پہلے روزے کو بینک اکاؤنٹ میں کتنی رقم ہونے پر زکوٰۃ کاٹی جائے گی؟ نصاب جاری

image

وفاقی وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ نے رمضان 2025 کے لیے زکوٰۃ کا نیا نصاب جاری کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بینکوں کو ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یکم رمضان کو اگر کسی فرد کے بینک اکاؤنٹ میں 1 لاکھ 79 ہزار 689 روپے یا اس سے زائد رقم موجود ہوئی تو اس پر زکوٰۃ کی کٹوتی لاگو ہوگی۔

وزارت کے مطابق یہ کٹوتی مخصوص اقسام کے اکاؤنٹس پر لاگو ہوگی، جن میں بچت اکاؤنٹس، نفع و نقصان کے اکاؤنٹس اور دیگر قابلِ زکوٰۃ اکاؤنٹس شامل ہیں۔ تاہم، اگر کوئی فرد اپنا پیسہ کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھتا ہے، تو اس پر زکوٰۃ نہیں کاٹی جائے گی، یعنی کرنٹ اکاؤنٹس اس کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

زکوٰۃ کی مد میں یہ کٹوتی یکم یا 2 مارچ کو، رمضان کی پہلی تاریخ کے مطابق، کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسلامی احکامات کے تحت کیا جا رہا ہے، تاکہ زکوٰۃ کے اصولوں کے مطابق مستحق افراد کی مدد کی جا سکے۔

اگر کوئی شخص نہیں چاہتا کہ اس کے اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کاٹی جائے، تو اسے پیشگی طور پر "ڈیکلریشن فارم" بینک میں جمع کروانا ہوگا۔ اس عمل کے ذریعے وہ قانونی طور پر اپنے اکاؤنٹ کو زکوٰۃ کی کٹوتی سے مستثنیٰ کر سکتا ہے۔

یہ فیصلہ زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت کیا گیا ہے، جس میں واضح طور پر یہ درج ہے کہ یکم رمضان المبارک کو اگر کسی کے اکاؤنٹ میں مقررہ حد سے کم رقم موجود ہو، تو اس پر زکوٰۃ لاگو نہیں ہوگی۔ اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی رقم متاثر نہ ہو، تو یکم رمضان سے پہلے اپنی مالی حالت کا جائزہ ضرور لیں، تاکہ کسی غیر متوقع کٹوتی سے بچا جا سکے۔


About the Author:

Khushbakht is a skilled writer and editor with a passion for crafting compelling narratives that inspire and inform. With a degree in Journalism from Karachi University, she has honed her skills in research, interviewing, and storytelling.

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.