آئی فون نے سام سنگ کو نمبر ون کی ریس سے باہر کردیا

image

امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ ایپل نے عالمگیر وبا کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت میں ابتری کے باوجود آئی فون کی فروخت کے نئے ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔

سال 2021 کی آخری سہہ ماہی میں ایپل نے آئی فون کی فروخت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے اپنے حریف سام سنگ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ بات اسمارٹ فون مارکیٹ کا تجزیہ کرنے والی فرم Canalasy کی جانب سے دنیا بھر میں اسمارٹ فون کی فروخت کے حوالے سے شایع ہونے والی رپورٹ میں سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی فون 14 پرو کے انوکھے فیچرز کی تفصیلات سامنے آگئیں

رپورٹ کے مطابق سپلائی چین کے مسائل اور دنیا بھر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسمارٹ فونز میں سے 22 فیصد آئی فون تھے۔ جب کہ 2020 کی آخری سہہ ماہی میں ایپل کا مارکیٹ شیئر 23 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی فون سب کے لیے! ایپل کا سستا ترین فون منظر عام پر

زیداہ فروخت ہونے والے موبائل کی فہرست میں دوسرے نمبر پر کورین کمپنی سام سنگ 20 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 3 فیصد زائد ہے۔

چینی موبائل کمپنیاں شیاؤمی، اوپو اور ویوو بالترتیب تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہی۔ پوری دنیا میں اسمارٹ فون کی فروخت میں ان تینوں کمپنیوں کا حصہ 12 فیصد، 9 فیصد اور 8 فیصد رہا۔ جب کہ سال 2020 میں ان کا مارکیٹ شیئر بالترتیب 12فیصد، 10 فیصد اور 9 فیصد تھا۔

 یہ بھی پڑھیں : ویوو کا ایک اور سستا 5 جی فون متعارف

رپورٹ کے مطابق فروخت کے معاملے میں سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے میں ایپل کی جانب سے متعارف کرائی گئی آئی فون 13 سیریز کی بہت زیادہ طلب نے اہم کردار ادا کیا۔

چین میں قیمت زیادہ ہونے کے باجود آئی فون کی طلب بہت زیادہ بڑھی۔ کورونا کی وجہ سے پارٹس کی عدم فراہمی نے کچھ مارکیٹوں میں صارفین کو انتظار بھی کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایپل کی جانب سے  2022 میں ائی فون کی فراہمی کو بہتر بنانے کی توقع ہے۔ ایپل پہلے ہی دنیا بھر میں چپ کی قلت کی وجہ سے آئی فون 13 کے پروڈکشن پلانز میں ایک کروڑ یونٹس تک کمی کرچکا ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.