سنگاپور کی جانب سے پیج بلاک کرنے کے حکم پر فیس ’انتہائی فکرمند‘

Getty Images
فیس بُک کا کہنا ہے کہ سنگاپور کی حکومت نے اپنے حکم میں ’اعتدال‘ کا مظاہرہ نہیں کیا گیا

سنگاپور کی جانب سے خبروں والے فیس بُک پیجِز تک رسائی بند کرنے کے حکم پر فیس بُک نے فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔

سنگاپور کا کہنا تھا کہ ’سٹیٹ ٹائمز ریویو‘ نامی سائیٹ نے ملک میں ’فیک نیوز‘ کے خلاف حالیہ عرصے میں متعارف کرائے جانے والے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ سائیٹ بار بار ’جھوٹ‘ پھیلانے کی مرتکب ہوئی ہے۔

اگرچہ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ ’قانونی طور پر مجبور‘ ہے کہ اس حکم پر عمل کرے، لیکن یہ حکم اس کے لیے ’شدید پریشانی‘ کا باعث ہے۔

فیس بک کا مزید کہنا تھا کہ سنگاپور کے اس حکم سے ’اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگ سکتی ہے۔‘

:

سنگاپور میں یہ نیا قانون اکتوبر میں نافذ کیا گیا تھا اور اسے’ آن لائن جھوٹ اور چالبازی سے تحفظ کا بِل‘ (پروٹیکشن فرام آن لائن فالسہُڈ اینڈ مینیپولیشن بِل) یا ’پوفما‘ کہا جاتا ہے۔

نیا قانون متعارف کراتے ہوئے سنگاپور کی حکومت کا کہنا تھا کہ اسے اس قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ جعلی خبریں نسلی اور مذھبی ہم آہنگی میں خلل پیدا کر سکتی ہیں اور حکومت کو ایسے اختیارات کی ضروت تھی جن سے ایسے جھوٹ کے خلاف فوری اقدامات کیے جا سکیں جو بہت تیزی سے پھیل جاتا ہے۔

اس حوالے سے فیس بُک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے احکامات بے اعتدالی پر مبنی ہیں اور ان سے حکومت کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ پوفما کو سینسر کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘

’ہم بار بار یہ نشاندھی کر چکے ہیں کہ یہ قانون ضرورت سے زیادہ سختی کا باعث بن سکتا ہے اور ہم اس بات پر بھی نہایت پریشان ہیں کہ یہ قانون سنگاپور میں آزادی اظہار پر پابندی کے حوالے سے (بری) مثال قائم کرے گا۔‘

اس پیج پر کیا پوسٹ کیا گیا تھا؟

سنگاپور کے حکام کا کہنا تھا کہ جنوری میں سٹیٹس ٹائمز ریویو (ایس ٹی آر) نے فیس بک پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں ’یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ سنگاپور میں منہ پر لگانے والے ماسک ختم ہو گئے ہیں۔‘ یہ مضمون کورونا وائرس کے تناظر میں لکھا گیا تھا اور وائرس کے سنگاپور میں پھیلنے کے خدشات کے بعد بہت سے لوگوں نے ماسک خریدنا شروع کر دیے تھے۔

اگرچہ سنگاپور اپنے ہاں کورونا وائرس کے درجنوں مریضوں کے بارے میں بتا چکا ہے، تاہم حکومت کا موقف یہی رہا ہے کہ وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس کے پاس خاطر خواہ انتظامات موجود ہیں۔

ایس ٹی آر کی جانب سے فیس بُک پر مذکورہ مضمون شائع کیے جانے پر حکومت نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک تصحیح جاری کرے جس میں لکھا جائے کہ اس نے جو معلومات شائع کی تھیں وہ غلط تھیں، تاہم حکومت کے اس حکم کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔

پھر 15 فروری کو وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایس ٹی آر کو حکم دیا کہ وہ اپنے فیس بُک پیج پر یہ نوٹس لگائے کہ یہ ایک ’ڈیکریئڈ آن لائن لوکیشن‘ (اعلانیہ آن لائن سائیٹ) ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی اس پیج پر آئے وہ ’خبردار رہے کہ اس پیج کی تاریخ ہے کہ یہاں جھوٹی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔‘

ایس ٹی آر نے اپنے پیج پریہ نوٹس نہیں لگایا۔ بلکہ حکام کا کہنا تھا کہ یہ پیج چلانے والوں نے اپنا یو آر ایل ہی تبدیل کر دیا، جس کے بعد وزارت کو فیس بُک کو لکھنا پڑا کہ وہ سنگاپور میں رہنے والے صارفین کی رسائی بند کر دے۔

وزیرِ اطلاعات و نشریات ایس ایساوان کا کہنا تھا کہ وائرس کی وبا کے تناظر میں اس قسم کی جھوٹی خبروں کے خلاف ’فوی اقدامات‘ کرنا خاص طور پر اہم ہو چکا تھا۔

’اگر ہم ایسا نہ کریں تو اس قسم کے جھوٹ سے (لوگوں میں) بے چینی، خوف، حتیٰ کہ افراتفری پھیل سکتی ہے۔‘

گزشتہ نومبر سے اب تک ایس ٹی آر کے فیس بُک پیج کو تین مرتبہ حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ اپنے مواد میں تصحیح کرے۔

اس دوران جب فیس بُک کو ایک مرتبہ ہدایت کی گئی کہ وہ ایس ٹی آر کے صحفے پر تصحیح شائع کرے تو فیس بک نے اس حکم پر عمل کر دیا تھا۔ فیس بُک کی انتظامیہ نے مذکورہ نوٹس میں لکھا تھا کہ ’قانون تقاضہ کرتا ہے کہ فیس بُک آپ کو مطلع کرے کہ سنگاپور کی حکومت کے بقول (اس پیچ پر شائع ہونے والی فلاں پوسٹ) جھوٹ تھی۔‘

ایس آر ٹی کے ایڈیٹر، ایلکس ٹین ہیں جن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور گزشتہ برس انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’ایک غیر ملکی حکومت کے حکم پر عمل نہیں کریں گے۔‘

اگر فیس بُک حکم پر عمل نہ کرتا تو کیا ہوتا؟

پوفما کا قانون سنگاپور کی حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ کسی خبر کو ’جھوٹ سمجھتی ہے` یا یہ سمجھتی ہے کہ یہ خبر ’مفاد عامہ کے خلاف ہے` تو وہ مذکورہ آن لائن پلیٹ فارم کو حکم دے سکتی ہے کہ اس مواد کو ہٹائے یا اسے درست کرے۔

یوں اگر حکومت یہ سمجھتی کہ فیس بُک نے اس کے حکم پر عمل نہیں کیا تو فیس بُک قانون شکنی کا مرتکب ٹھہرتا۔

اگر ایسا ہوتا تو فیس بُک کو 20 ہزار ڈالر یومیہ کا جرمانہ ہو سکتا تھا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد پانچ لاکھ ڈالر ہے۔

یاد رہے کہ ایشیا پیسیفِک کے ممالک کے لیے فیس بُک کا صدر دفتر سنگاپور میں ہے۔ اس کے علاوہ فیس بُک نے اپنا ڈیٹا سینٹر تعمیر کرنے کے لیے ملک میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ اس سینٹر کا افتتاح 2022 میں متوقع ہے۔

فیک نیوز کے قانون کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے؟

سنگاپور کی حکومت نے ذرائع ابلاغ پر ہمیشہ مضبوط گرفت رکھی ہے۔ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کی جانے والی عالمی درجہ بندی میں اس سال 180 ممالک میں سنگاپور کا نمبر 151واں رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون سے آزادی اظہار کو خطرہ ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اس قانون سے ’حکومت کو اس کی مرضی کے خلاف آن لائن شائع ہونے والے خیالات کی سرکوبی کرنے کے لیے بے لگام اختیارات مل جائیں گے۔‘

لیکن سنگاپور کے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ’اس بل سے آزادی اظہار کو متاثر نہیں ہونا چاہیے‘ کیونکہ اس قانون کا مقصد صرف ’فیک اکاؤنٹس، ٹرولز اورایسی خبروں کا سدباب کرنا ہے جو جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں۔‘


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

3