انتخابات کا سال

(Shoukat Ullah, Banu)

نئے سال کی آمد میں محض چند دن باقی ہیں۔یہ سال انتخابات کا سال بھی ہے۔گزشتہ پانچ برسوں میں سیاسی نجومیوں نے بڑی پیش گوئیاں کیں کہ اسمبلیاں ٹوٹ جائیں گی لیکن سچ ثابت نہ ہوئیں۔ ہر دفعہ کہا گیا کہ حکومت چند دن کی مہمان ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں ہوا کہ جس سے منتخب حکومت گھر جاتی اور جمہوریت ڈی ریل ہوجاتی۔تمام اداروں نے ملک کے مفاد میں ـ‘ جمہوریت کی بقاء کے لئے اچھے اور سمجھ دارانہ فیصلے کیے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور منتخب جمہوری حکومت اپنی میعاد پوری کررہی ہے۔ اقتدار کی جمہوری انداز میں منتقلی ہی جمہوریت کا حُسن ہے۔ اس کا سارا کریڈٹ تمام اداروں کو ملتا ہے کیوں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ڈی چوک پر 126 دن کا دھرنا ، پانامہ لیکس ، ڈان لیکس وغیرہ بحرانوں نے سیاسی منظر نامے میں ایسے خدشات کو جنم دیا تھا کہ حکومت آج گئی اور کل گئی۔آج بھی کچھ ایسے بھولے بادشاہ موجود ہیں جو قبل اَز وقت انتخابات کا راگ الاپ رہے ہیں۔ حالاں کہ آئینی طور پر نئی حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں ہے۔جس کے لئے مزید تین ، چار ماہ درکار ہیں۔

بات ہو رہی تھی سال 2018 ء اور انتخابات کی تو اس کا اندازہ اپنے اردگرد ہونے والے ترقیاتی کاموں سے لگایا جاسکتا ہے۔اس بات نے ذہن کو عجیب تذبذب میں ڈال دیا ہے کہ جن ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر پچھلے کئی سالوں سے چل چل کر ذلیل و خوار ہوئے ہیں ، آخر اُن کی سوئی ہوئی قسمت کیسے جاگ اُٹھی ہے۔وہ سڑکیں جن پر مریضوں نے ہسپتال پہنچنے سے پہلے دَم توڑا اور حاملہ خواتین نے رکشوں اور گاڑیوں میں بچوں تک کو جنم دیا ، آخر اُن کی سوئی ہوئی قسمت کیسے جاگ اُٹھی ہے۔اَب پرسوں کی ہی بات ہے جب کالج کے لئے گھر سے نکلا اور اندرون شہر سے گزر تے ہوئے یوں محسوس ہورہا تھا جیسا رات کو زلزلہ آیا ہو، ہر طرف دکانوں کی دیواروں ، چھجوں اور فرشوں کا ملبہ بکھرا پڑا تھا۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ضلعی انتظامیہ نے ناجائز تجاوزات کے خلاف مڈنائٹ آپریشن کیا ہے۔ پہلی بار مین بازار کشادہ کشادہ محسوس ہورہا تھا اور سورج کی کرنیں بھی زمین تک پہنچ کر اس کو تمازت بخش رہی تھیں۔ابھی تھوڑا آگے جی ٹی ایس چوک پر پہنچا ہی تھا وہاں بھی رولر سے سڑک کو ہموار کیا گیا تھا جس پر مرمتی کام بلدیاتی انتخابات سے قبل شروع ہوا تھا۔گاڑی میں بیٹھ کر قومی شاہراہ پر آیا تو اس کو بھی مرمت کی غرض سے جگہ جگہ سے کھرچا گیا تھا۔حالاں کہ برسوں سے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑک حکومت کی توجہ کی منتظر تھی۔مزے کی بات یہ کہ غیر قانونی اسپیڈ بریکروں کا بھی نام و نشان مٹا دیا گیا تھا۔صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی اتنی پھرتیوں پر یقین نہیں آرہا تھا لیکن اس لئے بھی یقین کرنا پڑ رہا تھا کہ سال 2018 ء شروع ہونے والا ہے اور یہ انتخابات کا سال بھی ہے یعنی ووٹ مانگنے کا سال۔ہاں وہی سال جس میں ایک عام انسان کی حیثیت و اہمیت قلیل مدت کے لئے بڑھ جاتی ہے اور اس کی عزت و تکریم کی جاتی ہے۔ اُن سے وعدے کئے جاتے ہیں ( جو کبھی ایفا نہیں ہوتے )۔اور پھر انتخابات کے بعد منتخب عوامی نمائندے گدھے کے سر پر سینگ کے مصداق غائب ہوجاتے ہیں۔ جن کو گلیلیو کی بنائی گئی دوربین سے بھی نہیں ڈھونڈھا جاسکتا ہے جس سے وہ ہزاروں، لاکھوں میل دور آسمانوں میں نئی کہکشائیں اور سیارے تلاش کرتا تھا۔

حرف آخر یہہے کہ عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں کیوں کہ یہ ایک قومی فریضہ ہے جس سے ملک کی تقدیر وابستہ ہوتی ہے۔ اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک حلقہ میں چارلاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہوں اور ایک اُمیدوار اسّی ہزار ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوتا ہے اور وہاں کُل ٹرن آؤٹ چالیس فیصد ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں دو لاکھ سے زائد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا اور منتخب نمائندہ محض اسّی ہزار لوگوں کا نمائندہ ہے۔ پس اپنے ووٹ کے صحیح استعمال سے ملک کی تقدیر سنواریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124465 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2017 Views: 307

Comments

آپ کی رائے