قائداعظم کا پاکستان آج کا نوجوان کے نزدیک

(Khateeb Ahmed, )

آج ہماری نوجوان نسل قائد اعظم اور قائد اعظم کے نظریات کے بارے میں بس 14 نکات تک محدود ہے۔ ۔ لیکن اس موضوع کا انتخاب میرے نزدیک ہماری قوم کو ایک بھولا سبق یاد دلانے کے مترادف ہے اور یہ نکات ہم کئی مرتبہ پڑھ چکے ہیں لیکن ہم قوم اس سے آج تک وہ سبق حاصل نہیں کرسکی ہے جو ان نکات کا اصل مقصد تھا۔ محمد علی جناح ؒکا ہم سب پر’’ احسان‘‘ ہے کہ آپ نے ہمیں ایک’’ آزاد‘‘ ملک لیکر دیا لیکن’’ بدقسمتی ‘‘سے آج اس ملک میں جمہوریت کی بجائے’’ جاگیردارنہ‘‘ نظام مسلط ہےاور آج بھی ہم ان بے حِس اور جابر حکمرنوں کے تابع ہیں حالانکہ اس وطن عزیز کو حاصل کرنے کیلے لاکھ جانوں کی قربانی دی گئی ہے۔

جناح کا پیدائشی نام’’ محمد علی جناح بھائی‘‘ تھا اور وہ غالباً 1876ء میں ایک’’ کرائے ‘‘کے مکان وزیر مینشن کراچی کے دوسری منزل میں جناح بھائی پونجا اور ان کی بیوی’ ’مٹی بائی‘‘ کے ہاں پیدا ہوئے۔ جناح کی جائے پیدائش پاکستان میں ہے لیکن یہ اس دور میں بمبئی کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جناح کا تعلق ایک’’ متوسط آمدنی‘‘ والے گھرانے سے تھا، انکے والد ایک ’’تاجر‘‘ تھے جو کہ نوابی ریاستیں گونڈل (کاٹھیاواڑ، گجرات) کے گاؤں پنیلی میں پیدا ہوئے تھے انکی والدہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ وہ 1875ء میں کراچی منتقل ہوگئے اور وہ اس سے قبل ہی’’ رشتہ ازدواج‘‘ میں بندھ گئے تھے۔جناح کا اپنے بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا، انکے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں جن میں’’ فاطمہ جناح ‘‘بھی شامل تھی۔ انکے والدین گجراتی زبان بولتے تھے جبکہ بچے کچھی زبان اور انگریزی بھی بولنے لگے تھے سوائے فاطمہ کے، جناح کے باقی بہن بھائیوں کے متعلق کم ہی ’’معلومات دستیاب‘‘ ہیں جیسے کہ وہ کہاں رہے اور آیا کبھی وہ جناح کے وکالتی اور سیاسی میدان میں کامیابیوں کے دوران ان سے ملے بھی یا نہیں؟

خصوصًا نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ ہم سب قائد اعظم کے نظریات اور تصورات سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ کیوں کہ قائد اعظم کے نظریات، تصورات، خواہشات، اصول اور پاکستان کے لئے انکے وژن کو ہر دور کی حکومت نے نظر انداز کیا ہے اس ملک کے سیاستدانوں کی ترقی کا یہ عالم ہے جن دولت دن دگنی اور رات چگنی ہوتی ہے اور عوام کے دباٶ پر فقط ایک معمولی سی اسکیم سے دل بہلا دیاجاتا ہےکیونکہ ہم قائد اعظم کے نظریات اور تصورات کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اس ملک کا نوجوان جو رشتہ بھیجنے کے بعد اپنے سسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ جہیز کتنا دو گے اور عورت کو محبت سے نہیں پیسے تولتا ہے اور اسے سر بازار نیلام کردیتا ہے آس ملک کا نوجوان اپنی سوچ ، تعلیم اور صلاحیت سے اس ملک میں تبدیلی کا خواہشمند نہیں بلکہ بد دیانتی اور کرپشن کے رواج پر عمل کرتا ہے اور ‏تعلیم اور کیریئر کی فکر کرنے کی بجائے حَسین دوشیزاٶں پر وقت صَرف کرکے اپنے آپ کو برباد کرتا ہے زندگی میں کبھی کچھ نہیں بن پاتا پھر کہتے ہیں کہ یہ جناح کے خوابوں کی تعبیر ہے، میں اپنے نوجوانوں سے بس یہ کہتا ہوں کے کہ کام ایسا کرو کہ TV پر دیکھے جاٶ CCTV پر تو چور بھی نظر آجاتا ہے۔

آزادی کے 77 سال گزر جانے کے باوجود بھی ہم اس الجھن کا شکار ہیں اور اس سوچ میں گُم ہیں کہ آخر قائداعظم کے نظریات اور تصورات درحقیقت تھے کیا ہے جن پر تجزیہ اور راۓ تو دی جاتی ہےمگر افسوس اس بات کا ہے کہ ان نظریات اور تصورات عملی طور پر انجام نہیں دیا جاتا آج اگر ہم اپنے ماضی کو دیکھیں تو ہمیں یہ سب نظر نہیں آئے گا ہم نے نہ صرف قائد کو بھولادیا بلکہ اس کے فرمودات کو بھی پس پشت ڈال دیا۔
تحریر :خطیب احمد

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khateeb Ahmed

Read More Articles by Khateeb Ahmed: 8 Articles with 4379 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Dec, 2017 Views: 298

Comments

آپ کی رائے