قائداعظم اور عالم اسلام

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
قائداعظم اور مصری مشاہیر یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی جدوجہد کا عالم اسلام کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ہے جیسا کہ 19 دسمبر کی پریس کانفرنس سے ظاہر ہوتا ہے ۔ قائداعظم نے اپنے مصری میزبانوں کی ہندو ذہنیت اور اس کے ممکنہ اثرات سے بھی خبردار کیا۔ موجودہ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں ہندوستان جو کردار ادا کررہا ہے قائداعظم نے آج سے پچاس سال پہلے اس کی پیش گوئی کردی تھی والد مرحوم مولانا مظہر علی کا مل کی یادداشتوں کے بموجب قائداعظم مصر کے قیام کے دوران اسکندریہ کے مشہور باغ انتونیوس کے محل میں ٹھہرے تھے۔

قائداعظم محمد علی جناح کا شمار دنیا کے اُن گنے چنے مشاہیر میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے تاریخ پر اپنے گہرے اور ان منٹ نقوش مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی جنگ آزادی کی قیادت کی،بیک وقت انگریزوں کی استعمال قوت اور ہندؤں کی سازشوں کا بے جگری سے مقابلہ کیا بل کے ساتھ ہی ساتھ تیسری دنیا اور عالم اسلام میں جاری حریت اور آزادی کی تحریکوں کے لئے ایک ولولہ انگیز فکروعمل کا نمونہ فراہم کیا۔

جس کی بنا پر اُن کی شخصیت و کردار کے اثرات برصغیر کی جغرافیائی حدود سے کہیں دور انڈونیشیا سے لے کر شمالی افریقا تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ تیسری دنیا اور عالم اسلام میں قائداعظم کی مقبولیت کی وجہ سے مشترکہ سیاسی تناظر اور مخصوص معاشی اور معاشرتی حالات ہیں برطانوی سامراج اور نو آبادیاتی تسلط کی بناء پر ایشیا اور افریقا کے محکوم ممالک میں پائے جاتے تھے۔

جس زمانے میں مسلمان برصغیر میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمان بھی انڈونیشیا اور ملایا میں بیرونی تسلط اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف ستیزہ کارتھے۔ ٹنکو عبدالرحمن برطانوی اقتدار کے خلاف خطے کے مسلمانوں کو متحد کررہے تھے۔ اس طرح پہلی عالمی جنگ کے خاتمے اور خلافت عثمانیہ کے انقراض کے بعد برطانیہ اور فرانس کو مشرق وسطیٰ کے ممالک لبنان،اُردن،عراق، شام، خلیج فارس کی وسعتوں اور شمالی افریقا کے انتظام وانصرام کی ذمے داریاں سونپ دی گئی تھیں۔

نو آبادیاتی نظام کو بین الاقوامی طور پر سند جواز عطا کرنے کی یہ روش لیگ آف نیشنز نے قائم کی جس کی صدائے بازگشت اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں سنی جاسکتی ہے۔ ایشیاء اور افریقا میں ان محکوم ممالک میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ جب برصغیر میں مسلمانوں نے تحریک آزادی کی ابتدا کی او ر خوش قسمتی سے انہیں قائداعظم جیسا بلند ہمت رہبر میسر آیا تو لازمی طور پر آزادی کے نام پر لڑی جانے والی تمام مسلم تحریکوں کو زبردست اخلاقی اور سیاسی تقویت ملی۔

اس کا ثبوت قائداعظم کا مصر کا مختصردورہ ہے جو آپ نے دسمبر 1946 میں کیا۔ لندن واپسی پر قائداعظم 16 دسمبر سے 19 دسمبر تک مصر میں مقیم رہے ۔ عرب مشاہیر اور لیڈروں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی روایتی اسلامی اخوت کا مظاہرہ کیا اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت کے اس خواب میں مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں نے اسلامی نشاثانیہ کی تعبیر دیکھی تھی۔

قائداعظم اور مصری مشاہیر یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی جدوجہد کا عالم اسلام کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ہے جیسا کہ 19 دسمبر کی پریس کانفرنس سے ظاہر ہوتا ہے ۔ قائداعظم نے اپنے مصری میزبانوں کی ہندو ذہنیت اور اس کے ممکنہ اثرات سے بھی خبردار کیا۔ موجودہ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں ہندوستان جو کردار ادا کررہا ہے قائداعظم نے آج سے پچاس سال پہلے اس کی پیش گوئی کردی تھی والد مرحوم مولانا مظہر علی کا مل کی یادداشتوں کے بموجب قائداعظم مصر کے قیام کے دوران اسکندریہ کے مشہور باغ انتونیوس کے محل میں ٹھہرے تھے۔

یہ تاریخی مقام ہے جس میں جنگ عظیم دوم کے دوران اتحادی سربراہوں کا اجلاس ہوا تھا او ر عرب لیگ کا قیام بھی اس عمارت میں عمل میں آیا ۔ والد صاحب نے مئی 1948 کو مصر کا دورہ کیا، تاکہ ریاست حیدر آباد کے لئے عالم السلام میں رائے عامہ ہم وار کی جاسکے اور ہندو جارحیت کے خلاف مدد حاصل کی جاسکے۔اسی تاریخی پس منظر کی بناء پر پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اخوان المسلمین کے رہنماؤں نے پاکستان کا دورہ کیا۔

اپریل1948ء میں والد بزرگوار نے اخوان کے سیکرٹری صالح عشماوی سے کراچی میں ملاقات کی اس کے بعد مئی میں قاہرہ میں اخوان کے جلسوں میں والد صاحب نے شرکت کی جن میں جناب حسن البنا صالح عشماری وغیرہ نے حیدر آباد اور کشمیر کے مسئلوں پر پُرجوش تقاریر کیں اور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ اخوان کے وفد کو ہندوستان نے ویزدینے سے انکار کردیا تاکہ حیدرآباد اور کشمیر کے حالات پر پردہ پڑا رہے۔
جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں بھی قائداعظم کی شخصیت کو عزت و تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ میں نے 1976 میں قائداعظم کی صدسالہ تقریبات کے انعقاد کے سلسلے میں جب میں نے وہاں کی قومی یونی ورسٹی کیبنگسان کے کلیہ معارف اسلامی کے ڈین ڈاکٹر یوسف نور سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے بلاتامل دیوان ملک فیصل آڈیٹوریم کو اس مقصد کے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔

واضح رہے کہ ان دنوں مین اس یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا۔ کولالمپور میں قائداعظم کی صد سالہ تقریبات بڑی دھوم دھام سے منائی گئیں۔ یونی ورسٹی کے اس جلسے میں ملائیشیا کے اس وقت کے وزیر تعلیم مہمان خصوصی تھے اس موقع پر ایک یادگاری شیلڈ بھی تیارکی گئی تھی۔ اس سلسلے میں میں مینا بازار اور 25 دسمبر کی رات عشایئے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ تمام باتیں اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم کی شخصیت اور ان کے کارنامے آج بھی زندہ اور پائندہ ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84514 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Dec, 2017 Views: 375

Comments

آپ کی رائے