bbc-new

ارشد ندیم: سوشل میڈیا پر ’زخموں سے چور‘ پاکستانی ایتھلیٹ کو خراج تحسین، انڈین صارفین بھی ان کے فین ہو گئے

ٹوٹے ہوئے جسموں، ٹریننگ اور سہولیات کے فقدان اور انتظامیہ کی نااہلیوں کی داستانیں اس وقت آپ کو سوشل میڈیا پر نمایاں دکھائی دیں گی اور اس تاریخی لمحے پر ارشد کی فتح کا کریڈٹ لینے والے بھی آگے آگے ہوں گے۔
ارشد ندیم
Getty Images

ارشد ندیم تیز تیز قدم چلتے ہوئے زیرِ لب کچھ پڑھتے ہیں اور پھر تماشائیوں کی جانب ہاتھ اٹھا کر تالیاں بجاتے ہوئے انھیں ساتھ دینے کا اشارہ کرتے ہیں۔

اپنی پشت پر بیٹھے تماشائیوں میں جہاں باقی ایتھلیٹس کے کوچز موجود ہیں، وہاں ارشد کے ذاتی کوچ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کے ساتھ برمنگھم میں موجود نہیں ہیں۔

ایونٹ میں اپنی پہلی ہی تھرو میں سبقت حاصل کرنے والے ارشد ندیم سے یہ برتری گریناڈا کےاینڈرسن پیٹرز نے کچھ ہی لمحے پہلے چھینی تھی لیکن ارشد خاصے پر اطمینان نظر آ رہے ہیں۔

یہ اطمینان شاید اس لیے بھی ہے کہ میاں چنوں کے ایک گاؤں سے وہ کئی مشکلات جھیلتے ہوئے اب کامن ویلتھ گیمز تک پہنچے ہیں جہاں وہ ورلڈ کلاس ایتلھلیٹس کے علاوہ گھٹنے اور کہنی کی انجریز کا مقابلہ بھی کر رہے ہیں۔

بغیر کوچ، زخموں سے چور، تن تنہا ارشد ندیم نے جیسے سوچ لیا تھا کہ انھیں ان تمام مشکلات سے لڑنا ہے اور کسی بھی لمحے ہمت نہیں ہارنی۔

کچھ ہی لمحوں بعد وہ اپنی نظریں ہدف کی جانب مرکوز کرتے ہیں۔ ارشد اپنی زخمی کہنی اور گھٹنے کو ہلاتے ہیں، باآوازِ بلند 'یا علی مدد' کہتے ہوئے لمبے لمبے قدم لیتے ہیں اور بالآخر اس آٹھ سو گرام وزنی، ڈھائی میٹر لمبی جیولن کو پوری قوت سے پھینکتے ہیں۔

https://twitter.com/thecgf/status/1556386167788118023?s=20&t=9paFrrh3dffkj-YVE0Q7ew

جیولن جیسے ہی فضا میں بلند ہوتا ہے تو تماشائیوں کی تالیاں حیرت میں مبتلا آوازوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور کمنٹیٹر کہتی ہیں 'یہ تو بہت بلند ہے، یہ تو نیچے ہی نہیں آ رہا تھا۔'

ارشد ندیم کے ہاتھ اب بھی بلند ہیں لیکن اس بار ان کا انداز فاتحانہ ہے۔ کچھ لمحوں قبل سبقت حاصل کرنے والے اینڈرسن پیٹرز مسکرا رہے ہیں اور ان کے چہرے پر بھی حیرت عیاں ہے۔

ارشد ندیم
Getty Images

جیسے ہی 90.18 میٹر کا تاریخی نمبر سکرین پر دکھائی دیتا ہے تو ارشد بالآخر مسکرا دیتے ہیں، تماشائیوں سے داد وصول کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف طلائی تمغہ جیت چکے ہیں بلکہ کامن ویلتھ گیمز کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ارشد کا 'جسم ٹوٹا ہوا تھا پر ہمت ہمالیہ سے بھی بلند تھی۔'

ٹوٹے ہوئے جسموں، ٹریننگ اور سہولیات کے فقدان اور انتظامیہ کی نااہلیوں کی داستانیں اس وقت آپ کو سوشل میڈیا پر نمایاں دکھائی دیں گی۔ اس تاریخی لمحے پر ارشد کی فتح کا کریڈٹ لینے والے بھی آگے آگے ہوں گے۔

یہ وہی کہانیاں ہیں جو گذشتہ برس ٹوکیو اولمپکس کے دوران اور اس سے قبل ایتھلیٹکس کے تمام مقابلوں کے بعد سننے کو ملتی ہیں لیکن ان کا حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس اور کھلاڑیوں کا سفر اختتام کو پہنچ گیا ہے اور 68 کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس پر مشتمل دستے نے توقعات سے بہت بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں دو طلائی، تین چاندی اور تین کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔

ان میں پاکستانی ویٹ لفٹر محمد نوح دستگیر بٹ اور جیولن تھروئر ارشد ندیم نے طلائی، پہلوان زمان انور، محمد انعام اور محمد شریف طاہر نے چاندی جبکہ پہلوان عنایت اللہ اور علی اسد اور جوڈوکا میں شاہ حسین شاہ نے کانسی کے تمغے حاصل کیے۔

سہولیات کے فقدان کے باوجود ایسی کاکردگی دکھانے کے بعد اکثر افراد یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا اس کارکردگی کے بعد ان کھیلوں کو بالآخر توجہ دی جائے گی یا پھر ہر چار برس بعد یہی رونا دوبارہ رویا جائے گا۔

اس بارے میں آگے چل کر بات کرتے ہیں اور پہلے یہ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ارشد ندیم کے بارے میں کیا بات ہو رہی ہے اور ان کے چاہنے والے ان کی انجری کے بارے میں پریشان کیوں ہیں۔

’زخموں سے چور ارشد ندیم کی ناقابلِ یقین فتح‘

ارشد ندیم اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا پر پہلے تین ٹاپ ٹرینڈز میں ہیں اور اس سب میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ان کی انجریز کے بارے میں خاصی بات کی جا رہی ہے۔

ارشد ندیم اپنے کوچ کے بغیر ہی اس ایونٹ میں موجود تھے اور ان انجریز کے باوجود وہ فی الحال اسلامک سالیڈیریٹی گیمز کے لیے ترکی بھی جائیں گے جس کے بعد ہی ان کا علاج شرو ع گا۔

ان کے برعکس ٹوکیو اولمپکس میں طلائی اور ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے انڈیا کے نیرج چوپڑا کو کامن ویلتھ گیمز کے لیے آرام کا موقع دیا گیا تھا۔

ارشد ندیم
Getty Images

جنرل مینیجر اسلام آباد یونائیٹڈ ریحان الحق نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب یہ سب ختم ہو گا تو خدارا ارشد ندیم کو بہترین طبی سہولیات، ڈاکٹر اور فزیو مہیا کریں۔ ان کی کہنی کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کے جواب میں فٹبال پاکستان ڈاٹ کام کے صہیب حسن نے لکھا کہ ’انھیں ترکی بھی بھیجا جائے گا۔ ان کی کہنی کو سرجری کی ضرورت ہے اور انھیں ایک فزیو اور بائیومیکینکس سپیشلسٹ بھی چاہیے ہوں گے۔‘

ڈاکٹر ظیف اقبال اس وقت برطانوی فٹبال کلب کرسٹل پیلس کی سپورٹس میڈیسن ٹیم کے سربراہ ہیں اور ماضی میں لیورپول اور ٹوٹنہیم ہوٹسپرز کے ٹیم ڈاکٹر رہ چکے ہیں۔

ریحان الحق نے ان کے ساتھ مکالمے کا سکرین شاٹ شیئر جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ارشد نے جو حاصل کیا ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔ بغیر کسی فزیو، ڈاکٹر، کوچ کے یہ کامیابی ناقابلِ یقین ہے۔

’یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ فارمولا ون ریس کسی پٹ سٹاپ کریو کے بغیر جیت جائیں اور پوری ریس میں بارش کے دوران آپ ڈرائی ٹائرز پر گاڑی چلائیں اور آپ کی گاڑی تین سال پرانی ہو۔‘

ارشد ندیم نے کچھ عرصہ جنوبی افریقہ جا کر بھی ٹریننگ کی لیکن گذشتہ چند ماہ سے وہ لاہور میں ہی ٹریننگ کر رہے تھے جہاں انھیں ورلڈ کلاس سہولیات میسر نہیں تھیں۔

خرم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ارشد ندیم کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ اپنے آبائی چھوٹے سے دو کمروں کے گھر میں اپنے والدین دوسرے احباب کے ساتھ بیٹھا تھا۔

’میاں چنوں جیسے چھوٹے سے قصبے سے اٹھ کر بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کرنا اور ان مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنا ایک ناممکن کو ممکن کرنے والی بات ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ صدر، وزیراعظم، وزرا، آرمی چیف سب سوکھی مبارکباد نہ دیں ارشد ندیم کو،ساتھ انعام بھی دیں اور تمام ایتھلیٹس کی مالی معاونت بھی کریں۔‘

اینکر پرسن عمران ریاض خان نے لکھا کہ ’زخمی بازو اور بغیر کوچ اور سہولیات کے بھی ارشد ندیم کا مورال ڈاؤن نہیں ہوا۔ وہ جی داری سے لڑا اور قوم کو جیت کی خوشخبری دی۔‘

نوح
Getty Images

کیا یہ کاکردگی پاکستان میں ایتھلیٹکس اور دیگر کھیلوں کے حالات بہتر کر سکے گی؟

اکثر افراد یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ ریسلنگ میں وہ پاکستانی پہلوان جنھوں نے کانسی اور چاندی کے تمغے لیے ان کی مہارت تو اپنے حریفوں جیسی تھی لیکن ٹریننگ کا فقدان واضح تھا۔

اسے تبدیل کرنے کے لیے کیا پاکستان کی حکومت جاگے گی اور فوری طور پر اگلے اولمپکس اور دیگر مقابلوں کے لیے انھیں تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کرے گی، یا ہم کچھ عرصے بعد پھر یہی رونا رو رہے ہوں گے؟

https://twitter.com/shahrukhsohail7/status/1556392657932488710?s=20&t=9paFrrh3dffkj-YVE0Q7ew

اس بارے میں اکثر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کیونکہ اس سے قبل ٹوکیو اولمپکس کے بعد بھی دعوے کیے گئے تھے لیکن کسی بھی قسم کی تبدیلی نظر نہیں آئی تھی اس لیے شاید اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہو۔

پاکستانی پہلوانوں کی کارکردگی کامن ویلتھ گیمز میں نمایاں رہی ہے جنھوں نے تین چاندی اور دو کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔

تاہم ان سب کو بھی وہ سہولیات میسر نہیں جو ہمسایہ ملک انڈیا کے پہلوانوں کو میسر ہیں۔ انڈیا کی مردوں اور خواتین پہلوانوں کی ٹیم نے تین طلائی، ایک چاندی اور دو کانسی کے تمغے حاصل کیے۔

کھلاڑی
Getty Images

صحافی سہیل عمران نے لکھا کہ ’اس کارکردگی کو ہر سطح پرسراہا جانا چاہئے یہ ایک شاندار کارکردگی ہے پہلوان ہمیشہ میڈلز کی دوڑ میں رہتے ہیں ایک بار ان پر اعتماد تو کریں انہیں سہولیات دیں ایشین گیمز اور اولمپکس میں مایوس نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’سوچیں ایتھلیٹس ویٹ لفٹرز اور پہلوانوں کو کوچز ملیں سہولیات ملیں تو وہ کیا کیا کارنامے انجام دیں۔‘

سپورٹس مینیجمنٹ اور مارکیٹنک سے منسلک شاہ رخ سہیل نے اعداد و شمار کے ذریعے بتایا کہ ’پاکستان اپنے ایتھلیٹس پر صرف ایک کروڑ 66 لاکھ ڈالر خرچ کرتا ہے جو دیگر ملکوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔‘

’نیرج چوپڑا کی غیر موجودگی میں انڈین صارفین کی ارشد ندیم کو سپورٹ‘

انڈین جیولن تھروئر نیرج چوپڑا بھی انڈیا اور پاکستان ٹرینڈ کر رہے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں کچھ انڈین صارفین بھی ارشد ندیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک صاف اشیش جھا نے لکھا کہ ’میں ارشد ندیم کو سپورٹ کر رہا ہوں، میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔‘

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ارشد ندیم وہ پہلے جنوبی ایشیائی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے 90 میٹر سے زیادہ دور جیولن تھرو کی ہے۔

کچھ صارفین آنے والے وقتوں میں ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹس میں کئی دہائیوں بعد انڈیا اور پاکستان کے ایتھلیٹس کے درمیان مقابلے کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز میں ریکارڈ 90.18 میٹر کی جیولن تھرو کر کےطلائی تمغہ جیت لیا

ارشد نے ’پاکستان کو جیولن تھرو کا مطلب سمجھا دیا‘، نیرج کی وجہ سے ’انڈیا میں اجنبی بھی گلے مل رہے ہیں‘

ٹوکیو اولمپکس: جیولن تھرو میں نیرج چوپڑانے طلائی تمغہ اور ارشد ندیمنے پاکستانیوں کے دل جیت لیے

'اچھا ہوتا اگر پوڈیم پر میرے ساتھ پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے، ایشیا کا نام ہو جاتا‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’آنے والے دنوں میں نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کا مقابلہ بہترین ہو گا۔ ہمیں اب اگلی ایشین گیمز کا انتظار ہے۔‘

ایک انڈین صارف آدرش نے لکھا کہ ’ارشد ندیم کو نیرج چوپڑا کو اپنا ہیرو کہنے پر برا بھلا کہا گیا تھا لیکن وہ کبھی بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے، وہ اصل ہیرو ہیں۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.