پاکستان:مردانہ کمزوری کااپنی نوعیت کاپہلا کامیاب آپریشن

image
پاکستان کے ماہر ریڈیالوجسٹ نے مردانہ کمزوری کا شکار نوجوان شخص کو پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے ‘ریڈیالوجیکل انٹروینشن’ کے ذریعے بیماری سے نجات دلانے کا دعویٰ کیا ہے۔

معروف انٹروینشنل ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر کاشف شازلی کے مطابق 29 سالہ شخص ‘وینس لیک’ نامی بیماری کا شکار تھا جس کے نتیجے میں وہ شادی کے قابل نہیں تھا، ریڈیولوجیکل پروسیجر کے ذریعے انہوں نے وینس لیک کو رپیئر کیا اور اب ان کا مریض اپنی کمزوری سے نجات پا چکا ہے اور جلد اس کی شادی ہونے جا رہی ہے۔

پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی مردوں کو جنسی مسائل کا سامنا رہتا ہے اور ان میں سے اکثریت کو یہ علم ہی نہیں کہ انہیں علاج کے لیے کس معالج کے پاس جانا چاہیے اور یوں وہ اتائیوں کے پاس جاکر پیسہ اور صحت دونوں خراب کر بیٹھتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

کراچی کے ضیا الدین اسپتال میں انٹرووینشنل ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر کاشف شازلی اور ڈاکٹر عمران علی کے مطابق 29 سالہ نوجوان کو وینس لیک کے مسائل کا سامنا تھا جس کی وجہ سے وہ امپوٹینس یعنی مردانہ کمزری کے مسائل کا شکار تھا اور اس کمزوری کی وجہ سے وہ شادی نہیں کر پارہا تھا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراک “اینڈو ویسکیولر ایمبولائزیشن آف پیری پروسٹیٹک وینس بلیکسیس پروسیجر” کے ذریعے انہیں شادی کے قابل بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہمارے معاشرے میں مردانہ کمزوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی غلط تشخیص ہوتی ہے اور پھر اس غلط تشخیص کے نتیجے میں غلط علاج ہوتا ہے،اس معاملے میں غلط فہمیاں اور اتائیت بہت زیادہ ہے۔

ڈاکر کاشف شازلی کہتے ہیں مردانہ کمزوری کی 4 وجوہات ہوتی ہیں۔ جس میں عمر کے ساتھ ساتھ مردانہ عضو کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے جسے سینائل ڈی جنریشن کہتے ہیں جس میں نسوں میں خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے۔

یہ قدرتی عمل ہے لیکن جوانی سے ادھیڑ عمر تک جو کارکردگی ہونی چاہیے اس کی چار وجوہات ہیں، ایک وجہ ہارمونل ہوتی ہے، یعنی جوہارمونز اس خصوصیت کو بڑھاوا دیتے ہیں ان کی کمی ہوجاتی ہے، دوسرا ذیابطیس یا بلڈ پریشر کے مرض کی وجہ سے خون لے جانے والی نالیوں میں کمی یا ان کا ڈائیا میٹر کم یا سکڑ جاتا ہے۔ تیسری وجہ جو سب سے زیادہ عام ہے، مریض نفسیاتی طور پرخودکو اندر سے کمزور سمجھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ  یہ عمل کرنے کے قابل نہیں، 80سے 90فیصد نوجوان اسی سائیکوجینک مسئلے کا شکار ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ڈپریشنز، معاشرتی اور معاشی حالات، ٹینشنز یہ مردوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں، اس کی وجہ سے ان کی جنسی کارکردگی پر فرق پڑتا ہے، معاشی حالات کی وجہ سے لوگ دو دو تین تین نوکریاں کرتے ہیں، جسمانی تھکاوٹ، جسم کو آرام نہ ملنا، ورزش نہ کرنا اور پھر جو غذا ملنی چاہیے وہ نہیں مل رہی، یہ ساری چیزیں مردانہ کمزوری کا سبب ہیں۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے وینس لیک کے کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایریکشن کے وقت قدرتی طور پر خون عضو تناسل میں داخل ہوتا ہے اور خون کو ایک وقت مقرر تک اس مقام پر رکنا چاہیے۔ اس پورے عمل کے دوران قدرت نے خون کا بہاؤ عضوا تناسل کے اندر آنے کا راستہ رکھا ہے اور اس عمل کے دوران خون کا بہاؤ باہر جانے سے رک جاتا ہے اور بہت کم مقدار میں خون باہر دل کی طرف جاتا ہے۔ بعض نوجوانوں میں قدرتی طور پر خون جس رفتار سے آرہا ہے اسی رفتار سے واپس بھی جاتا ہے۔ جسے وینس لیک کہتے ہیں جس کی وجہ سے نارمل پرفارمنس نہیں ہوتی۔ایسے مریضوں کو علم نہیں ہوتا وہ کہاں جائیں، وہ سڑکوں پر لکھے اشتہارات اور اتائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور یوں وہ اپنی صحت اور پیسہ دونوں برباد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کاشف شازلی کاکہنا تھا کہ وینس لیک کا ایشو نوجوانوں میں عام ہے۔ اس عمل کے دوران جو وینز بند ہونی چاہیے وہ کھلی رہ جاتی ہیں اور کارکردگی وہ نہیں رہتی جو ہونی چاہیے، اس کا جدید علاج یہاں موجود ہے جو پوری دنیااستعمال کر رہی ہے۔ جس طرح کارڈیک انجیوگرافی کی جاتی ہے بالکل اسی طرح عضو خاص کی انجیوگرافی کی جاتی ہے۔اُن رگوں کو جو عضو خاص کو ڈرین کر رہی ہوتی ہیں انہیں خاص گلو اور کوائل کے ذریعے بند کردیتے ہیں۔ جب وہ رگیں بند ہوجاتی ہیں جس وقت خون کا دورانیہ عضوخاص میں اندر کی طرف آتا ہے تو واپسی کا راستہ رکاوٹ کا شکار ہوتا ہے اور وہ بہاؤ رک جاتا ہے اور کارکردگی نارمل ہوجاتی ہے۔اس عمل کو ہم “اینڈو ویسکیولر ایمبولائزیشن آف پیری پروسٹیٹک وینس بلیکسیس” کہتے ہیں۔ اس پروسیجر کے دوران وینز یا رگوں کا گچھا بند کرنا ہوتا ہے۔

حال ہی میں جس نوجوان کا پروسیجر کیا ہے وہ اس مسئلے کی وجہ سے شادی نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ اسے یہ اعتماد ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کو نارمل گزار سکے گااور نفسیاتی مسائل کا شکار تھا۔ یہ نوجوان کئی جگہوں کے دھکے کھانے کے بعد ہم تک پہنچا تھا۔عام طور پر یورولوجسٹ یعنی جو گردے مثانے کا معالج ہوتا ہے وہ اس کا علاج کرتا ہے۔ وہ اس کے لیے کچھ ٹیسٹ کروالیتے ہیں وہ ٹیسٹ ہم بھی کرواتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ایسے مریضوں کا نفسیاتی معائنہ بھی کرایا جاتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ سائیکوجینک وجوہات کی وجہ سے ایسا ہورہا ہو۔ ہارمونل ایوویلویشن بھی کرتے ہیں کہ ہارمونز کا لیول نارمل آرہا ہے کہ نہیں۔ اگر یہ سب نارمل ہے  یعنی ہارمونز نارمل ہیں، خون کا اندر کی جانب بہاؤ بھی نارمل ہے جو الٹراساؤنڈ ڈوپلر کے ذریعے پتہ چلتا ہے اور کوئی سائیکوجینک وجہ بھی نہیں ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر وینس لیک کا ایشو ہے۔

“اس مریض کو وینس لیک کا ایشو تھا۔ چند بڑے اداروں سے اس کا الٹرا ساؤنڈ ہوتا ہے جو چالیس منٹ تک چلتا ہے” ڈاکٹر کاشف شازلی بتایا اور دعویٰ کیا کہ یہ پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس کا مردانہ کمزوری کا کامیابی کے ساتھ علاج ہوا ہے۔ یہی علاج یورپ اور امریکہ میں بہت مہنگاہے، اس کی انوینٹری مہنگی ہے سامان باہر سے آتا ہے، اس پروسیجر کے بعد مریض کو دوسرے تیسرے دن سے آفاقہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔اسے رات میں جسم میں جو تبدیلیاں آنا ہوتی ہیں وہ شروع ہوجاتی ہیں۔خون کا دورانیہ عضوخاص میں بہتر ہوتا چلاجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس کا علاج پانچ گنا سستا ہے، سامان پر منحصر ہے کتنا سامان استعمال ہوگا، بعض لوگوں میں دونوں وینز کھلی ہوتی ہے بعض میں ایک وین کھلی ہوتی ہے، جتنا کوائل اور گلو استعمال ہوتا ہے اس حساب سے انوینٹری بنتی ہے، اس حساب سے پاکستان میں اوسطا 4سے 7لاکھ خرچ آتا ہے۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے بتایا کہ جب مرد جوان ہوتا ہے تو اسے اپنے جسم کی ساخت کا علم ہوتا ہے۔پھر لوگ لٹریچر سرچ کرتے ہیں جن کی شادیاں کم عمری میں ہوتی ہیں انہیں اپنی کارکردگی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ہمارے ہاں شادیاں ہی لیٹ ہوتی ہیں اس لیے تیس اور بتیس سال تک بھی لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا، ہمارے ہاں اس پر منفی مواد بہت زیادہ موجود ہے۔جسے پڑھ کر نوجوان مزید ڈپریسڈ ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے کہا کہ رات کے وقت مردانہ جسم میں ایک خاص تبدیلی رونما ہوتی ہے جورات کے آخری حصہ میں پیدا ہوتی ہے یہ ہارمونل تبدیلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر نوجوانوں میں روزانہ یا ہر دوسرے دن یہ عمل ہو رہا ہے تو یہ نارمل کہلائے گا۔ اگر کسی کو یہ تبدیلی رونما نہیں ہورہی تواسے گردے مثانے کے مستند معالج کے پاس جانا چاہیے اور کسی گھریلو، دیسی ٹوٹکے یا حکیمی نسخوں سے گریز کرنا چاہیے۔

عام طور پراس کی تشخیص ریڈیالوجی کے ذریعے سی ٹی اسکین اور الٹراساؤند کے ذریعے ہوتی ہے۔وہاں سے مریض ہمارے پاس ریفر ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کوئی ڈیٹا موجود نہیں کہ پاکستان میں کتنے مرد امپوٹینس کا شکار ہیں لیکن دنیا کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ اس کی چار وجوہات ہیں اور سائیکوجینک اس کی لیڈنگ وجہ ہے یعنی نفسیات اور ڈپریشن کی وجہ سے مردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے بتایا کہ بعض یورپین ممالک میں پینائل امپلانٹس لگائے جاتے ہیں، عضو کے اندر امپلانٹ کردیا جاتا ہے۔ پینائل امپلانٹس بڑے آپریشن کے ذریعے ہوتے ہیں اس میں خاص میٹریل کے پینائل امپلانٹس رکھے جاتے ہیں جس کا کنٹرول کھال کے نیچے بٹن کے ذریعے دے دیاجاتا ہے جس وقت یہ خواہش پیدا ہو اس بٹن کو دباتے ہیں تو اپلانٹ میں فلیوڈ بھر جاتا ہے اور پھر وہ عمل پرفارم ہوتا ہے،اس آپریشن کے کامیابی کے امکانات ذیادہ ہیں لیکن اس کی اپنی پیچیدگیاں ہیں اور یہ ایک بہت مہنگا طریقہ علاج ہے۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے کہا کہ ان فرٹیلیٹی یعنی مردانہ نابجھ پن کا مطلب ہے کہ جو تولیدی جثیمے خصیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کی کمی کا ہونا مردانہ بانجھ پن کا سبب ہوتا ہے ، ایک مرد جو اندر سے کمزور نہیں ہے لیکن اس کے سفید جرثومے کم ہیں اس کو ان فرٹیلٹی یا مردانہ بانجھ پن کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ مردوں میں مردانہ کمزوری ہوگی لیکن اسپرم کائونٹ نارمل ہوگا، اسی لیے اسپرم کائونٹ سب سے پہلے کرتے ہیں کہ سب سے پہلے دیکھا جائےکہ یہ  تولیدی جرثوموں کا ہی تو مسئلہ نہیں ہے ۔اسپرمز بننے کا عمل ہارمونز کے زیراثرہے۔

ڈاکٹر کاشف شازلی نے کہا کہ ایک چیز پری میچور ایجیکیولیشن اورامپوٹینس ہے، امپوٹینس نارمل کارکردگی کانہ ہونا ہے یعنی ایریکٹائل ڈس فنکشن جس میں عضو تناسل ایریکٹ نہیں ہوپاتا ہے اس کی وجہ سےنارمل کارکردگی نہیں دکھا پا رہا ہوتا ہے ، پری میچورایجوکیولیشن قدرت نے انسان میں ایک نارمل صلاحیت رکھی ہے جو میاں بیوی کے ملنے کی صورت میں ایک وقت مقرر تک مرد اسے روک کر رکھ سکتا ہے جس کا تعلق ماحول اور نفسیات سے ہوتا ہے، اگر ہولڈ کرکے نہیں رکھ پا رہا اور دس سے بیس سیکنڈ میں ڈرین ہو رہا  تو اس کو پری میچورایجیکیولیشن کہتے ہیں-  پری میچور ایجیکیولیشن کی بنیادی وجہ نفسیاتی یاسائیکولوجیکل ہے۔ ہمارے ہاں معاشرہ گھٹن کا شکار ہے اس پر بات نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں لڑکوں لڑکیوں کی کوئی اس بارے تعلیم نہیں ہے۔ دین میں اس پر پوری گائیڈ لائنز موجود ہیں۔ اس پر علماء کو بھی بات کرنے کی ضرورت ہے، جب نوجوانوں کو صحیح سمت سے رہنمائی نہیں ملتی تو پھر وہ آن لائن مواد تلاش کرتے ہیں اور عام طور پر سرچنگ کے دوران انہیں غلط مواد ملتا ہے، اخباروں میں غلط اشتہارات چھپتے ہیں وہ پڑھتے ہیں، اتائیوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ،نیٹ سے سرچ کرکے غلط دوائیں استعمال کرنی شروع کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امپوٹینس کے لیے دنیا کی سب سے مشہور دوا پاکستان میں رجسٹرڈ ہی نہیں ہے لیکن مارکیٹ میں بلیک میں بہت مہنگی بک رہی ہے۔ بہت بڑی مقدار میں پاکستان میں آتی ہے کیونکہ قانونی چیز موجود نہیں ہے لوگ غیر قانونی ذرائع استعمال کرتے ہیں، دو نمبر دوائیں، ٹانکس، کُشتے چھپ چھپ کر بیچے جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کاشف شازلی نے بتایا کہ سائنٹیفک ایسا کوئی ڈیٹا موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ جوانی کے غلط کاموں سے مردانہ کمزوری لاحق ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو اتنا مضبوط بنایا ہے کہ اگر وہ روزانہ بھی اس عمل سے گزرے اور ایک دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی گزرے تو اس میں یہ صلاحیت واپس آجاتی ہے۔ جائز اور حلال کام کرنے سے پرفارمنس خراب نہیں ہوتی ۔ 15 سے 65 سال کی عمر تک فرق پڑ سکتا ہے لیکن ختم نہیں ہوتی۔ سائیکلوجیکل مسئلہ بن جاتا ہے ڈپریشن میں بدل جاتی ہے ڈپریشن سائیکوجینک کاز آف ایریکٹائل ڈس فنکشن میں بدل جاتا ہے اور کارکردگی خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 40 سے زائد عمر کے نارمل مردوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ  پہلے جیسی کارکردگی نہیں۔ ایک تو عمر بڑھنے کے ساتھ قدرتی ہارمونل تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ اپنی جگہ لیکن ہمارے ہاں جس تیزی سے یہ تبدیلی آتی ہے اس کے اسباب بہت واضح ہیں۔ اس کی دنیا بھر میں سب سے بنیادی وجہ سائیکوجینک ہے۔ ملک کےمعاشی حالات اور لوگوں کےمعاشی حالات خراب ہوئے ہیں، خوراک کے اوقات کار تبدیل ہوگئے، معاشرے میں صحت مند اشیاء موجود نہیں، دودھ سمیت ہر چیز میں ملاوٹ ہو رہی ہے ، کوئی خالص چیز موجود نہیں، لوگوں کی استطاعت نہیں برانڈیڈ یا اچھی چیزیں خرید سکیں۔

ڈپریسو قسم کے ماحول خاص کر شہری بالخصوص کراچی کے حالات اس وقت صحت مند زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ تمام چیزیں مردانہ طاقت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔مرد جب گھر پہنچتے ہیں شام ڈھل رہی ہوتی ہے۔ اکثریت پبلک ٹرانسپورٹ کے طویل سفر کرکے گھر پہنچتی ہے۔ ماس ٹرانزٹ پروجیکٹ موجود نہیں۔ گھر پہنچتے ہیں تو تھکن کا شکار ہوتے ہیں، جسم کو نیند اور سکون چاہیے ایسے میں تھکا ہارا شخص کیسے پرفارمنس دے گا۔

اس سارے تناظر کو دیکھنے کی ضرورت ہے نارمل افراد کو لائف اسٹائل بہتر کرنے کی ضرورت ہے، روزانہ ورزش کرنی چاہیے۔ لائف اسٹائل تبدیل کیے بغیر کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ لوگ تاخیر سے رات کا کھانا کھاتے ہیں۔ مرغن غذائیں، پیٹ بھرکر کھاتے ہیں اور جوکھاتے ہیں غیر صحت مند ہے یہ سب کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جتنا معدہ خالی رہے گا اتنی کارکردگی بہتر ہوگی۔

معروف یورولوجسٹ ڈاکٹر سمیع اللہ گل نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ پاکستان میں مردانہ کمزوری کا علاج یورولوجسٹ کرتا ہے ، اس کی سپر اسپیشلٹی سیکسالوجسٹ ہوتا ہے جو یورولوجسٹ ہی کی سپر اسپیشلٹی کہلاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مردانہ کمزوری کے لیے یورولوجسٹ ہی بہترین انتخاب ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ مسئلہ کہاں ہے اگر وہ مسئلہ حل کر سکتا ہے تو ٹھیک یا اگر ویسکیولر لیکج یا ویسلز کا مسئلہ درپیش ہے یا ریڈیالوجی کے لیے کسی انٹروینشن کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر یورولوجسٹ اسے دوسرے ماہرین کے پاس بھیج دیتا ہے، باقی تمام یورولوجسٹ امپوٹینسی کا علاج کر سکتے ہیں ۔

یہ اس پر منحصر ہے کہ امپوٹینسی کی گریڈنگ کیا ہے اگر سیویئر امپوٹینسی ہے تو پھر تمام یورولوجسٹ اسکا علاج نہیں کرسکتے ۔اگر امپوٹینسی شوگر کی وجہ سے ہے تو پھر اینڈوکرائنالوجسٹ کو شامل کرتے ہیں، اگر کسی چوٹ کی وجہ سے عضوخاص ختم ہوجائے پھر اسے یورولوجسٹ کی سپر اسپیشلٹی جس کے پاس ہو اس کے پاس بھیجاجاتا ہے ،ابتدائی اسٹیج کی امپوٹینسی کا علاج ہر یورولوجسٹ کرلیتا ہے۔

پاکستان کے معروف اینڈوکرائنالوجسٹ اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف اینڈو کرائینولوجی اینڈ ڈائبیٹالوجی سے وابستہ ماہر ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ ذیابطیس میں مبتلا ضلع 80 فیصد افراد مردانہ کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں،

پاکستان میں ہر چوتھا شخص ذیابطیس کی بیماری کا شکار ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ذیابطیس کا شکار مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد مردانہ کمزوری کا شکار ہے، ان کا کہنا تھا کہ مردانہ کمزوری کا علاج یورولوجسٹ اور اینڈوکرائنالوجسٹ کرتے ہیں، اگر ضرورت پڑے تو پھر ایسے مریضوں کو ریڈیالوجسٹ کے پاس ریفر کر دیا جاتا ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.