عالمی برادری افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے کردار ادا کرے، سیکرٹری خارجہ

image

سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں کسی بھی انسانی المیے سے بچنے کیلئے کردار ادا کرے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  سیکرٹری خارجہ سہیل محمود سے نیٹو وفد کی ملاقات ہوئی ہے ، نیٹو وفد کی قیادت نیٹو کے سینئر سول نمائندے اسٹیفانو پونٹیکورو نے کی۔

 ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد ملاقات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے وفد کو پائیدار اور مستحکم افغانستان کیلئے پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا جبکہ سہیل محمود نے افغانستان سے غیر ملکی انخلاء مشن میں پاکستان کے کردار بارے بھی آگاہ کیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق ملاقات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا کہ عالمی برادری افغانستان میں کسی بھی انسانی المیے سے بچنے کیلئے کردار ادا کرے۔

  ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد کا مزید کہنا ہے کہ ملاقات میں اسٹیفانو پونٹیکورو نے پاکستان کی طرف سے نیٹو اتحادیوں کے انخلاء میں مدد پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے اس سے قبل پاک  فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے نیٹو کے سینئر سول نمائندے اسٹیفانو پونٹیکورونے جی ایچ کیو میں ملاقات کی تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، خطے کی صورتحال بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی تھی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نیٹو نمائندے نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا جبکہ نیٹو نمائندے نے بالخصوص غیرملکیوں کے کامیاب انخلاء آپریشنز اور خطے کے استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

آئی ایس پی آر کا  مزیدکہنا تھا  کہ  نیٹو نمائندے نے افغانستان کے معاملے پر نیٹو ممالک کے پاکستان کے ساتھ روابط اور تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کے لئے عالمی برداری کو افغانستان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.