پاکستان افغانستان میں کارروائی کیلئے امریکی اڈہ نہیں بن سکتا،صدر

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ پاکستان، امریکا کی افغانستان سے واپسی کے بعد کارروائیوں کیلئے اس کا اڈہ نہیں بنے گا، پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ردعمل میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق پارلیمان کی سفارش پر ہی حکومت کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔

اسلام آباد میں کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے فیصلے وفاقی حکومت کا استحقاق ہے تاہم پارلیمنٹ اپنی سفارشات سامنے لاسکتی ہے، ایک جمہوری ملک ہونے کی حیثیت سے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی تاکہ عوام کے جذبات کی عکاسی ہوسکے اور پارلیمان ہی وہ فورم ہے جہاں عوام کی خواہشات کا صحیح اظہار ہو سکتا ہے۔

فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ قرارداد کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا، تاہم اُنہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ سفیر کو نکالنے سے پاکستان کو معاشی نقصان ہو گا۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مذہبی طبقے کا پُرتشدد احتجاج بعض یورپی ممالک کے اسلام کے حوالے سے اقدامات کا نتیجہ ہے، جس نے ایسے وقت میں تہذیبوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جب دنیا کو امن کی ضرورت ہے، مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کی آڑ میں ایسی بات کروں جو کسی کو تکلیف پہنچائے، یورپ میں ہولوکاسٹ سے متعلق بات کرنا قانونی طور پر جرم قرار دیا گیا ہے، پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

افغانستان سے امریکی انخلاء

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے پروگرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ یہ امن کی جانب بہتر قدم ثابت ہو گا، یہ بات خوش آئند ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے جو مؤقف پاکستان کا تھا آج دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف نائن الیون کے بعد سے یہ کہتی رہی ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امن کے ساتھ ساتھ افغانستان کی تعمیرِ نو کیلئے بھی دنیا کی طاقتیں اور ہمسایہ ممالک مل کر کام کریں۔

عارف علوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا افغانستان کے استحکام اور تعمیرِ نو میں کلیدی کردار ہو گا جب کہ تعلیم، صحت اور تعمیرات میں اسلام آباد، کابل کی بھرپور معاونت کرے گا،

صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان ستمبر میں پڑوسی ملک سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے بعد “افغانستان میں امریکی کارروائی کا اڈہ” نہیں بن سکے گا۔

پاکستان کے صدر کہتے ہیں کہ وہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن سے پہلے ہی متاثر ہیں اور بائیڈن انتظامیہ کے دور میں واشنگٹن سے اچھے مراسم کی توقع رکھتے ہیں، صدر بائیڈن جنگ سے زیادہ امن کیلئے سرمایہ کاری پر یقین رکھتے ہیں اور اس بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتری کی جانب جائیں گے۔

اٹھارویں ترمیم

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئین پاکستان میں 18 ویں ترمیم پر وزیرِ اعظم عمران خان کے اعتراضات جائز ہیں کہ وسائل کے اعتبار سے وفاق کا حصہ بڑھنا چاہیے، وفاق نے اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں رکھا ہے جس پر بات ہوتی رہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جس طرح آئین میں بہتری کیلئے ترمیم لائی جاسکتی ہے، اسی طرح اٹھارویں ترمیم میں بہتری کیلئے اس میں بھی ترامیم لائی جاسکتی ہیں، 18 ویں ترمیم مجموعی طور پر ایک مناسب آئینی ترمیم تھی جس میں 58 ٹو بی کی صدارتی تلوار ہٹائی گئی اور قومی وسائل پر صوبوں کو بہت سے اختیارات دیئے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات

صدر نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سرحد پر جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق کا پاکستان کی کشمیر پالیسی سے براہ راست تعلق نہیں ہے، جنگ بندی معاہدہ خوش آئند ہے اور یہ کہنا کہ اس عمل سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف کمزور ہو گا غیر مناسب بات ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے تک بھارت سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

افغانستان میں بھارتی عزائم

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسلام آباد دنیا کو آگاہ کر چکا ہے کہ نئی دہلی افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے بلوچستان میں مداخلت اور دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے، پاکستان اس حوالے سے محض الزامات نہیں بلکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی صورت میں دنیا کے عالمی فورمز پر ثبوت بھی رکھ چکا ہے۔

استنبول میں ہونیوالی افغان امن کانفرنس سے متعلق صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان کو ترکی میں عید کے بعد ہونیوالی کثیر الملکی کانفرنس میں شرکت پر قائل کرنے کی کوشش کرے گا، پاکستان امن کیلئے بات چیت کے ذریعے کردار ادا کرتا رہا ہے تاہم اس حوالے سے فیصلہ طالبان نے خود کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دے کر دنیا کیلئے رواداری کی ایک مثال قائم کی ہے اور اس حوالے سے دنیا کو پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہیے۔

صدارتی آرڈیننسز اور حزب اختلاف

ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کے عدم تعاون کی وجہ سے حکومت زیادہ قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے مگر چوں کہ حکومتی امور کو چلانے کیلئے قوانین میں تبدیلی اور نئے قوانین ناگزیر ہیں، اس لیے صدارتی حکم ناموں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کو پارلیمنٹ کو بہتر طور پر چلانے اور قانون سازی کے حوالے سے آپس میں مشاورت کرنی چاہئے اور ایسے بہت سے قومی معاملات ہیں جن پر دونوں بینچز ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں۔

عارف علوی کہتے ہیں کہ حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان مفاہمت میں احتساب کا عمل حائل ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ احتساب ہونا چاہئے البتہ یہ ضروری ہے کہ اس عمل میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نااہلی کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس پر بات کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ عدالت نے جو فیصلہ دیا درست دیا، صدر کے ماتحت کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں لہٰذا کوئی ریفرنس آتا ہے تو میرے پاس بہتر راستہ یہ ہے کہ اسے فیصلے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل بھجوادوں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

37