جے ڈی وینس کی بدلتی پالیسی پر عبدالسید کا سخت ردعمل، صدارتی عزائم پر بھی سوال اٹھا دیا

image

امریکی سیاست میں ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات مزید نمایاں ہونے لگے ہیں۔ نومنتخب مسلمان سیاست دان عبدالسید نے نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی سیاسی ساکھ اور فیصلوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

عبدالسید کا کہنا ہے کہ جب جنگ روکنے کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت تھی، تب جے ڈی وینس خاموش رہے۔ ان کے مطابق آٹھ ماہ گزرنے کے بعد جنگ کی مخالفت کرنا اصولی فیصلہ نہیں بلکہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے وینس کو بزدل قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مسلسل حمایت کرتے رہے، لیکن اب حالات بدلنے پر اپنا مؤقف بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ عبدالسید نے خبردار کیا کہ اگر وینس مستقبل میں صدارت کی دوڑ میں شامل ہوئے تو وہ عوام کے سامنے ان کے سیاسی کردار اور ماضی کے فیصلوں کو ضرور اٹھائیں گے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکمت عملی کو غلط قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق وینس اور ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھیوں نے صدر کو آگاہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی عوام میں مقبول نہیں اور اس کے سیاسی اثرات ریپبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

ان بیانات کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں یہ بحث اہمیت اختیار کر رہی ہے کہ جے ڈی وینس کی جنگ مخالف سوچ واقعی پالیسی میں تبدیلی ہے یا مستقبل کی انتخابی سیاست کا حصہ۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US