ترکیہ میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جانے والے ایک بزرگ امام کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ایئرپورٹ پر موجود زائرین کو غمزدہ کر دیا۔ 68 سالہ عبداللہ اوزکان سعودی عرب روانگی سے قبل اپنے ساتھیوں کے ساتھ دعا میں مصروف تھے کہ اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ زمین پر گر پڑے۔ بعد میں اسپتال میں ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی۔
عبداللہ اوزکان ترکیہ کے شہر کونیا کے علاقے بے شہر سے تعلق رکھتے تھے اور کئی برس تک امامت کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ وہ ایک عمرہ ٹریول کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے تقریباً 180 افراد کے قافلے کی رہنمائی کر رہے تھے۔ تمام مسافر احرام باندھ کر مکہ مکرمہ جانے کے منتظر تھے۔
ترک میڈیا کے مطابق رات دو بجے کے قریب سفر کی ضروری کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد زائرین ایک جگہ جمع ہوئے۔ اس موقع پر عبداللہ اوزکان نے اجتماعی دعا کروائی اور تلبیہ کے ساتھ درود و سلام پڑھنا شروع کیا۔ وہاں موجود افراد کا کہنا ہے کہ دعا کے اختتامی لمحات میں ان کی آواز اچانک کمزور ہوئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔
واقعے کے فوراً بعد طبی عملہ مدد کے لیے پہنچا اور انہیں بچانے کی کوشش کی گئی۔ ابتدائی طبی امداد اور سی پی آر دینے کے بعد انہیں سلجوق یونیورسٹی کے اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹر ان کی جان نہ بچا سکے۔ ابتدائی اطلاعات میں دل کے دورے کو موت کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔
مرحوم کے دیرینہ ساتھی اسماعیل گُمُش کے مطابق عبداللہ اوزکان گزشتہ 15 برس سے ان کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اس افسوس ناک واقعے سے پہلے ان کی طبیعت میں کسی خرابی کے آثار نظر نہیں آئے تھے۔
مقامی مذہبی رہنماؤں نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک نیک سیرت اور خدمت گزار انسان قرار دیا۔ جمعے کے روز بے شہر کی چارشی مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
عبداللہ اوزکان عمرے کی نیت سے گھر سے نکلے تھے، مگر ان کا یہ سفر ایئرپورٹ ہی پر ختم ہو گیا۔ ان کی اچانک وفات نے ساتھی زائرین اور اہلِ علاقہ کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا۔