یہ میری بیٹی کی آخری نشانی ہے جو شوہر کا ہاتھ تھامے کہہ رہی تھی کہ میری جان نکل رہی ہے ۔۔ محسن گیلانی اپنی بیٹی کے آخری دنوں کا بتاتے ہوئے رو پڑے

image

ڈرامہ انڈسٹری کے سینئر اداکار محسن گیلانی انی باصلاحیت اداکاری سے مداحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ وہ آج بھی مختلف ڈراما سیریلز میں اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔

محسن گیلانی کی شوبز کی دنیا سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے جس میں وہ ایک سادہ شخصیت کے مالک ہیں اور نفیس اِنسان ہیں۔ اداکار اکثر پروگراموں میں انٹرویوز کے لیے بھی مدعو کیے جاتے ہیں جس میں وہ اپنی لخت جگر مرحوم بیٹی کا ضرور ذکر کرتے ہیں اجس دوران وہ آبدیدہ بھی ہوجاتے ہیں۔

حال ہی میں محسن گیلانی ندا یاسر کے مارننگ شو میں بطور مہمان مدعو کئے گئے اور پروگرام کا سیگمنٹ پیاروں کو کھو دینے سے متعلق تھا۔ محسن گیلانی نے اپنی بیٹی کے آخری دنوں کے بارے میں گفتگو کی ساتھ ہی وہ ان کی آخری نشانی بھی پروگرام میں ساتھ لے کر آئے جو انہوں نے میزبان اور دیگر مہمانوں کے دکھائی۔

اداکار پروگرام کے دوران انٹرویو میں اپنی بیٹی سے متعلق یادوں کو شئیر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں 13 سال کا تھا اس وقت میں نے سوچ لیا تھا کہ جب میری اولاد پیدا ہوگی تو میں نے دو نام سوچ لئے تھے۔ایک سیدہ فاطمہ بتول اور سید ابو تراب مرتضیٰ۔

اداکار نے بتایا کہ میری جان اس میں تھی اور اس کی جان مجھ میں تھی۔ جب میں آؤٹ ڈور کام کے لیے جاتا تھا اور وہ بیمار پڑ جاتی تھی تو میرے لیے کام کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی دال چاول بہت شوق سے کھاتی تھی۔ اس کے علاوہ مچھلی اور چائنیز چاول وہ بہت شوق سے کھاتی تھی۔ محسن گیلانی نے کہا کہ جب بچہ کہیں گر جاتا ہے یا جب سوکر گھبرا کر اٹھتا ہے تو اس کے منہ سے امی یا ماں نکلتا ہے ، میری بیٹی کے منہ سے بابا لفظ نکلتا تھا۔ سینئر اداکار نے میزبان سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے پرس کی بات کی میں آپ کو میک اپ روم میں بھی بتا رہا تھا کہ میری بیٹی نے فادرز ڈے کے موقع پر پرس تحفے میں دیا تھا اور یہ اس کی مجھے دی گئی یہ آخری نشانی ہے۔

محسن گیلانی نے بتایا کہ وہ لمحہ میرے لیے بہت مشکل تھا جب رخصتی کے وقت وہ میرے گلے لگ کر روئی۔ اور میں نے اس سے اتنا کہا کہ فاطمہ کبھی میں تم سے اونچی آواز میں بولا، کوئی بات تمھاری نہ مانی ہویا میں اگر تمھاری کوئی خواہش پوری نہ کر سکا تو اپنے باپ کو معاف کر دینا۔

اداکار نے آبدیدہ ہوتے ہوئے مڑحوم بیٹی کے بارے میں بتایا کہ جب وہ ماں بننے والی تھی تو مجھ سے بار بار کہتی تھی کہ ابو آپ نے ضرور آنا ہے۔ فاطمہ میرے بڑے بھائی کے بیٹے کی اہلیہ تھی کیونکہ ہمارے خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.