈر خالی کیوں تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ جاننا ضروری ہے کہ روانگی سے قبل ایمبولینس اور طبی آلات کی جانچ کون کرتا تھا، آکسیجن کی دستیابی کی ذمہ داری کس پر عائد تھی اور اس حوالے سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔
تحقیقات کے دوران اس امکان کا بھی جائزہ لیا گیا کہ آیا ایمبولینس میں کوئی گیس سلنڈر نصب تھا یا گاڑی ایل پی جی یا سی این جی پر چلائی جا رہی تھی۔
اس مقصد کے لیے اسلام کوٹ کے اجالا فلنگ سٹیشن کا ریکارڈ بھی چیک کیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق 30 اکتوبر کو معائنے کے وقت مذکورہ سلنڈر درست حالت میں موجود تھا۔
انکوائری رپورٹ میں بنیادی صحت مرکز میں آگ بجھانے کے انتظامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
کمیٹی کے مطابق مرکز میں فائر ایکسٹنگوئشر موجود تھا، تاہم اسے مناسب جگہ نصب کرنے کے بجائے بند اسٹور میں رکھا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ہنگامی حالات میں یہ فوری دستیاب ہوتا تو ابتدائی مرحلے میں آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور حاجی پاندی اور چوکیدار اسحاق سگریٹ نوشی کے عادی تھے، تاہم کسی عینی شاہد نے آکسیجن سلنڈر تبدیل کرنے یا مریضہ کو ایمبولینس میں منتقل کرنے کے دوران ان میں سے کسی کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا۔
چنانچہ کمیٹی نے اس امکان کو بھی حتمی طور پر حادثہ ہونے کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا۔
’چاچو باہر کھڑے تھے، مگر بچ نہ سکے‘
’جسونت چاچا ہماری چاچی کو چھوڑنے کے لیے ڈسپینسری گئے تھے، جن کی وہاں نائٹ ڈیوٹی تھی۔ جس وقت ایمبولینس میں دھماکہ ہوا اس وقت چاچو وہیں باہر کھڑے تھے۔ مدد آنے پر انھیں ہسپتال لے جایا گیا مگر ان کے اتنے زخم تھے کہ وہ بچ نہ سکے۔‘
یہ الفاظ عارفہ کے ہیں، جو ڈانو داندل میں پیش آنے والے واقعے میں مرنے والے اپنے چاچا اور غم سے نڈھال خاندان سے متعلق بی بی سی کو آگاہ کر رہی تھیں۔
جسونت میگھواڑ کو 28 اکتوبر کی رات ایمبولینس میں لگنے والی آگ اور دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد مٹھی منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ تقریباً ساڑھے 11 بجے مٹھی دم توڑ گئے۔
'سلینڈر بدلتے وقت آگ بھڑک اٹھی'
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) تھرپارکر ڈاکٹر لیکھراج کے مطابق ایمبولینس میں آگ لگنے کا یہ واقعہ بدھ کی رات اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون کو ڈلیوری کے بعد پیچیدگی کے باعث نومولود بچی سمیت مٹھی کے ہسپتال شفٹ کیا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر لیکھراج کے مطابق ’خاتون کے ہاں بچی کی ڈلیوری تو نارمل ہوئی تاہم ان کو غیر معمولی بلیڈنگ شروع ہو گئی، جس کے باعث انھیں مٹھی کے ضلعی ہسپتال منتقل کرنا تھا۔ تاہم اس وقت آکسیجن سلینڈر میں آکسیجن کم محسوس ہوئی جس کے باعث ڈرائیور اور دیگر عملے نے سلینڈر بدلنے کا کام کیا جس دوران شدید دھماکہ ہو گیا۔‘
جسونت کی اہلیہ سکور اس بنیادی صحت کے مرکز میں بدھ کی رات اپنے شوہر کے ہمراہ پہنچیں تھیں۔ وہ اندر چلی گئیں تھیں جبکہ ان کے شوہر کچھ دیر باہر ٹھہرے۔
جسونت کی بھتیجی عارفہ کے مطابق ’جب دھماکہ ہوا تو ہمیں گھر پر تقریباً ایک گھنٹہ بعد پتا چلا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہاں دھماکہ ہو گیا ہے۔ وہاں نہ کوئی دوسری ایمبولینس تھی نہ کوئی فوری مدد کے لیے تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہاں لوگ مدد کے لیے پہنچ سکے۔‘
ان کے مطابق ’چاچا کو شدید زخمی حالت میں دیکھ کر چاچی صدمے میں چلی گئیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جسونت ننگر پارکر میں کام کیا کرتے تھے۔ ان کے تین بچے ہیں، جن میں سے سب سے بڑا بیٹا نویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ جبکہ دو بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ چاچو سب سے چھوٹے بیٹے سے بہت پیار کرتے تھے اور اس کو اپنے جگر کا ٹکڑا کہتے تھے۔‘
ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک
اس سانحے میں نومولود بچی سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ امولک نے اس واقعہ میں اپنی ماں، بہن، چاچی، بھائی اور نوزائیدہ بھانجی کو کھویا۔
پولیس کے مطابق سریش میگھواڑ کی کمسن بیٹی کو زخمی حالت میں پہلے ننگرپارکر اور پھر مٹھی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے انھیں کراچی ریفر کیا گیا تھا۔
وہ کراچی کے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج تھیں تاہم 29 اکتوبر کی شام موت کے منہ میں چلی گئیں۔
امولک اس واقعہ کے عینی شاہد بھی ہیں، جنھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں، بہن، چاچی، بھائی اور نومولود بھانجی کو آگ کے شعلوں میں گھرا پایا۔
وہ اس وقت ایمبولینس کے پاس کھڑے ہوئے تھے جب دھماکہ ہوا۔ ان کے مطابق 20 سے 25 منٹ تک کوئی مدد نہیں پہنچ سکی جبکہ دھماکے سے امولک کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا اور وہ خود بھی کچھ دیر کو ہوش کھو بیٹھے۔
امولک کے مطابق ایمبولینس میں ان کی ماں، بہن، نوزائیدہ بھانجی اور ایک چاچی موجود تھیں۔
ان کے مطابق ’میری بہن لاڈو ڈلیوری کے بعد مسئلے کے باعث والدہ، بھائی لچھمن اور چاچی کے ساتھ ہسپتال جانے کے لیے ایمبولینس میں تھیں۔ سب جانے کے لیے تیار تھے اور سلینڈر بدلا جا رہا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے آگ لگ گئی، میرا خاندان ہی ختم ہو گیا۔‘
امولک سب بتاتے ہوئے بار بار ہچکیوں سے رو رہے تھے، جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کو صدمے سے نکلنے میں وقت لگے گا۔
امولک کے کزن پون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گاؤں میں اس وقت سب افسوس کے لیے آ رہے ہیں، تاہم گھر کے تمام بڑے گھر کو چلانے والے ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ لاڈو باجی کی موت کے بعد اب ان کے شوہر اپنی دو چھوٹی بچیوں کو سنبھال رہے ہیں۔‘
پون نے بتایا ’دوسری جانب لچھمن بھائی کی بھی موقع پر موت ہو گئی تھی۔ ان کے بھی دو بچے ہیں اور ان کی بیوہ دو روز سے صدمے سے بے حال ہیں۔ ایسا گھر جو ہمارا اجڑا کسی اور کا نہ اجڑے۔‘
21 سال سے خدمات انجام دینے والے ڈرائیور کی موت
حاجی پاندی راجن ڈانو داندل بی ایچ یو پلس میں گذشتہ 21 سال سے بطور ڈرائیور وابستہ تھے، جو اس حادثے میں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
حاجی پاندی نے اپنے لواحقین میں بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
حاجی پاندی راجن کے قریبی رشتہ دار فہیم نے جائے وقوع پر جا کر ان کی لاش کی شناخت بھی کی تھی۔
فہیم کے مطابق ’بدھ کی رات پاندی کے بیٹے عارف نے بتایا کہ اس کے پاس فون آیا ہے کہ ڈسپینسری میں گاڑی کو آگ لگی ہے اور بابا کا نمبر بند جا رہا ہے۔ ہم ان کو دیکھنے فوری نکلے، تقریباً 20 منٹ بعد وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لاشیں جلی ہوئی حالت میں بکھری ہوئی تھیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا تھا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فہیم نے بتایا کہ ’میں نے ٹارچ کی روشنی میں اپنے کزن کو پہچان لیا، لیکن ان کے بیٹے کو میں نے دور کھڑے رہنے دیا۔ وہاں پولیس والے بھی تھے جن کے پاس جا کے میں نے پہچان کروائی اور شناخت بتائی پھر ان کے چہرے پر چادر ڈالی اور بیٹے کو اطلاع دی۔‘
ان کے مطابق ’دھماکے کی آواز اس قدر زوردار تھی کہ ہمیں اپنے گاؤں تک اس کی گونج سنائی دی۔‘
فہیم کے مطابق ’وہ اپنی ملازمت سے اتنے مخلص تھے کہ کئی کئی دن گھر آنے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ آخری بار وہ ایک دن پہلے گھر آئے اور اپنے پوتے کو چپس اور کھانے کی چیزیں دے کر باہر سے ہی واپس ڈیوٹی پر چلے گئے تھے۔‘
بی ایچ یو پلس میں کیا سہولیات موجود ہوتی ہیں؟
ڈاکٹر آکاش ڈانو داندل کے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو پلس) میں تعینات ہیں۔
جب ہم نے ان سے مرکز صحت پر موجود سہولیات کے حوالے سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مرکز صحت میں او پی ڈی کے علاوہ ویکسینیشن اور دیگر بنیادی سہولیات دی جاتی ہیں، تاہم خواتین کی ڈلیوری کے لیے کمیونٹی مڈ وائف موجود ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق گائنی کی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتیں اس لیے نارمل ڈلیوری کمیونٹی مڈ وائف کی مدد سے کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق ’جس مرکز صحت پر حادثہ ہوا وہ بی ایچ یو پلس ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہاں عام مراکز کی نسبت مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اس میں اتنی سہولت ہوتی ہے کہ وہ ماہانہ سو سے زائد ڈلیوری کروا سکتا ہے۔‘
دوسری جانب ڈی ایچ او نے بی بی سی کے سوال پر بتایا کہ ضلع مٹھی اور تحصیل ننگر پارکر کے بڑے ہسپتال کے سیٹ اپ سمیت پورے ضلع بھر میں بنیادی مراکز صحت اور ڈسپنسریوں کی کل تعداد 310 ہے۔