bbc-new

کیریئر کاؤنسلنگ: پاکستانی بچے اپنی مرضی کے پروفیشن کا انتخاب کیوں نہیں کر پاتے؟

تعلیمی ماہرین کے مطابق ہمارے زیادہ تر تعلیمی اداروں خصوصاً سکولوں میں بچوں کو کیریئر سے متعلق رہنمائی دینے کا رواج نہیں ہے جبکہ دنیا کے زیادہ تر ترقی آفتہ ممالک میں یہ عمل بچپن سے ہی شروع کر دیا جاتا ہے۔
کیرئیر کونسلنگ
Getty Images

پاکستان میں زیادہ تر والدين اپنی اولاد کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس بات کا تعین کر لیتے ہیں کہ بچوں کو بڑے ہو کر کس شعبے میں جانا ہے۔ ایک زمانے میں ڈاکٹر اور انجینیئر سرفہرست ہوتے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سوچ میں تھوڑی تبدیلی بھی آئی ہے اور پروفیشنز کی لسٹ میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

فاطمہ افضل ایک کامیاب مارکٹینگ مینیجر ہیں اور وہ بھی کچھ اسی قسم کے تجربے سے گزری ہیں۔

’میرے والدين مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے کیونکہ میرے بہن بھائی دونوں ڈاکٹر تھے۔ تاہم مجھے ڈاکٹر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ آخر میں بننا کیا چاہتی ہوں اور مجھے کیا پڑھنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ویسے تو میں ایک چھوٹے سے شہر کے سب سے اچھے سکول میں پڑھی تھی لیکن کیونکہ میں اپنے بہن بھائی کی طرح بہت لائق نہیں تھی اس لیے والدین اور ٹیچرز کی طرف سے یہ جملے سننے کو ملتے تھے کہ تم کس پر چلی گئی ہو۔ پتا نہیں تمھاری نالائقی تمھیں کچھ بننے دے گی یا نہیں۔‘

’مجھے کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈاکٹر بننے کے علاوہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ کالج میں بھی کسی قسم کی کیرئیر کاؤنسلنگ نہیں کی جاتی تھی۔سائنس پڑھی لیکن میڈیکل میں داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے یونیورسٹی میں بھی مجبوراً بائیولوجی پڑھنی پڑی کیونکہ میں نہیں جانتی تھی کہ اس کے علاوہ میں کیا کر سکتی ہوں۔‘

فاطمہ افضل کہتی ہیں کہ ’اس دباؤ کا مجھے ایک فائدہ ہوا کہ یونیورسٹی میں مختلف اقسام کے مضامین پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے میں نے اپنا کیریئر اس مضمون میں چن لیا جو سب سے زیادہ دلچسپ لگتا تھا اور ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں آج کامیاب اور مطمئن ہوں۔‘

فاطمہ کی طرح سب اپنی مرضی نہیں کر پاتے ہیں۔ علی رضا اپنے والدین کی خواہش پر ڈاکٹر بنے۔ وہ سی ایس ایس کرنا چاہتے تھے۔ وہ لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کر رہے ہیں لیکن وہ آج بھی سوچتے ہیں کہ وہ مقابلے کا امتحان دے کر میڈیکل پروفیشن کو خیرباد کہہ دیں۔

بچے اپنی مرضی کے پروفیشن کا انتخاب کیوں نہیں کر پاتے؟

سٹوڈنٹ
BBC

فاطمہ اور علی کی کہانی تقریبا پاکستان کے ہر دوسرے بچے کی کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ کون کیا بننا چاہتا تھا اور کیا بن گیا سےلے کر اسے کیا بننا چاہیے ہے تک کے جملے سب بچے ہی سنتے ہیں۔

پاکستان کے تعلیمی نظام پر نظر ڈالیں تو سکول اور کالج تک چند مخصوص مضامین ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ جن میں سائنس، ریاضی، کمپیوٹر اور دیگر بنیادی مضامین شامل ہیں۔

زیادہ تر بچے اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان مضامین کے علاوہ کون کون سے مضامین موجود ہیں۔والدین سمیت زیادہ تر تعلیمی ادارے بچے کو مختلف اقسام کے مضامین سے متعارف ہی نہیں کرواتے جو ان کی سوچ کو ایک حد تک محدود کر دیتا ہے۔

بی بی سی نے کئی طلبہ سے بات کی جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ بچے یہ نہیں جاننتے تھے کہ جو کیریئر وہ چننا چاہتے ہیں، اس کے لیے انھٰیں کون سے مضامین پڑھنا ہوں گے۔

عالین فاطمہ اے لیول کی طالب علم ہیں اور سائنس پڑھ رہی ہیں۔ وہ خلاباز بننا چاہتی تھیں۔ جبکہ ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں۔

انھوںنے بتایا کہ ’مجھے شوق تو تھا خلاباز بننے کا لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے لیے مجھے کیا پڑھنا ہو گا۔ او لیول تک تو کسی قسم کی رہنمائی نہیں ملی۔ہاں البتہ اے لیول میں آنے کے بعد میری ملاقات کیریئر کاؤنسلر سے ہوئی۔ میں نے جب انھیں بنایا کہ میں خلاباز بننا چاہتی ہوں تو انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تو اس کا زیادہ رجحان نہیں ہے اس لیے آپ کو پاکستان سے باہر جانا ہوگا اور کسی دوسرے ملک کے یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہوگا۔ جس کے بعد میں نے خود انٹرنیٹ پر اس بارے میں ریسرچ شروع کر دی۔ اگر میں اس میں کامیاب نہ ہوئی تو پھر کچھ اور سوچوں گی۔‘

دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ روایتی کیریئر کو کمائی اور عزت دار پروفیشن سے جوڑتے ہیں۔

کنزہ
BBC
کنزہ انجم انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ہیں۔ وہ ادب پڑھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ لکھاری بن سکیں۔ لیکن ان کی والدہ چاہتی ہیں کہ وہ ڈاکٹر بنیں جبکہ ان کے بھائی چاہتے ہیں کہ وہ کمپوٹر انجینیئر بنیں۔

کنزہ انجم انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ہیں۔ وہ ادب پڑھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ لکھاری بن سکیں۔ لیکن ان کی والدہ چاہتی ہیں کہ وہ ڈاکٹر بنیں جبکہ ان کے بھائی چاہتے ہیں کہ وہ کمپوٹر انجینیئر بنیں۔

کنزہ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ہاں اگر کوئی بچہ روایتی پروفیشن سے ہٹ ہر کوئی کیریئر چنتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اس میں پیسہ نہیں ہے۔ کماؤ گی کیسے اور ویسے بھی ایسے پروفیشنز کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔‘

یہی نہیں بلکہ ہنر مند تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کنزہ کا کہنا تھا کہ ’میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو شیف بننانا چاہتے ہیں لیکن انھیں یہ کہا جاتا ہے کہ تم باورچی بنو گے؟ یہ بھی کوئی پروفیشن ہوا۔‘

’لوگ تو فیشن ڈیزائننگ کو بھی کہتے ہیں کہ سلائی کا کام کرو گے۔ ہم لوگوں نے ہر پروفیشن کے ساتھ کوئی نہ کوئی بات منسلک کر رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے بچے اپنی مرضی کا کیریئر چننے سے ڈرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

33 سالہ ارب پتی خاتون، جن کے کاروبار کا لوگوں نے مذاق اُڑایا

جاب ہاپنگ: جلد نوکری تبدیل کرنا کب نقصان دہ ثابت ہوتا ہے؟

نوکریوں کا عالمی بحران جس کا فائدہ ملازمین کو ہو رہا ہے

ریچل حسن
BBC
ریچل حسن لاہور کی نجی یونیورسٹی میں بطور استاد کام کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کی تمام تر مضمامین اور کیریئر سے متعلق رہنمائی بھی کرتی ہیں۔

کیریئر کے انتخاب میں رہنمائی اور مشاورت کتنی ضروری ہے؟

ریچل حسن لاہور کی نجی یونیورسٹی میں بطور استاد کام کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کو تمام تر مضمامین اور کیریئر سے متعلق رہنمائی بھی کرتی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ بچے اپنی پسند کا کیرئیر اس لیے بھی نہیں چن پاتے کیونکہ ’ہمارے ہاں بچے اپنے والدین پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کی پڑھائی کا خرچہ ان کے والدین اٹھاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انھیں ان کی پسند کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ ہمارے زیادہ تر تعلیمی اداروں خصوصاً سکولوں میں بچوں کو کیریئر سے متعلق رہنمائی دینے کا رواج نہیں ہے جبکہ دنیا کے زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں یہ عمل بچپن سے ہی شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور اس عمل کی والدین کے ساتھ ساتھ زیادہ ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ بچے کا شوق اور ان کا ٹیلنٹ دیکھ کر اسے مزید نکھارنے میں مدد کر سکتےہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر والدين اپنے بچے کے انتخاب پر اعتماد کا اظہار کریں اور تعلیمی ادارے بچے کی صیحح رہنمائی کریں تو بچہ ایک کامیاب پروفیشل بن سکتا ہے۔‘

’ہمارے زمانے میں اتنے مضامین اور پروفیشن نہیں ہوا کرتے تھے‘

اس بارے میں والدین کے خیالات جاننے کے لیے بی بی سی نے کئی والدین سے بھی بات کی۔ کچھ کا ردعمل یہ تھا کہ ’ہم اگر بچوں کو کوئی مخصوص پروفیشن چننے کا کہتے ہیں تو ان کی بہتری کا سوچ کر کہتے ہیں، ان کے روشن مستقبل کے لیے سوچتے ہیں۔‘

والد
BBC
محمد عارف کے دو بچے ہیں اور وہ بینک میں بطور مینیجر کام کر رہے ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی دسویں جماعت کی طالبہ ہیں اور ان کا بیٹا ساتویں جماعت میں پڑھ رہا ہے

جب کے کچھ والدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات میں بھی حقیقت ہے کہ ’ہمارے زمانے میں اتنے مضامین اور مختلف قسم کے پروفیشن نہیں ہوا کرتے تھے۔ ہمیں جن کا پتا ہے ہم وہ اپنے بچوں کو بتاتے ہیں۔‘

محمد عارف کے دو بچے ہیں اور وہ ایک بینک میں بطور مینیجر کام کر رہے ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی دسویں جماعت کی طالبہ ہیں اور ان کا بیٹا ساتویں جماعت میں پڑھ رہا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں خود پڑھا لکھا ہوں اور اپنے بچوں کی پڑھائی اور کیریئر میں رہنمائی کرتا رہتا ہوں۔ لیکن ابھی تک میری بیٹی یہ نہیں جانتی ہے کہ وہ آگے کیا کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ میرا بیٹا فوج میں جانا چاہتا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اگر تم یہ نہ کر پائے تو کیا کرو گے تو کہنے لگا کہ پھر میں سی ایس ایس کروں گا۔ لیکن اسے یہ نہیں پتا کہ وہ کیا پڑھے گا تو یہ بن پائے گا۔‘

سٹوڈنٹ
BBC

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان میں میرے بیٹے نے افسر بھی دیکھے ہیں اور فوجی بھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان کو دیکھ کر ویسا بننا چاہتا ہے۔ لیکن بہت سے ایسے بچے ہیں جن کے گھروں میں یا خاندان میں بتانے اور رہنمائی کرنے والا نہیں ہوتا ہے۔ اس صورت میں تعلیمی اداروں کا کردار اہم ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سکولوں میں کیرئیر کاؤنسلنگ کا تصور ہی نہیں ہے۔‘

’مجھ سمیت بہت سے والدین یہ کہہ تو دیتے ہیں کہ بچے جو چاہیں کریں لیکن کوئی بھی بچوں کو مکمل طور پر آزادی نہیں دیتا ہے۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.