Poetries by Shafaq
خمار جانے دو رکو ابھی بات کو ٹل جانے دو
دل کو کچھ قرار تو آنے دو
ابھی تو آغاز ہے تنہائی کا
دل کا اداسی سے بھی تعارف ہو جانے دو
تم نے چھوڑ کر جو زخم دیا تھا
اس زخم کو تھوڑا تو بھر جانے دو
پھر سے جو تم ملنے کی بات کرتے ہو
ابھی پہلی ملاقاتوں کا تو خمار جانے دو
عادت جو اب کچھ ہونے لگی تنہائی کی
پھر سے نہ اب اس دل کو بھیڑ میں جانے دو
تمہیں تو مل جایں گے تم جیسے ہزار بھی
ہمیں ہمارے جیسا کوئی ایک تو مل جانے دو
پھر سے کیوں کر آیں تمہاری باتوں میں
ابھی پچھلی باتوں کی تو کڑواہٹ جانے دو
ڈر لگتا ہے ہمیں اب اجالوں سے رہنے دو اس تاریکی میں
اپنی یاد کے سبھی چراغ بجھ جانے دو
شفق
دل کو کچھ قرار تو آنے دو
ابھی تو آغاز ہے تنہائی کا
دل کا اداسی سے بھی تعارف ہو جانے دو
تم نے چھوڑ کر جو زخم دیا تھا
اس زخم کو تھوڑا تو بھر جانے دو
پھر سے جو تم ملنے کی بات کرتے ہو
ابھی پہلی ملاقاتوں کا تو خمار جانے دو
عادت جو اب کچھ ہونے لگی تنہائی کی
پھر سے نہ اب اس دل کو بھیڑ میں جانے دو
تمہیں تو مل جایں گے تم جیسے ہزار بھی
ہمیں ہمارے جیسا کوئی ایک تو مل جانے دو
پھر سے کیوں کر آیں تمہاری باتوں میں
ابھی پچھلی باتوں کی تو کڑواہٹ جانے دو
ڈر لگتا ہے ہمیں اب اجالوں سے رہنے دو اس تاریکی میں
اپنی یاد کے سبھی چراغ بجھ جانے دو
شفق
ایک ماں تھی جس کو انتظار ہوتا تھا ایک ماں تھی جس کو انتظار ہوتا تھا
جس کو فکر ہوتی تھی خیال ہوتا تھا
فون کر کے جو حال پوچھتی تھی میرا
جاگتی تھی جب تک میں گھر سے باہر ہوتا تھا
گھر آنے پر پوچھتی مجھ سے کھانے کا
جس کو میری ہر ضرورت کا احساس ہوتا تھا
پہچان لیتی تھی چہرے سے میرے
اگر میں کبھی پریشان ہوتا تھا
دیتی تھی دعا جب مجھے خوش رہنے کی
اسی لمحے میں ہر فکر سے آزاد ہوتا تھا
Shafaq
جس کو فکر ہوتی تھی خیال ہوتا تھا
فون کر کے جو حال پوچھتی تھی میرا
جاگتی تھی جب تک میں گھر سے باہر ہوتا تھا
گھر آنے پر پوچھتی مجھ سے کھانے کا
جس کو میری ہر ضرورت کا احساس ہوتا تھا
پہچان لیتی تھی چہرے سے میرے
اگر میں کبھی پریشان ہوتا تھا
دیتی تھی دعا جب مجھے خوش رہنے کی
اسی لمحے میں ہر فکر سے آزاد ہوتا تھا
Shafaq
چلو آج ایک فیصلہ ہو جائے چلو آج ایک فیصلہ ہو جائے
کچھ خوابوں سے
خوابوں کا سودا ہو جائے
دے کر مجھے میری خوشیاں
اپنے سکھ تم لے جانا
جانے سے پہلے تمہارے
کچھ یادوں کا بھی حساب ہو جائے
کچھ اور نہ سہی ہمارے بیچ
ایک یہی کام رضامندی سے ہو جائے
جانے کی بات تم نے کی تھی
لکھ کر دیں گے تم کو یہ بھی
کہیں کل کو جدائی کا فیصلہ بھی
ہماری غلطیوں میں نہ شمار ہو جائے
تم کو عادت ہے بھول جانے کی اسی لیئے
سبھی باتیں تحریر کی صورت میں ہوں گی
ؐکھ ہم سب کچھ دستخط کریں گیں
ضروری نہیں یہ بھی تمہارے لیئے مگر چلو
ہمارے پاس کوئی تو نشانی تمہاری
دستخط کی صورت میں رہ جائے Shafaq
کچھ خوابوں سے
خوابوں کا سودا ہو جائے
دے کر مجھے میری خوشیاں
اپنے سکھ تم لے جانا
جانے سے پہلے تمہارے
کچھ یادوں کا بھی حساب ہو جائے
کچھ اور نہ سہی ہمارے بیچ
ایک یہی کام رضامندی سے ہو جائے
جانے کی بات تم نے کی تھی
لکھ کر دیں گے تم کو یہ بھی
کہیں کل کو جدائی کا فیصلہ بھی
ہماری غلطیوں میں نہ شمار ہو جائے
تم کو عادت ہے بھول جانے کی اسی لیئے
سبھی باتیں تحریر کی صورت میں ہوں گی
ؐکھ ہم سب کچھ دستخط کریں گیں
ضروری نہیں یہ بھی تمہارے لیئے مگر چلو
ہمارے پاس کوئی تو نشانی تمہاری
دستخط کی صورت میں رہ جائے Shafaq
رات گہری ہو جائے تو کیسا ہو گا رات گہری ہو جائے
تو کیسا ہو گا
تو مجھ میں شامل ہو جائے
تو کیسا ہو گا
اپنی بانہوں کی آغوش میں لے لینا تم مجھ کو
میری زلف کا بھی تجھ پر اگر سایہ ہو جائے
تو کیسا ہو گا
کہیں گے ہم ہر بات نگاہوں سے
ایک رات میں اگر افسانہ بن جائے
تو کیسا ہو گا
دل پر تیرے میں اپنا نام لکھ دوں گی
تو بھی اگر میری دھڑکن بن جائے
تو کیسا ہو گا Shafaq
تو کیسا ہو گا
تو مجھ میں شامل ہو جائے
تو کیسا ہو گا
اپنی بانہوں کی آغوش میں لے لینا تم مجھ کو
میری زلف کا بھی تجھ پر اگر سایہ ہو جائے
تو کیسا ہو گا
کہیں گے ہم ہر بات نگاہوں سے
ایک رات میں اگر افسانہ بن جائے
تو کیسا ہو گا
دل پر تیرے میں اپنا نام لکھ دوں گی
تو بھی اگر میری دھڑکن بن جائے
تو کیسا ہو گا Shafaq
خبر کیا تھی یوں بھی ملاقات ہو گی خبر کیا تھی یوں بھی ملاقات ہو گی
بن کر اجنبی ہماری پہچان ہو گی
پہروں جس سے بات ہوتی تھی
آج ذرا سی بات کے لیئے
الفاظ کی تلاش ہو گی
سامنے بیٹھ کر بھی وہ
مجھ سے دور ہو گا
دیکھنے کے لیئے بھی اس کو
کسی بہانے کی تلاش ہو گی
کیا معلوم تھا یوں بھی ہو گا
زندگی تھی کل تک جس کے ساتھ حسین تر
آج اس کے بغیر ویران ہو گی
تھا کبھی جس پر اختیار میرا
آج اس کی حق دار کوئی اور ہو گی Shafaq
بن کر اجنبی ہماری پہچان ہو گی
پہروں جس سے بات ہوتی تھی
آج ذرا سی بات کے لیئے
الفاظ کی تلاش ہو گی
سامنے بیٹھ کر بھی وہ
مجھ سے دور ہو گا
دیکھنے کے لیئے بھی اس کو
کسی بہانے کی تلاش ہو گی
کیا معلوم تھا یوں بھی ہو گا
زندگی تھی کل تک جس کے ساتھ حسین تر
آج اس کے بغیر ویران ہو گی
تھا کبھی جس پر اختیار میرا
آج اس کی حق دار کوئی اور ہو گی Shafaq
اس کے ہونٹوں پر ہاتھوں کی لکیروں میں
کوئی تو اس کے نام کی ہوتی
میری بھی سحر
اس کی شام سے جوان ہوتی
وہی ہوتا غرور میرا
میری بھی کبھی اس کے نام سے پہچان ہوتی
اس کے ہونٹوں پر کبھی
میرا بھی نام ہوتا
آنکھوں میں بھی اسکی
میری تصویر ہوتی
بیٹتھا جو شام کو
ہر فکر سے آزاد ہو کر
ایک پیالی چائے کی میری بھی ساتھ ہوتی
آنکھوں میں اس کی جو خواب ہوتے
ان خوابوں کی تعبیر
میرے ساتھ میں ہوتی Shafaq
کوئی تو اس کے نام کی ہوتی
میری بھی سحر
اس کی شام سے جوان ہوتی
وہی ہوتا غرور میرا
میری بھی کبھی اس کے نام سے پہچان ہوتی
اس کے ہونٹوں پر کبھی
میرا بھی نام ہوتا
آنکھوں میں بھی اسکی
میری تصویر ہوتی
بیٹتھا جو شام کو
ہر فکر سے آزاد ہو کر
ایک پیالی چائے کی میری بھی ساتھ ہوتی
آنکھوں میں اس کی جو خواب ہوتے
ان خوابوں کی تعبیر
میرے ساتھ میں ہوتی Shafaq
اداس آنکھوں میں اس کی اداس آنکھوں میں اس کی
اپنے لیے پیار دیکھا ہے
جیت کر بھی سب کچھ
کسی کے چہرے پر ہار کو دیکھا ہے
تڑپتے رہے جس کی چاہ میں تمام عمر
آج اس کو اپنے لیے بے قرار دیکھا ہے
دعاؤں کا صلہ ہے میری یا
قسمت نے ہاتھ تھاما ہے
لا علم تھا جو نام سے بھی میرے
آج اسے اپنا نام پکارتے دیکھا ہے
مت پوچھ اے دل کہ آج تو
دنیا کو اپنے قدموں میں دیکھا ہے
جنون عشق کی کیفیت کو آج
خود پہ طاری ہوتے دیکھا ہے
دیکھے تھے جو خواب برسوں میں نے
آج انھیں حقیقت میں بدلتے دیکھا ہے
Shafaq
اپنے لیے پیار دیکھا ہے
جیت کر بھی سب کچھ
کسی کے چہرے پر ہار کو دیکھا ہے
تڑپتے رہے جس کی چاہ میں تمام عمر
آج اس کو اپنے لیے بے قرار دیکھا ہے
دعاؤں کا صلہ ہے میری یا
قسمت نے ہاتھ تھاما ہے
لا علم تھا جو نام سے بھی میرے
آج اسے اپنا نام پکارتے دیکھا ہے
مت پوچھ اے دل کہ آج تو
دنیا کو اپنے قدموں میں دیکھا ہے
جنون عشق کی کیفیت کو آج
خود پہ طاری ہوتے دیکھا ہے
دیکھے تھے جو خواب برسوں میں نے
آج انھیں حقیقت میں بدلتے دیکھا ہے
Shafaq
تجھے جیت جاؤں آرزو ہے تیری ہو جاؤں
ہار کر دنیا میں تجھے جیت جاؤں
معلوم ہے یہ ممکن نہیں
سچ تو یہ ہے میں تیرے قابل بھی نہیں
تجھے پانے کی تمنا چھوڑ دی میں نے
مگر بھولنے کا تجھے کوئی طریقہ بھی نہیں
تیری روح سے میرا تعلق ہو گا
تیرے جسم کی مجھے طلب نہیں
دل پر ایک پتھر رکھیں گے
تیرے عشق کو روح میں زندہ رکھیں گے
چلیں گی جب تک یہ سانسیں ہماری
تیری یاد کو ہر سانس میں رواں رکھیں گے
Shafaq
ہار کر دنیا میں تجھے جیت جاؤں
معلوم ہے یہ ممکن نہیں
سچ تو یہ ہے میں تیرے قابل بھی نہیں
تجھے پانے کی تمنا چھوڑ دی میں نے
مگر بھولنے کا تجھے کوئی طریقہ بھی نہیں
تیری روح سے میرا تعلق ہو گا
تیرے جسم کی مجھے طلب نہیں
دل پر ایک پتھر رکھیں گے
تیرے عشق کو روح میں زندہ رکھیں گے
چلیں گی جب تک یہ سانسیں ہماری
تیری یاد کو ہر سانس میں رواں رکھیں گے
Shafaq