17 سالہ لڑکے کی دو اضافی ٹانگیں علیحدہ: وہ غیرمعمولی حالت جس میں ماں کے جسم میں موجود نامکمل بچہ علیحدہ نہیں ہو پاتا

سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا تھا کہ پیٹ سے جڑی دونوں ٹانگوں کی وجہ سے بچے کی نشوونما متاثر ہو رہی تھی۔
ایمز ہسپتال
BBC
موہت ابھی بھی یقین نہیں کر پا رہے کہ اُن کے پیٹ سے لٹکی دو اضافی ٹانگیں علیحدہ کر دی گئی ہیں

انتباہ: اس رپورٹ میں شامل کچھ تصاویر اور تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔

جب میں پہلی بار موہت کمار سے ملا تو انھوں نے اپنی قمیض کا اگلا حصہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا۔ موہت گذشتہ 17 برس سے ایسا کرنے کے عادی تھے یعنی وہ اپنی قیمض کو آگے سے پکڑ کر رکھتے تھے۔

لیکن اب انھیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل موہت کی اِس عادت کی وجہ یہ ہے کہ کچھ دن پہلے تک موہت کے جسم پر چار ٹانگیں تھیں۔

اُن کا گذشتہ ماہ آپریشن ہوا ہے جس میں اُن کے جسم پر موجود دو اضافی ٹانگیں ہٹا دی گئی ہیں۔

یہ نایاب سرجری دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے ڈاکٹروں نے کی ہے۔

موہت کا تعلق انڈین ریاست اُترپردیش کے علاقے ’اناؤ‘ سے ہے۔ اور انھیں ابھی تک یقین نہیں ہو پا رہا کہ اُن کے پیٹ پر لٹکی وہ دو اضافی ٹانگیں ہٹا دی گئی ہیں جنھیں انھیں اٹھا کر چلنا پڑتا تھا۔

موہت نے خوشی سے بتایا کہ ’میری چار ٹانگیں تھیں اور میں سوچتا تھا کہ انھیں کبھی ہٹایا نہیں جا سکے گا۔ لیکن ڈاکٹروں نے اب انھیں ہٹا دیا ہے۔ جب میں ہسپتال آیا تو میں بہت ڈر گیا تھالیکن اب میں بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے پیٹ سے لٹکا کوئی وزن ہٹ گیا ہو۔‘

میڈیکل سائنس کی زبان میں ایسے کیسز کو ’پیراسٹک ٹوئنز‘ کہتے ہیں۔

موہت کے جسم میں دو اضافی ٹانگیں، ان کے سینے کی شریان سے منسلک تھیں۔ ان کے جسم کے اس اضافی حصے کا وزن 15 کلو گرام تھا۔

موہت
BBC
موہٹ کے جسم پر موجود اضافی ٹانگوں کا وزن 15 کلوگرام تھا

ایمز ہسپتال کے شعبہ سرجری سے منسلک ایڈیشنل پروفیسر ڈاکٹر اسوری کرشنا کی قیادت میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے 8 فروری کو دو گھنٹے طویل سرجری کے بعد موہت کی ٹانگوں کو الگ کیا تھا۔

’پیراسیٹک ٹوئنز‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اسوری کرشنا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ماں کے جسم میں انڈا اور سپرم آپس میں ملتے ہیں، تو ایک زائگوٹ بنتا ہے۔ عام طور پر یہ زائگوٹ آہستہ آہستہ ایک بچہ بنتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ شروع میں ہی دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ اس سے جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔‘

’تاہم بعض اوقات ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ مکمل طور پر علیحدہ نہیں ہوتے اور ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔‘

اس صورتحال میں ایک بچہ تو مکمل طور بڑھتا مگر دوسرا نامکمل رہتا ہے۔

ان کے مطابق موہت کے معاملے میں بھی ایک بچہ تو مکمل طور پر تشکیل پا گیا مگر دوسرا اُس کے ساتھ نامکمل حالت میں جڑا رہا۔

ان کے مطابق مکمل بچے سے جڑا نامکمل حصہ ناصرف خون حاصل کرتا ہے بلکہ غذائیت بھی حاصل کرتا ہے۔

یہاں پر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مکمل بچے سے جڑا یہ طفیلی نما حصہ درد، لمس اور ماحول میں تبدیلی بھی محسوس کرتا ہے۔

ڈاکٹر کرشنا نے بی بی سی کو بتایا کہ دنیا بھر میں 'پیراسیٹک ٹوئن' بچوں کے صرف 40، 50 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ان کیسز میں بھی بچوں کی سرجری کی کوشش کی گئی۔

موہت
BBC
موہت کی والدہ بچپن میں وفات پا گئی تھیں

سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا تھا کہ موہت کے پیٹ سے جڑی دونوں ٹانگوں کی وجہ سے ان کی اپنی نشوونما متاثر ہو رہی تھی۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ اضافی ٹانگیں جسم کے دیگر حصوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لیے سرجری کو ضروری سمجھا گیا۔

موہت کے سی ٹی سکین سے پتا چلا تھا کہ ان سے جڑا ’پیراسیٹک ٹوئن‘ ان کی سینے کی ہڈی سے جڑا ہوا تھا اور اسے سینے کی مرکزی شریان سے خون مل رہا تھا۔

ڈاکٹر کرشنا کے مطابق ’آپریشن کے دوران جیسے ہی طفیلی حصے کو نکالا گیا، تو فوری طور پر موہت کے جسم میں 30 سے 40 فیصد خون کم ہو گیا جس کی وجہ سے مریض کا بلڈ پریشر بہت گِر گیا۔‘

ان کے مطابق ’ہم اس صورتحال کے لیے تیار تھے اور فوری طور پر بلڈ پریشر کو مستحکم کیا۔‘ ان کے مطابق ’اس دوران ہمیں اس بات کا خیال رکھنا تھا کہ موہت کے کسی عضو یا ٹشو کو نقصان نہ پہنچے۔‘

اس کے بعد ڈاکٹروں نے پیٹ کے اندر پڑے سسٹ کو نکال دیا۔ سسٹ کو عرف عام میں ’لمپ‘ بھی پکارا جاتا ہے۔

سرجری کرنے والی ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں ریڈیولوجسٹ، اینستھیٹسٹ اور پلاسٹک سرجن شامل تھے۔ موہت کو داخلے کے چار دن بعد ہسپتال سے گھر بھیج دیا۔

موہت ابھی چار ماہ کے ہی تھے کہ وہ اُن کی والدہ کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد اُن کے والد مکیش کمار کشیپ ہی بچپن سے لے کر آج تک ان کی دیکھ بھال کرتے آئے ہیں۔

چار ٹانگیں ہونے کی وجہ سے موہت کو نہ صرف جسمانی مسائل بلکہ سماجی سطح پر چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

والد مکیش کمار کا کہنا ہے کہ ’جب ہم اسے سکول بھیجا تو موہت نے مجھے کہا کہ پاپا بچے مجھے پریشان کرتے ہیں اور ہر کوئی چار ٹانگیں، چار ٹانگیں کہہ کر چھیڑتا ہے۔‘

اس کے بعد جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچے تو موہت کو اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ اپنے علاج کے بعد اب موہت پرانے دنوں کو بھلا کر ایک نئی شروعات کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ایسے محسوس کر رہا ہوں جیسے کوئی بوجھ ہٹ گیا ہو۔ اب میں دوسرے بچوں کی طرح نظر آنے لگا ہوں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.