عاشق من الفلسطین

(Ainee Niazi, Karachi)

 وہ نو عمر سا فوزی الجنیدی جس نے سر مئی ٹی شرٹ اور جینس پہن رکھی ہے گھر سے اشیائے خوردو نوش خریدنے نکلا تھا لیکن اب خوف زدہ سا اسرائیلی فو جیوں کے حراست میں نظر آ رہا ہے اس نہتے لڑکے کو گرفتار کرکے لے جا نے والے دو ،چارنہیں دودر جن فو جی ہیں جو دنیا کے جدید اسلحے سے لیس دکھا ئی دیتی ہے ان تما م فو جیوں نے سر کے ہیلمٹ سے لے کر بوٹ تک حفا ظتی ساما ن اپنے جسموں پر سجا ئے ہو ئے ہیں وہ اس لڑکے کو دھکیلتے جاتے ہیں یہ محض ایک فوٹونہیں ظلم و بے بسی کا استعارہ ہے کہتے ہیں ایک تصویر ایک لا کھ الفا ظ پر بھا ری ہوتی ہے سیانوں کی کہی گئی با ت کا منہ بو لتا ثبو ت فوزی الجنیدی کی یہ تصویر ہے جسے دیکھ کر ترک صدر اردوان بھی چپ نہ رہ سکے کہتے ہیں’’ میرے بہن اوربھائیوں کیا آپ کو یہ تصویر دکھا ئی دے رہی ہے ؟ یہ دہشتگر اسرائیل کی تصویر ہے ایک فلسطینی بچے کو 20 فو جی پکڑے ہو ئے ہیں ایک معصوم 14 سالہ بچے کویہ بزدل آنکھوں پر پٹی با ندھ کر لے جا رہے ہیں اور پھر لوگ پو چھتے ہیں میں کیوں اسرا ئیل کو دہشتگرد ملک کہتا ہوں ایک بچے پربیس فو جی چھوڑنے والے بزدل نہیں تو اور کیاہیں،،

فوزی الجنیدی ا وراسکے ہم وطنوں کی داستان ان کا دکھ دردایک دوسرے سے قطعی مختلف نہیں ہجرت ، کیمپوں کی زندگی ، قیدو بند، کی صعو بتیں ،اسرائیلی بر بریت جنھوں نے کئی نسلوں کا بچپن ان سے چھین لیااپنے گھر کا سکون وآرام کیا نعمت ہو تی ہے کوئی ان بے دخل کیے جا نے والے فلسطینیوں کے دل سے پو چھے صا برہ و شتیلاکیمپوں میں ڈھائے گئے مظالم کا ذخم آج بھی مند مل نہیں ہو سکا ارض مقدس کی آزادی کا خواب سجا ئے کئی نسلیں دنیا سے رخصت ہو ئیں اور آنے والی آل اولاد کو یہ جدو جہد سونپ گئی کیمپوں میں مہاجرین کی زندگی لمبی قطاروں میں لگ کر راشن حاصل کر ناجلا وطنی در بدر ہونا یہ و ہ اذیتیں تھیں جنھیں اس شاعر نے بھی سہیں جسے ہم اور ساری دنیا فلسطین کی انسا نیت کا پیغمبر شاعر کہتی ہے محمود درویش! جسے عربوں نے سر آنکھوں پر بٹھا یا فلسطینیوں نے اپنا قومی شا عر مانا محمود درویش جسم سے روح تک ایک فلطینی تھا بچپن میں ایک سوال اس کے گرد احا طہ کیئے رکھتا آخر مقامی دوستوں کی طرح ان کا اپنا گھر کیوں نہیں ؟ جبرا ّجلا وطن اس بچے کو سوال کا جواب کبھی نہیں ملا چھ سال کی عمر میں اپنا گا ؤں اس کی ہریا لی ، زیتون سے بھرے باغ ،بڑا ساگھر اور بہن بھا ئی کس قدر خواب ناک زندگی تھی جسے یکایک اسرائیلیوں کے حملے نے تباہ کر دیا وہ سب جان بچا کر بھا گنے پر مجبور ہو ئے نجانے کتنے دن کی طویل مسافت طے کی لبنا ن پہلی پناہ گا ہ بنا ایک سال بعد دوبا رہ اپنے علا قے میں واپس آئے تو پورا گا ؤ ں نیست ونا بود ہو چکا تھا اسرائیلی قا بضین نے آبادیاں بنا لی تھیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کر رہنا ایک کرب مسلسل تھا حالت کی ستم ظریفی نے اسے وقت سے پہلے فہم عطا کر دیا تھااسے مصوری اور شا عری کا شوق تھا لیکن مصوری کے لوازمات خریدنے کی حیثیت نہ تھی اس لئے اس نے شاعری پر توجہ دی تیرہ سال کی عمر میں اپنی پہلی نظم اسرائیل کی آٹھویں سالگرہ کے جشن میں پڑھی اسکول کے ما ئکروفون کو پکڑے لبنانی بچے کے اندر اٹھنے والے سوال کا جواب ما نگاتھا ۔
تمھارے پاس گھر ہے میرے پا س کیوں نہیں
تم جیسے چا ہو جس طرح چا ہو سورج کے نیچے کھیل سکتے ہو
میں کیوں نہیں
خوشیاں تمھارے لئے ہیں میرے لیے کیوں نہیں
میں ایک پناہ گزیں کیوں ہوں
تم اور میں اکھٹے مل کر کھیل کیوں نہیں سکتے
اگلے دن اسے فوجی دفتر میں بلا کر سخت سرزنش کی گئی اسرائیلیوں کوایسی نظموں سے بغاوت اور سر کشی کی بو آتی ہو گی جو انھیں کہا ں برداشت ہوتی بچے کو ادارک ہو چلا تھا کہ زندگی کی عدالت میں ایسی سینکڑوں پیشیاں بھگتنی ہوں گی وہ اپنی شاعری سے پوری دنیا کو اسرائیلی ظلم وجبر
کی داستان بیان کرتا رہا دنیا کے کئی زبانوں میں اسکے ترا جم ہو ئے پڑھنے والوں نے اس کے لکھے ہو ئے لفظوں پر اشک بہا ئے محمود درویش نے بڑی استقامت سے اپناسفر جاری رکھا اس فلسطینی عاشق کے لیے گرفتاریاں قید سزا معمولی بات تھیں محمود درویش پر کڑی نگرانی رکھی جا تی اسے رات کو گھر سے نکلنے کی آزادی نہیں تھی روزانہ تھانے جا کر حا ضری دینی پڑتی لیکن اسنے وطن کی محبت میں خون دل کو سیا ہی بنا ئے رکھا وہ کیسے بھول سکتا تھا کہ اسرائیلوں کی جبری بے دخلی کے محض دوسال بعد وہ اپنے ہی وطن واپس آنے پر تارکین شمار ہوگا اس کرب کو اندر کاشاعر یوں بیان کرتا ہے کہ
میں دو جنتوں کا وہ آدم ہوں
کہ جن سے دوبا ر نکالا گیا ہو ں
مجھے بہت آہستگی سے نکالو
مجھے آرام سے ما رو
گا ر شیا لورا کے ساتھ زیتون کے پیڑکے نیچے دفن کر دو
دوسری نظم قید اور محاصر میں لکھتا ہے کہ
زمین ہما رے اوپر تنگ ہو رہی ہے
ہم کہاں جا ئیں گے ۔ اس آخری سر حد کے بعد
پرندے کہاں اڑیں گے ۔ اس آخری آسمان کے بعد
فلسطین میں ابدی آرام گاہ اسکی خواہش تھی فلسطینی قوم نے رملہ میں پورے قومی اعزاز کے ساتھ اس کی تدفین کی تین دن سرکاری سوگ رہا جد وجہد اور قربانیوں کا جو سلسلہ محمود درویش کی نسل سے شروع ہوا تھا اب تک جا ری ہے عا شق من الفلسطین اس کی شہرہ آفاق نظم ہے جو ہر فلسطینی کے دل کی آوازہے انکا ترانہ ہے فلسطین کے عوام صہیو نی طا قت کے آگے نہ کبھی جھکیں ہیں نہ جھکیں گے ٹرمپ کے یرو شلم کو اسرائیلی درالحکومت بنا ئے جا نے کے اعلان نے پو ری دنیا کے مسلما نو ں کے جذبا ت کو مجروح کیا ہے ۔ترکی میں اوآئی سی کے اجلاس میں باون مسلم ممالک کے وفد نے شرکت کی اور اپنی یکجہتی کا اظہار کیا یہ کو ئی معمولی با ت نہیں ترکی کے سر براہ مملکت جو او آئی سی کے صدر بھی ہیں ان کے اندر بھی ایک فلسطینی عاشق بستا ہے اپنے خطاب میں اردوان فرماتے ہیں کہ
’’خد اکی قسم مسجد اقصیٰ میری آنکھوں کا تا را ہے بخدا میں کبھی مسجد اقصیٰ ان ظا لموں کے ہا تھوں بر باد نہیں ہو نے دوں گا خدا کی قسم ! ہم بیت المقدس کو ان اسرا ئیلیوں کے ہا تھوں میں نہیں چھوڑیں گے جن کا لوٹ مار اور دہشت گردی کے علا وہ اور کو ئی کا م نہیں ہم کمزور
ضرور ہیں مگر ابھی ضمیر مردہ نہیں مسجد اقصیٰ کو لے کر دکھا ئیں گے،،۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ainee Niazi

Read More Articles by Ainee Niazi: 150 Articles with 98929 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2017 Views: 575

Comments

آپ کی رائے