پیٹرول 50، ڈیزل 55 روپے سستا۔۔۔

image

پاکستان میں اگلے دو دن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے۔

عالمی مارکیٹ میں آئل ریفائنریز کے جاری اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کی قیمت میں ہونے والی حالیہ تبدیلی دنیا بھر کی  پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگی۔

خیال رہے کہ امریکی خام تیل 2 ڈالر اضافے سے 81 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل ایک ڈالر 70 سینٹ اضافے سے 83 ڈالر 70 سینٹ میں فروخت ہورہا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ہونے والے اضافے کے سبب مقامی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 25 پیسے، ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 75 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 50 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ ہے۔

تاہم، ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں کہانی کچھ اور ہے، بھارت میں پیٹرول پاکستان کے مقابلے 50 روپے جبکہ ڈیزل 55 روپے سستا فروخت ہورہا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نیو دہلی میں پیٹرول کی قیمت 95.41 روپے فی لیٹر ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت 86.67 روپے فی لیٹر ہے۔

ممبئی میں ایک لیٹر پیٹرول اور ڈیزل بالترتیب 109.98 روپے اور 94.14 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

بھارتی حکومت نے خوردہ نرخوں کو ریکارڈ بلندی سے نیچے لانے کے لیے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی ہے۔

بھارت کی آئی مارکیٹنگ کمنیوں نے دو ماہ سے زیادہ عرصے سے نہ تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور نہ ہی کم کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔

پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) بشمول بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ  (BPCL)، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOCL) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (HPCL) بینچ مارک بین الاقوامی قیمت اور غیر ملکی شرح مبادلہ کے مطابق روزانہ ایندھن کی قیمتوں پر نظر ثانی کرتی ہیں۔

ایک طرف جہاں بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے، وہیں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے تک کے اضافے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول 150 روپے فی لیٹر ہونے کا خدشہ ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.