پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ، دونوں ممالک نے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
تاشقند میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزایوف نے شرکت کی۔
تقریب میں تاشقند اور لاہور کے درمیان ایم او یو کا تبادلہ ہوا، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معلومات کے تبادلے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان نوجوانوں کے امور سے متعلق ایم او یو کا بھی تبادلہ ہوا۔
کانگریس سینٹر تاشقند آمد پر وزیر اعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر
وزیراعظم شہبازشریف اورازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے تقریب کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں ایک سال میں معیشت بہتراور مہنگائی میں کمی ہوئی ، شرح سود 22 فیصد تھی جو 12 فیصد پر آ چکی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ترقی کے سفر میں پہاڑوں اور دریاؤں کو عبور کرنا ہے ، پاکستان ضرور دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا، ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے معاشی سطح پر ملکر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے ، ٹرانس افغان ریلوے کنیکٹیویٹی خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا، ازبکستان کیساتھ تجارتی حجم کو 2ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹیکس نیٹ میں موجود ریٹیلرز پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے ، شہباز شریف
انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کو اتحاد کی ضرورت ہے ، پر امن اور مستحکم افغانستان خطے کیلئے ضروری ہے ، افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
قبل ازیں ازبک صدر مرزایوف نے کہا کہ روشن مستقبل کے لیے دونوں ممالک کی گفتگو اور معاہدے بہت اہم ہیں، مسائل سےنمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اور مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تاشقند اور لاہور کے درمیان پروازیں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، علاقائی و عالمی فورمز پر ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھیں گے۔
;