پاک فوج کیخلاف بھارتی امریکی ہرزہ سرائی

(Raja Majid Javed Bhatti, )

پاک فوج اور آئی ایس آئی نے جس طرح پاکستان دشمنوں کی ہر طرح کی چالوں اور سازشوں کو موثر حکمت عملی سے ناکام بنایا ہے وہ دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہا یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے خلاف بھارتی امریکی سازشیں ہر رنگ میں جاری و ساری ہیں۔ 23نومبر 2017ء کو ’’را‘‘ کی زیر سرپرستی نئی دہلی کے ادارے پبلیکیشن بیورو آف پولیٹیکل ریسرچ اینڈ اینلیسز نے ایک خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی Pak Army Disastrous Obsession with India ۔ اس خبر میں پاکستان آرمی کو نشانہ بنانے والے نکات میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کی بھارت سے نفرت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ بھارت کو پاکستان کو درپیش خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ دوسرے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سویلین حکومتوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں لیکن جرنیلوں کی طرف سے ایسی کوششوں پر انہیں سبق سکھا دیا گیا۔ اسی پراپیگنڈے کے تناظر میں پاکستان میں منظم طریقے سے بار بار سول بالادستی کا سوال اٹھایا جاتا ہے۔ حالانکہ پاک فوج نے بار بار جمہوریت کے استحکام اور بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ایک اور زہر آلود بات یہ کی گئی ہے کہ پاکستان میں عدالتی انقلاب برپا کیا گیا جسے فوج کی حمایت حاصل تھی کیونکہ فوج خود پاکستان کی سرپرست ہے اور رہے گی۔ اس طرح پاکستانی فوج کئی سالوں سے سب سے زیادہ اہم ادارہ بنی ہوئی ہے۔

امریکہ کی جان ہوپکن یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈینئل ایس مارکے نے اپنے ایک آرٹیکل میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ پاکستان میں سویلین حکمرانوں کو فوجی جرنیلوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ پر مذاکرات کرنے چاہئیں اور یہ ہرزہ سرائی کی ہے کہ آرمی چیف نے کاروباری مالی مفادات اور اکنامک انٹرپرائزز بشمول ہزاروں ملازمین حاصل کیے ہیں۔ امریکہ کے ہی ادارے Carnegie Endowment for International peaceکے فیلو اور جنوب مشرقی ایشیائی امور کے ماہر ایشلے جے ٹیلس نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاندانہ اور غیر متوازن رویے کی وجہ اندرونی پالیسیوں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی خواہش ہے۔ ایشلے جے ٹیلس نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کا نتیجہ مفید نہیں بلکہ اُلٹا نکلتا ہے۔ کیونکہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہے۔ مائیکل کریپون کی طرف سے لکھے گئے ایک مضمون بعنوان ’’پاکستان کیلئے ایک آخری موقع‘‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج اسٹیبلشمنٹ علاقے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پیش آنے والے مسائل کی واحد وجہ ہے جو کہ زمینی حقیقت کی مکمل نفی ہے۔ بھارت امریکہ کے علاوہ فرانسیسی میڈیا میں بھی چند مضامین میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی اور سابق پاکستانی طالبان اور وسطیٰ ایشیائی جہادی تشکیل دینے کی ذمہ دار آئی ایس آئی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغانی علاقے ننگرہار میں داعش کے جنگجو آسانی سے پاکستان جا سکتے ہیں جہاں سے اسلحہ اور دیگر مدد انہیں مل سکتی ہے۔ پاکستان پر یہ بھونڈا الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پاکستان نے اُن طالبان کوکنارے لگا دیا ہے جو کابل کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے رضا مند تھے۔

اصل سچ یہ ہے کہ ننگرہار میں نشانات کے بغیر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعش کے جنگجوؤں کو اتارنے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں لیکن اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور تمام تر طاقت اور رعونت کے باوجود افغانستان میں شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے ، اور افغانستان میں بھارتی کردار بڑھانے کے تناظر میں پاکستان آرمی کے خلاف منظم پراپیگنڈہ مہم چلائی جا رہی ہے لیکن پاکستان دشمنوں کی تمام سازشیں پاک فوج اور آئی ایس آئی مسلسل ناکام بنا رہی ہے۔ یہ سب کچھ پاکستان دشمنوں کو برداشت نہیں ہو رہا۔ وہ پاکستانی فوج اور عوام کے درمیان قائم جذباتی رشتہ توڑنے کے لئے تمام تر سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ ستمبر 65، اور 71 کی جنگوں تک میں پاک فوج نے بہادری، شجاعت اور عسکری مہارت کے ایسے ایسے مظاہرے کیے کہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین دنگ رہ گئے۔ بزدل بھارتی فوج نے 6 ستمبر کو تمام اخلاقی تقاضوں کو نظرانداز کر کے رات کی تاریکی میں واہگہ کے راستے لاہور پر حملہ کیا۔انہیں اپنی کامیابی کا اس حد تک یقین تھا کہ بھارتی جرنیل نے شام کی بدمستیاں لاہور جم خانہ میں منانے کا اعلان بھی کردیا۔ بھارت نے اس حملے میں اپنی بیشتر فوجی طاقت جھونک دی تھی۔ پاکستان نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ بھارت الٹی میٹم دیے بغیر بین الاقوامی سرحد عبور کریگا اس لیے اس محاذ پر پاکستان کی تیاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن اﷲ کے شیر مقابلے پر ڈٹ گئے اور چند ہی گھنٹوں میں بھارتی دعوں کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ اسی طرح 71ء میں پاک فوج نے مشرقی پاکستان میں وطن عزیز کی یکجہتی کی جنگ علیحدگی پسندوں اور بھارتی فوج کے مقابلے میں جس عزیمت جرات کے ساتھ لڑی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اگرچہ یہ جنگ نہ جیتی جا سکی اور ملک دولخت ہوگیا لیکن جن نامساعد حالات میں اور ناکافی اسلحہ اور وسائل کے ساتھ یہ جنگ لڑی گئی اس کا منطقی نتیجہ یہی ہونا تھا۔ یہ تو تھی پاک فوج کے دفاع وطن کے لیے قربانیوں کی ایک جھلک، لیکن اس کے علاوہ آفات ارضی و سماوی میں مصیبت زدگان کی امداد، بحالی اور ملک کے اندر انتخابات اور مردم شماری میں فوج کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں جبکہ آج دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں پاک فوج کا کردار بھی باکمال ہے اور اسکی قربانیاں بھی بے مثال ہیں۔ پاک فوج کے انہی کارناموں کے باعث اسے وطن عزیز میں بڑی محبت اور احترام اور عوام کا اعتماد حاصل ہے۔ عساکر پاکستان اس ارض وطن کی آن بان اور شان ہیں جن کا دنیا میں کوئی نعم البدل موجود نہیں۔

اقوام متحدہ نے پاکستان کے فوجیوں کو دنیا کے مختلف مقامات پر بہادری کے کارنامے سر انجام دینے پر مختلف میڈلز سے نواز دیا۔گزشتہ برس مختلف ممالک میں قیام امن کی کوششوں کے دوران شہید ہونے والے پاک فوج کے 5 اہلکاروں کو ڈاگ ہیمر شولڈ میڈل سے نوازا ہے۔ پاک فوج کے نائب صوبیدار سلیم اختر، حوالدار غلام نبی، سپاہی نذر عباس لانس نائیک ابرار محمود اور سپاہی فہد افتخار گزشتہ برس عالمی امن کے قیام کے لئے مختلف ملکوں میں تعیناتی کے دوران شہپید ہوگئے تھے۔پاکستانی فوجیوں کو خصوصی میڈل سے نوازنے کے لئے نیویارک میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے میڈل وصول کئے،اس موقع پربان کی مون نے کہا کہ امن فوجیوں کی قربانیوں پر ہمیں فخر ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے پر زور دیتی ہیں کہ ان کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔واضح رہے کہ پاک فوج اقوام متحدہ کو دنیا کے مختلف حصوں میں امن کے قیام کے لئے سب سے زیادہ فوجی مہیا کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔

اڑتالیس میں کشمیر کی محاذ آرائی وہ بھی ایک نو آموز فوج کے لیے ، پھر مسلسل ہلکی پھلکی جھڑپیں، 65کی بڑی جنگ، 71کی شورش اور پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی، افغان جنگ میں کردار، کارگل کا سخت محاذ، اور نائین الیون کے بعد سے مسلسل اندرونی محاذ پہ مصروف عمل ہونے تک پاک فوج میں کسی بھی جگہ عصبیت، لسانیت، فرقہ واریت کے شکنجے میں نہیں آئی حالانکہ کئی دفعہ ایسا تاثر دینے کی کوشش بھی کی گئی کہ پاک فوج میں شدت پسندی حاوی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ مگر پاک فوج کی اندرونی نگرانی کے نظام نے ایسی کسی بھی کوشش کو نہ کبھی نہ صرف پنپنے نہیں دیا بلکہ ملکی سطح پر بھی پاک فوج کا حصہ بننے والے عوام کے ذہنوں سے بھی تقسیم مکمل طور پر کھرچنے میں اپنا کردار جاری رکھا۔ اور یہ وجہ ہے کہ اس وقت پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ اور پوری دنیا کسی نہ کسی حوالے سے پاک فوج کی تنظیم کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Majid Javed Bhatti

Read More Articles by Raja Majid Javed Bhatti: 57 Articles with 24737 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2017 Views: 495

Comments

آپ کی رائے