نیتن یاہو کو بڑا سیاسی جھٹکا، عرب جماعتوں کی ممکنہ حمایت سے آئزنکوٹ کے وزیرِ اعظم بننے کے امکانات بڑھ گئے

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کی حمایت ملنے کے بعد اقتدار کا سیاسی منظرنامہ بدلتا نظر آ رہا ہے۔
عرب جماعتوں کی حمایت کے بعد آئزن کوٹ کو 67 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے، جب کہ نیتن یاہو پیچھے رہ گئے (فائل فوٹو)
Getty Images
عرب جماعتوں کی حمایت کے بعد آئزن کوٹ کو 67 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے، جب کہ نیتن یاہو پیچھے رہ گئے (فائل فوٹو)

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کی حمایت ملنے کے بعد اقتدار کا سیاسی منظرنامہ بدلتا نظر آ رہا ہے۔

جمعرات کو صدر آئزک ہرزوگ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے دوران عرب جماعتوں نے آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔

اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ عرب جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں۔ ان کی حمایت کے بعد اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئزن کوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، جو سادہ اکثریت کے لیے درکار تعداد سے 6 زیادہ ہے۔

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، 'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

دوسری جانب موجودہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو بڑا دھچکا پہنچا ہے، کیونکہ ان کی پرانی اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) کے ایک دھڑے نے بھی انھیں حمایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

’خراب اور بہت خراب میں سے ایک کا انتخاب‘

عرب جماعت رام کے رہنما منصور عباس نے جمعرات کو گاڈی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔

ان کی جماعت کے پاس آٹھ نشستیں ہیں۔ اس موقع پر عباس نے دو ریاستی حل (Two-State Solution) اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

انھوں نے حماس سمیت تمام مسلح اور فوجی تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا۔

رام جماعت اس سے پہلے بھی نفتالی بینیٹ کی قیادت میں قائم حکومت کی بیرونی حمایت کر چکی ہے۔

11 نشستوں والی دوسری بڑی عرب سیاسی جماعت جوائنٹ لسٹ نے بھی آئزن کوٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی نے اپنے اس فیصلے کو نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ’خراب اور بہت خراب‘ متبادل میں سے ایک انتخاب قرار دیا ہے۔

جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے کہا کہ ان کے وفد کا فیصلہ عرب ووٹروں کی تبدیلی کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں عرب شہریوں کو نسل پرستی، امتیازی سلوک، جرائم اور سیاسی و سماجی محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

جبارین نے کہا، ’عرب برادری کے لوگوں نے تبدیلی کی امید کے ساتھ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ تاہم، کئی معاملات پر ہمارے گاڈی آئزن کوٹ سے اختلافات موجود ہیں۔‘

ان اختلافات میں آئزن کوٹ کے سیاسی موقف اور انتخابی مہم کے دوران عرب شہریوں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز بیانات پر ان کا سخت مؤقف اختیار نہ کرنا بھی شامل ہے۔

انھوں نے کہا، ’ہم اچھے اور بہتر میں سے انتخاب نہیں کر رہے، بلکہ ہمارے سامنے خراب اور اس سے بھی زیادہ خراب متبادل موجود ہیں۔‘

دوسری جانب، سینئر عرب رکن پارلیمان احمد طیبی نے کہا کہ جوائنٹ لسٹ اقلیتی حکومت کی پارلیمان سے باہر رہ کر حمایت کر سکتی ہے اور ایوان میں ایک ’بلاکنگ بلاک‘ کا کردار ادا کرے گی۔ تاہم، پارٹی ایسی حکومت میں شامل نہیں ہو گی جس کے جلد گرنے کا خدشہ ہو۔

نیتن یاہو کے پرانے اتحادی نے بھی فاصلہ اختیار کر لیا

بنیامن نیتن یاہو
ABIR SULTAN / POOL / AFP via Getty Images
متحدہ تورات یہودیت (UTJ) کے ایک دھڑے نے بھی بنیامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے

وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کے پاس 53 نشستیں ہیں، لیکن انھیں تمام 53 ارکانِ پارلیمان کی حمایت ملنے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) کی سات نشستوں میں سے چار نشستوں کی نمائندگی کرنے والے دھڑے ڈیگل ہاتورہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی حمایت نہیں کرے گا۔

دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، انتہائی قدامت پسند مذہبی رہنماؤں نے نیتن یاہو سے فاصلے اختیار کر لیے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی حکومت حریدی برادری کے مردوں کو لازمی فوجی خدمت سے استثنیٰ دینے والا قانون منظور کرانے میں ناکام رہی ہے۔

ادھر نیتن یاہو کی جماعت لیکود مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ عرب جماعتوں نے بیرونی حمایت کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔ تاہم، اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

نیتن یاہو اور ان کی جماعت نے انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے چند واقعات کا ذکر ضرور کیا ہے، جن میں ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ووٹروں کو رشوت دینے کے الزام میں تین سیاسی کارکنوں کی گرفتاری بھی شامل ہے۔

ان کارکنوں کے رام پارٹی سے مبینہ تعلقات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم پارٹی نے اس معاملے میں کسی بھی قسم کے تعلق یا ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

گاڈی آئزن کوٹ کون ہیں؟

آئزن کوٹ
Jack GUEZ / AFP via Getty Images)
آئزن کوٹ کا بیٹا گال دسمبر 2023 میں غزہ میں لڑائی کے دوران مارا گیا تھا (فائل فوٹو)

گاڈی آئزن کوٹ اسرائیل کے شہر طبریہ (تیبیریاس) میں پیدا ہوئے تھے۔

اگر وہ وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو وہ اسرائیل کے پہلے مزراحی یہودی وزیرِ اعظم ہوں گے۔

مزراحی یہودیوں کا تعلق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے ہے، اور اسرائیل کی تقریباً نصف آبادی اسی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔

آئزن کوٹ نے 1978 میں لازمی فوجی سروس کے دوران اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی گولانی بریگیڈ میں شمولیت اختیار کرکے اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

1997 میں وہ اسی بریگیڈ کے کمانڈر بنے۔ بعد ازاں انھوں نے فوج میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور 2015 میں آئی ڈی ایف کے چیف آف جنرل اسٹاف مقرر ہوئے۔

فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے سیاست میں قدم رکھا اور اسرائیلی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں بھی شامل ہوئے تھے۔

دسمبر 2023 میں غزہ میں جاری لڑائی کے دوران ان کے بیٹے گیل آئزن کوٹ ہلاک ہو گئے۔ بعد میں انھوں نے اس تنازع میں اپنے دو بھتیجوں کو بھی کھو دیا۔

ستمبر 2025 میں آئزن کوٹ نے اپنی اعتدال پسند سیاسی جماعت یاشار قائم کی۔ عبرانی زبان میں ’یاشار‘ کا مطلب ’سیدھا، سچا یا دیانت دار‘ ہے۔

انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ وزیرِ اعظم بنے تو 18 ماہ کے اندر حماس کے عسکری ونگ اور اس کی قیادت کو ختم کرنے کے اپنے ہدف پر عمل کریں گے۔

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US