سعودی وزارتِ توانائی نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمارت پر میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے اسے معمولی نقصان پہنچا، تاہم کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔‘
سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو کا دفتر سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی ہےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اتوار کی صبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد سعودی حکام نے اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے یمنی حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت، مشرقی اور جنوبی علاقوں کی طرف داغے گئے متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ابتدائی طور پر تین بیلسٹک میزائلوں اور ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کیا، جبکہ بعد ازاں ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے مزید دو کروز میزائلوں کو بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، 'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
میزائل حملوں کے دوران ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (کافڈ) میں واقع سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک اہمانتظامی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے خبر سامنے آنے کے بعد سعودی وزارتِ توانائی نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمارت پر میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے اسے معمولی نقصان پہنچا، تاہم کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متعدد عینی شاہدین نے بتایا کہ آرامکو کی عمارت کو حملے میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مالیاتی مرکز میں واقع آرامکو ٹاور کی کئی منزلوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ دو دیگر عینی شاہدین نے بھی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کی۔
ان واقعات سے قبل سعودی محکمہ شہری دفاع نے ریاض کے علاقے میں ممکنہ فضائی خطرے کے پیشِ نظر ہنگامی انتباہ جاری کیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا، جبکہ شہری دفاع نے متاثرہ علاقوں میں خطرہ ٹل جانے کا اعلان بھی کیا۔
سعودی عرب نے ریاض میں آرامکو ٹاورز پر حملے کی تصدیق کی ہے اتحادی افواج کے مشرقی علاقے میں میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
اتحادی افواج نے اتوار کی صبح یہ بھی اعلان کیا کہ مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا ہے۔ ترجمان ترکی المالکی کے مطابق میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
تاہم دوسری جانب سعودی محکمہ شہری دفاع نے بتایا کہ دمام، ظہران، ابقیق اور حوفوف کے لیے جاری کیا گیا ہنگامی انتباہ واپس لے لیا گیا ہے اور ان علاقوں کو لاحق خطرہ ٹل گیا ہے۔
حکام کے مطابق شہریوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے قومی ہنگامی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
اس سے ایک روز قبل، یعنی سنیچر کو بھی ترکی المالکی نے اعلان کیا تھا کہ یمنی حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک کروز میزائل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
سعودی محکمہ شہری دفاع نے اتوار کی صبح مشرقی صوبے کے متعدد علاقوں، بشمول ظہران، دمام، ابقیق اور الاحساء سے خطرہ ختم ہونے کا اعلان کیا۔
مشرقی صوبہ سعودی عرب کے تیل اور گیس کے بیشتر ذخائر کا مرکز ہے۔ اسی علاقے میں دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں میں شمار ہونے والی سعودی آرامکو کا صدر دفتر بھی واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے ایک حملے میں بھی اس علاقے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

سعودی عرب میں آرامکو کے دفاتر اور اہم تنصیبات
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کا مرکزی صدر دفتر مشرقی صوبے کے شہر ظہران میں واقع ہے، جہاں کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ اور اہم انتظامی و آپریشنل شعبے کام کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ دارالحکومت ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (کافڈ) میں بھی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت موجود ہے۔ حالیہ میزائل حملے کے دوران اسی عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
آرامکو کی سرگرمیاں صرف ریاض اور ظہران تک محدود نہیں بلکہ اس کے دفاتر، صنعتی مراکز اور تیل و گیس کی تنصیبات سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔
مشرقی صوبے میں ابقیق اور راس تنورہ اس کے اہم مراکز میں شامل ہیں، جہاں تیل کی پراسیسنگ، ریفائننگ اور برآمد سے متعلق سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ الجبیل، دمام، الخبر، صفانیہ اور تنجیب میں بھی کمپنی کی مختلف صنعتی اور آپریشنل سرگرمیاں موجود ہیں۔
ملک کے دیگر حصوں میں جدہ، ینبع، رابغ اور جازان سمیت متعدد مقامات پر بھی آرامکو کے آپریشنز اور متعلقہ تنصیبات موجود ہیں، جبکہ حرض، شیبہ اور جفورہ اس کے اہم تیل و گیس منصوبوں میں شمار ہوتے ہیں۔
تاہم ان تمام مقامات کو کمپنی کے انتظامی دفاتر قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ان میں سے بیشتر تیل و گیس کی پیداوار، پراسیسنگ، ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے مراکز ہیں۔
سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حوثیوں کے ماضی کے حملے
ستمبر 2019: حوثیوں نے ابقیق اور خریص میں آرامکو کی اہم تنصیبات پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جس سے سعودی تیل کی یومیہ پیداوار میں تقریباً 57 لاکھ بیرل کی عارضی کمی ہوئی۔ حملوں کا الزام سعودی عرب اور امریکہ نے ایران پر عائد کیا تھا۔
مارچ 2021: حوثیوں نے راس تنورہ کی آئل ریفائنری اور ظہران میں آرامکو کے رہائشی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم سعودی حکام کے مطابق حملے ناکام بنا دیے گئے۔
مارچ 2021: ریاض میں آرامکو کی آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی تھی، جس پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مارچ 2022: حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے ینبع میں یاسرف ریفائنری کی پیداوار متاثر ہوئی، جبکہ جازان میں پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
صنعا کے قریب فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کے دعوے
دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یمنی حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت و ماحولیات کے مطابق صنعا کے مشرقی علاقے میں کیے گئے سعودی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے، جبکہ 39 افراد زخمی ہیں۔ حوثی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے سنیچر کو بتایا کہ دارالحکومت صنعا کے مشرق میں واقع بنی حشیش ضلع کے گاؤں الشریعہ میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 33 ہو گئی ہے، جبکہ 39 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے اس واقعے کو ’سعودی جارحیت کا ہولناک قتلِ عام‘ قرار دیا۔
اس سے قبل حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے ’سبا‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گاؤں الشریعہ میں شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل ’المسیرہ‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صنعا کے صوبے میں گاؤں الشریعہ پر سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی، جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔
سبا نیوز ایجنسی اور المسیرہ ٹی وی دونوں نے ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار حوثی انتظامیہ کی وزارتِ صحت کے حوالے سے جاری کیے۔
سبا نیوز ایجنسی نے ایک مقامی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے علاقے میں متعدد فضائی حملوں کے دوران چھ گھروں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امدادی کارکنوں اور جائے وقوعہ کی جانب جانے والی سڑکوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
المسیرہ ٹی وی کی جانب سے نشر کی گئی ایک ویڈیو میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان میں بچے بھی شامل تھے۔
چینل کے مطابق یہ افراد بنی حشیش ضلع میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔
تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق یہ اعداد و شمار حوثی انتظامیہ کے حکام اور ان کے زیرِ انتظام ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی کے لیے شامی فوج بھیجنے کی تردید
شامی حکام نے یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی کے لیے فوج بھیجنے کی خبروں کی تردید کی ہے، تاہم سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون، تربیت اور تجربات کے تبادلے سے متعلق معاہدوں کی تصدیق کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمنی حکومتی عہدیداروں نے سنیچر کو دعویٰ کیا تھا کہ شام نے سعودی عرب اور یمن میں فوجی اہلکار تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں اور حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت اور اتحادی افواج کی مدد کے لیے مزید فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
تاہم دمشق میں ایک شامی سفارتی ذریعے نے یمن میں فوج بھیجنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال یمن میں شامی فوجی دستے بھیجنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔‘
اس کے باوجود انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کے معاہدوں کی موجودگی کی تصدیق کی، جن میں فوجی تربیت، تجربات کا تبادلہ اور دفاعی امور پر مشاورت شامل ہے۔
سعودی عرب اور شام کے درمیان یہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں شام کے عبوری صدر احمد الشرع کے بدھ کو سعودی عرب کے دورے کے دوران طے پائی تھیں۔
اس دورے میں احمد الشرع نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں فوجی تعاون سے متعلق امور بھی شامل تھے۔
اے ایف پی کے مطابق تین فوجی ذرائع اور یمن کی وزارتِ دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکڑوں شامی فوجی سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے دونوں جانب تعینات ہیں۔
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’شام اور سعودی عرب کے درمیان حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے تقریباً تین ہزار جنگجو بھیجنے کا معاہدہ طے پایا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ احمد الشرع کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے دوران کیا گیا تھا۔
دوسری جانب شامی سفارتی ذریعے نے سرکاری خبر رساں ادارے ’سانا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ موجودہ فوجی معاہدے دونوں ممالک کے قومی مفادات کے پیشِ نظر تربیت، تجربات کے تبادلے اور فوجی مشاورت کے شعبوں میں تعاون تک محدود ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان معاہدوں کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔