انفرادی تبدیلی کے سادہ اُصول

(Abdullah Ibn-e-Ali, Karachi)

میری یہ تحریر خاص نوجواں طبقے کیلئے ہے۔ آج ہم بات کریں گے ایک بہت ہی اہم مسئلے پر جو کہ آج کل نوجوانوں کو درکار ہے، اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی روزمرّہ کی عادات سے تنگ ہیں اور خود میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں لیکن انہیں رہنمائی حاصل نہیں ہیں ۔ تو آج ہم دیر پا اور مستقل تبدیلی کے کچھ رہنُما اصول بتائیں گے ، ایسی تبدیلی جس میں استقلال ہو وہ ہی اصل تبدیلی کہلاتی ہے اگر عارضی طور پر تبدیلی اختیار کی جائے تو وہ محض وقتی طور پر ہی فائدہ دے گی۔ یہ اصول نہایت ہی سادہ اور قابل عمل ہیں چاہے اسے ایک انسان اپنائے یا ایک قوم اور مُلک اور اس کے فائدے بھی مستقل ہیں۔

پہلااصول یہ ہے کہ آپ اپنے معیار کو بُلند کریں ، اپنی زندگی کا ایک معیا ر تعمیر کریں۔ اپنے اوپر پابندیاں لگائیں کہ آج سے کیا نہیں کرنا اور کیا کیا کام کرنے ہیں جس سے آپ کی ایک شخصیت تعمیر ہو ، اسے ہم خود شناسی بھی کہتے ہیں ۔ ابتداء میں مُختصر پابندیاں لگائیں اور جب آپ کیلئے عمل کرنا آسان ہوجائے تو وقتاً فوقتاً پابندیاں بڑھاتے جائیں ، مثلاً آپ اپنی سُستی اور کاہلی سے پریشان ہیں تو دوستوں کے کہنے پر فوراً جِم خانہ میں داخلہ مت لیں کیونکہ آپ محض ایک ہفتے سے زیادہ جا نہیں پائیں گے اور آپ کی روٹین خراب ہوجائے گی اسی لیئے شروع میں محض گھر پر ہی ڈنڈ پیل نکالنا سیکھیں اور پہلے صرف ایک ہی پر گزارہ کریں اور آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں ۔ اسی طرح اگر آپ نماز نہیں پڑھتے لیکن احساس ہوتا ہے تو پہلے صرف دو رکعت پڑھنے سے شروعات کریں ، پھر دوسرے دن ایک وقت کی نماز ادا کرلیں پھر آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں آپ دیکھیں گے کہ آپ پورے دن کی تمام نمازیں ادا کرنے لگ گئے ہیں لیکن ایک عاجز اور گناہگار مُسلمان ہونے کے ناطے میری آپ سے گزارش ہوگی کہ جتنی بھی نماز پڑھیں سُکون سے پڑھیں تاکہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ اپنے خیالات کو بدل ڈالیں ، بلکہ ایسا کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ صرف اعلیٰ خیالات ہی سوچیں ، کیونکہ آپ کے خیالات آپ کے عقیدے کی بُنیاد ہیں اور عقیدہ بہت ہی ضروری چیز ہے ، اس کا تعلق آپ کے لاشعور سے ہوتا ہے ، مثلاً آپ کو ایک رنگ بہت پسند ہوگا اور دوسرا بالکل بُرا معلوم ہوتا ہوگا لیکن اس کی وجہ آپ نہیں جانتے لیکن اگر اپنی ابتدائی یادداشت میں جائیں تو آپ کو معلوم ہوسکے گا کہ یہ رنگ پہلی دفعہ آپ کو کیوں پسند آیا تھا ۔ یہ بہت ہی معمولی سی مثال ہے ، آپ نے خود کے بارے میں ایک نظریہ اور عقیدہ قائم کیا ہوا ہے مثلاً ’ میں پڑھائی میں کمزور ہوں یا مُجھے ریاضی کا مضمون بالکل نہیں پسند ، آپ کا عقیدہ آپ کے لیئے احکامات کا درجہ رکھتے ہیں ، اب اگر آپ ریاضی پڑھنے کی کوشش بھی کریں گے تو آپ کے اندر سے آواز آئے گی کہ میں نہیں پڑھ سکتا ، جو چیز مُجھے پسند نہیں آخر میں وہ کر بھی کیوں سکتا ہوں وغیرہ وغیرہ ۔ حالانکہ اگر آپ خود کو یہ باور کرادیں کہ ریاضی کے بارے میں آپ کا عقیدہ صحیح نہیں تھا اور ریاضی ایک بہت دلچسپ مضمون ہے ، آپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ آپ ریاضی میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ ریاضی آپ کا پسندیدہ مضمون ہوگا۔ اسی طرح سماج میں آپ نے مُختلف افواہیں سُنی ہونگی مثلاً اگر آپ کا تعلق سُنّی گھرانے سے ہے تو آپ نے یہ ہی سُنا ہوگا کہ شیعہ مسلمان نہیں ہوتے وغیرہ لیکن اگر آپ ٹھنڈے دل اور دماغ سے کسی شیعہ مُسلمان کو دوست بنائیں گے اور اُ س سے یکسانی اور اختلافی مسائل پر گفتگو کریں گے تو آپ کا یہ عقیدہ کہ وہ مُسلمان نہیں بدل جائے گا اور آپ کے دل میں اُس کیلئے نفرت کی جگہ محبت اور ہمدرردی آجائے گی۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ آپ اپنی حکمت ِ عملی بدل ڈالیں ۔ کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اب تک جو آپ کی حکمت ِ عملی رہی اُس سے وہ نتائج اگر حاصل نہیں ہورہے ،مثلاً آپ چاہتے ہوں کہ لوگ آپ میں دلچسپی لیں لیکن آپ کی حکمت عملی یہ ہے کہ آپ محافل سے گریز کرتے ہیں اور اگر چلے جائیں تو پورا وقت خاموش رہیں اور اس غلط فہمی کا شکار ہوں کہ لوگ خود چل کر آپ کے پاس آئیں گے تو پھر ظاہر ہے کہ آپ دوست نہیں بناسکیں گے ۔ لیکن اگر آپ خود لوگوں کے پاس جائیں اور اُن میں دلچسپی لیں تو پھر وہ لوگ بھی آپ سے دوستی کرنا چاہیں گے ۔ اسی طرح اگر آپ صبح جلدی اُٹھنا چاہتے ہیں اور رات کو دیر تک جاگتے ہیں تو پھر صبح سویرے اُٹھنا محض ایک خواب ہی ہوگا ۔ بجائے اس کے کہ آپ صبح اُٹھنے کی کوشش کریں ، رات کو جلدی بستر پر لیٹ جائیں تو بھلے ایک دن نہ صحیح تین چار دن بعد تو نیند آنا شروع ہوجائے گی اور آپ صبح اُٹھنے بھی لگ جائیں گے۔ ایک دانا کا قول ہے’ اگر تم وہی کام کررہے ہو تو تمہیں نتیجہ بھی ویسا ہی ملے گا لیکن اگر نتیجہ کچھ اور چاہتے ہو تو پھر وہ کام کرو جو تمہیں کرناچاہیئے‘۔
؂

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdullah Ibn-e-Ali

Read More Articles by Abdullah Ibn-e-Ali: 22 Articles with 10469 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2017 Views: 473

Comments

آپ کی رائے