مریم نواز کے خلاف جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر نیب کی درخواست احتساب عدالت نے خارج کر دی

قومی احتساب بیورو کی جانب سے مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کروانے پر کارروائی کی درخواست عدالت نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔ Getty Images'ہڑبڑاہٹ میں جج اور نیب اپنا ہی تماشہ بنا بیٹھے'

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے میں داخل کی گئی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا ہے۔

جمعے کو احتساب عدالت نے اس معاملے کی سماعت کی تو مریم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مختصر سماعت کے بعد نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’ہڑبڑاہٹ میں جج اور نیب اپنا ہی تماشہ بنا بیٹھے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جیسے جج ارشد ملک کو میری پریس کانفرنس کے بعد اچانک یاد آیا کہ انھیں رشوت کی پیشکش کی گئی اور بلیک میل کیا گیا، اسی طرح نیب کی یادداشت ایک سال بعد لوٹ آئی اور اس کو یاد آیا کہ مجھے مزید سزا ملنی چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج دباؤ میں تھے‘

جعلی دستاویز کا معاملہ، مریم نواز احتساب عدالت طلب

نواز شریف کی سزا کی معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عدالت میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور صرف مقدمے سے متعلقہ افراد کو ہی احتساب عدالت میں داخلے کی اجازت تھی۔

پولیس نے اس موقع پر عدالت کے باہر موجود چھ خواتین کارکنوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ جلسے جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا

PMLNمریم نواز نے پیشی کے موقع پر اپنے والد کی تصویر والی قمیض زیبِ تن کر رکھی تھی

نیب کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی طرف سے عدالت کے روبرو جعلی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کروائی تھی جس پر کارروائی ہونا ابھی باقی ہے۔

نو جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر مریم نواز کو 19 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

قومی احتساب بیورو کی طرف سے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 'مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کر کے عدالت کو گمراہ کیا تھا لہٰذا عدالت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کو اس جرم میں بھی سزا سنائے۔'

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عدالت کے روبرو پیش کی جانے والی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالت نے اس کیس میں تین ملزمان کو سزا سنائی تھی لیکن جعلی دستاویز جمع کروانے پر عدالت نے علیحدہ سے مریم نواز کو سزا نہیں سنائی تھی۔

یاد رہے کہ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر تین افراد کو سزا سنائی تھی جن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں اس کے علاوہ میاں نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

https://twitter.com/MaryamNSharif/status/1152106890308009984

عدالت کی جانب سے اس کیس میں طلبی کے بعد مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 'پریس کانفرنس میں تمام سازشیں بے نقاب ہونے کے بعد گھبراہٹ میں حکومت نے میرے خلاف ایک اور مقدمہ قائم کردیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'بلانا ہے تو اپنے رسک پر بلانا! میری باتیں نا سن سکو گے نہ سہہ سکو گے! یہ نہ ہو کہ پھر سر پیٹتے رہ جاؤ!۔'

واضح رہے کہ سنہ 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

تاہم بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان سزاؤں کو معطل کر کے تینوں مجرموں کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

نیب کے حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے نیب کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.