بھارت میں مودی حکومت کے خلاف احتجاج میں شدت، 40 لاکھ طلبہ کے مظاہروں پر سیاسی حلقوں میں تشویش

image

بھارت میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی اور سیاسی مخالفت میں اضافے کے دعوے سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ مختلف طبقات کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں نے حکومتی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے 40 لاکھ طلبہ کے احتجاج کو ملک میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی علامت قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسانوں، نوجوانوں اور اقلیتوں سمیت مختلف طبقات کو معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ عوامی مفادات کو ترجیح دینے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف جذبات میں اضافے کے باعث ملک میں سیاسی تناؤ اور داخلی عدم استحکام کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں میں بنگلہ دیش اور نیپال جیسی صورتحال پیدا ہونے سے متعلق بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی امور کے بعض ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2 اکتوبر سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں نے بھارت میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تاہم بھارت میں خانہ جنگی شروع ہونے یا ملک گیر بغاوت کی صورتحال پیدا ہونے سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US