انڈیا پاکستان میچ کے بعد ’پاکستان زندہ باد کا نعرہ‘ لگانے پر مسلمان کباڑیے کا گھر مسمار کر دیا گیا

چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ 23 فروری کو دبئی میں کھیلا گیا تھا جس میں انڈین ٹیم باآسانی جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ انڈین ٹیم کی جیت پر ملک بھر میں جشن کا سماں تھا لیکن مہاراشٹر کے علاقے میں اس وقت کشیدگی دیکھنے میں آئی جب ایک مقامی شخص نے کباڑ کے کام سے منسلک تاجر اور ان کے خاندان پر 'ملک مخالف نعرے' لگانے کا الزام لگایا۔

انڈین ریاست مہاراشٹر کے علاقے ملوان میں چیمپیئنز ٹرافی میں کھیلے گئے پاکستان اور انڈیا میچ کے بعد مبینہ طور پر ’ملک مخالف نعرے‘ لگانے پر ایک خاندان کا گھر مسمار کر دیا گیا ہے۔

چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ 23 فروری کو دبئی میں کھیلا گیا تھا جس میں انڈین ٹیم باآسانی جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ انڈین ٹیم کی جیت پر ملک بھر میں جشن کا سماں تھا لیکن مہاراشٹر کے علاقے میں اس وقت کشیدگی دیکھنے میں آئی جب ایک مقامی شخص نے کباڑ کے کام سے منسلک تاجر اور ان کے خاندان پر 'ملک مخالف نعرے' لگانے کا الزام لگایا۔

ملوان پولیس کو موصول ہونے والی شکایت میں کباڑ کے کاروبار سے منسلک تاجر، ان کی اہلیہ اور ان کے 15 سالہ بیٹے پر 'ملک مخالف نعرے' لگانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد مقامی افراد نے غصے کا اظہار کیا اور تاجر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ شیو سینا کے رُکنِ ریاستی اسمبلی نلیش رانا نے اس معاملے پر جارحانہ مؤقف اپنایا جس کے بعد ملوان میونسپل کونسل نے بلڈوزر کے ذریعے تاجر کے گھر کو مسمار کر دیا۔

دوسری جانب ملوان پولیس نے خاندان کے اراکین کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق تمام افراد کو اب ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے میچ والے دن ہوا کیا تھا؟

ملوان میں تاجر اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف شکایت درج کروانے والے شہری کا نام سچن سندیپ ورادکر ہے۔

یہ بھی دعوے کیے جا رہے ہیں کہ 'ملک مخالف نعرے' لگنے کے بعد کچھ مقامی افراد نے اس حوالے سے تاجر سے سوالات بھی کیے تھے لیکن وہ اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔

مشتعل شہریوں نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس نے اس خاندان کے تین افراد کو حراست میں لے لیا۔

مہاراشٹر
Getty Images
انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ 23 فروری کو دُبئی میں کھیلا گیا تھا

اگلے دن پیر (24 فروری) کو مالوان میں اس واقعے پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔

مالوان میں پوری ہندو برادری نے موٹر سائیکلوں پر احتجاجی مارچ نکالا اور متعلقہ خاندان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس مظاہرے کے بعد مقامی پولیس نے کباڑ کے کاروبار سے منسلک تاجر اور ان کے خاندان کے اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

کیا تاجر کا گھر غیرقانونی تھا؟

احتجاجی مظاہرے اور مقدمے کے اندراج کے بعد شیو سینا کے رُکن ریاستی اسمبلی نلیش رانا نے دعویٰ کیا کہ 'ملک مخالف نعرے' لگانے والا خاندان 'غیرقانونی' طور پر تعمیر کیے گئے گھر میں رہائش پزیر تھا۔

انھوں نے اس حوالے سے ملوان میونسپل کونسل کو ایک خط لکھا جس کے بعد تاجر کا گھر مسمار کر دیا۔

ملوان میونسپل کونسل نے بھی تاجر کے گھر کو 'غیرقانونی' قرار دیا اور کونسل کے چیف آفیسر سنتوش جرگے نے اس بات کی تصدیق کی کہ گھر مسمار کرنے کی کارروائی نلیش رانا کا خط موصول ہونے کے بعد کی گئی ہے۔

شیو سینا کے رُکنِ ریاستی اسمبلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حوالے سے ایک پوسٹ میں لکھا کہ 'گذشتہ روز انڈیا اور پاکستان کے میچ کے بعد کباڑ کے کاروبار سے منسلک ایک پناہ گزین مسلمان تاجر نے انڈیا مخالف لگائے تھے۔ ہم اسے ضلع بدر کریں گے لیکن اس سے قبل ہم فوری طور پر اس کا کباڑ کا کاروبار تباہ کریں گے۔'

انھوں نے تاجر کے خلاف کارروائی کرنے پر ملوان پولیس اور میونسپل کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا۔

تاہم ماہرین قانون میونسپل کونسل کے اس عمل کو غلط قرار دے رہے ہیں۔

ماہرِ قانون عاصم سروڈے کا کہنا ہے کہ 'گھر کے غیرقانونی ہونے کا پیشگی نوٹس دیے بغیر ایسی کارروائی کرنا غیرقانونی عمل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایسا تھا تو پہلے کیوں نوٹس نہیں لیا گیا؟'

پولیس کی تحقیقات کیا کہتی ہیں؟

ملوان کا علاقہ ضلع سندھودرگ میں واقع ہے اور وہاں پر تعینات سپرنٹینڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سوربھ اگروال کا کہنا ہے کہ: 'اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ ملک مخالف نعرے لگانے کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے اور ہم نے تمام کارروائی ایک شخص کی شکایت پر کی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان کا تعلق اُتر پردیش سے ہے لیکن وہ گذشتہ 20، 25 برسوں سے سندھودرگ میں رہائش پزیر ہیں۔

شکایت درج کروانے والے شہری کا پولیس کے سامنے دعویٰ تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے میچ کے بعد تاجر کے بیٹے نے 'پاکستان زندہ باد، انڈیا میچ ہارے گا' کے نعرے لگائے۔

سچن ورادکر کا کہنا ہے کہ ان نعروں کے بعد مقامی افراد کی وہاں بحث ہوئی اور اس دوران لڑکے کے والدین نے انڈیا کے خلاف نازیبا نعرے لگائے۔


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.