کیا ایشیا کو خوابوں کی تعبیر مل پائے گی؟

(Sami Ullah Malik, )

توانائی اب بھی دنیا بھر میں اہم ترین اسٹریٹجک اثاثہ شمار کی جاتی ہے اور اسی کی بنیاد پر کسی بھی چھوٹی یا بڑی معیشت کے پنپنے اور ریاست کے تمام افراد کے خوش حالی سے ہم کنار ہونے کا مدار ہے۔ دنیا بھر میں جن ممالک نے پائیدار ترقی کو ہدف بنایا ہے وہ توانائی کے حصول کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ برداشت نہیں کرتے، اور اس حوالے سے ایسی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں جو ان کی ترجیحات کو بالکل واضح کردیتی ہیں۔ انرجی سیکیورٹی اب بڑی اقوام کی پالیسیوں میں انتہائی اہم مقام رکھتی ہے۔ توانائی کے حصول کی راہ میں حائل دیواریں گرانے کی صلاحیت ہی کی بنیاد پر اب یہ طے کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے اہداف کا حصول یقینی بنانے کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ اگر ہم مستقبل کے حوالے سے کی جانے والی تیاریوں پر نظر دوڑائیں تو ترقی کے اہداف کا حصول یقینی بنانے کے حوالے سے انرجی سیکیورٹی کے شعبے میں دو اہم رجحانات ابھرتے ہوئے دکھائیں گے۔

پہلارجحان تویہ ہے کہ ایشیا میں چین،بھارت اورپاکستان جیسی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کیلئےتوانائی کی طلب بڑھتی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ صنعتی، مالیاتی اوردیگرکاروباری سرگرمیوں کامرکز مغرب سے ایشیا کی طرف کھسک رہا ہے۔ ۲۰۴۰ء تک توانائی کی عالمی طلب میں۳۰ فیصد اضافہ ہوچکاہوگا۔ اس میں چین کا حصہ۸۵فیصد اوربھارت کا۳۰۰ فیصدہوگا۔اس مدت کے دوران دنیابھر میں کوئلے کااستعمال بھی نقطۂ عروج کوچھورہاہوگاجبکہ قدرتی گیس کے استعمال میں کم وبیش۵۰فیصداضافہ ہوچکاہوگا۔اس مدت کے دوران توانائی کے شعبے میں کم وبیش۴۴ہزارارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی جاچکی ہوگی۔ اس میں ۶۰فیصد پٹرولیم اورگیس کے شعبے میں اور۴۰فیصد توانائی کے قابل تجدیدیاغیر روایتی ذرائع کے شعبے میں ہوگی۔
تیزی سے ابھرتاہوادوسرارجحان یہ ہے کہ دنیابھرمیں قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کے استعمال سے ماحول کوغیرمعمولی نقصان پہنچ رہا ہے۔ آبی حیات متاثرہورہی ہے اورحیاتیاتی تنوع بھی ان منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکاہے۔ دنیابھرمیں پٹرولیم اورقدرتی گیس کے بڑھتے ہوئے استعمال سےماحول کوشدید نقصان پہنچ رہاہے۔پیرس معاہدے کے تحت ان گیسوں کے اخراج کوایک خاص حدمیں رکھناہے جوماحول کو شدید نقصان سے دوچار کرتی ہیں۔عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کورواں صدی کے آخرتک ۲سیلسیس سے کم رکھناہے۔

دنیابھرمیں ترقی پذیرممالک ماحول کونقصان پہنچانے والے مادوں کااستعمال محدودکرنے کے عالمی معاہدوں کواپنی راہ میں دیوارسمجھنے کی بجائے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے توانائی کے حصول کے ایسے ذرائع اپنارہے ہیں،جو ماحول دوست بھی ہوں اوردوسروں پرانحصاربھی کم ہو۔ بیشترترقی پذیرتوانائی کے معاملے میں مقامی ذرائع کوترجیح دینے کی راہ پرگامزن ہیں کیونکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس معاملے میں بیرونی ذرائع پرمکمل انحصاران کیلئےشدید مشکلات پیداکرسکتاہے۔اس معاملے میں چین اوربھارت کی مثال بہت واضح ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کوبہت تیزی سے کلین انرجی سپرپاورزمیں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے تیزی سے ابھرنے والے یہ دورجحانات توانائی سے متعلق سفارت کاری،تجارت،سرمایہ کاری اورترقی کارخ متعین کرنے میں کلیدی کرداراداکررہے ہیں۔آنے والے عشروں میں توانائی کے حوالے سے ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں اورمشرق وسطیٰ کے قدرتی وسائل سے مالامال ممالک کے درمیان تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے۔چین اوربھارت کوزیادہ توانائی درکارہو گی اورمشرق وسطیٰ ان کیلئےبہترین سپلائی لائن ثابت ہوسکتی ہے۔ دنیابھرمیں تیل اورگیس کے سب سے زیادہ ذخائرمشرق وسطیٰ میں مرتکزہیں اوریہ خطہ تیل اورگیس کی برآمدکاسب سے بڑاذریعہ ہے،تاہم یہ حقیقت کسی طورنظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ مشرق وسطیٰ میں بھی توانائی کااستعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں برآمدات متاثرہوں گی۔برآمدات کے متاثرہونے سے پوراخطہ شدید متاثرہوگاکیونکہ توانائی کی برآمدہی تواب تک ان ممالک کی خوشحالی کامداررہا ہے۔ توانائی کی برآمد میں کمی سے مالیاتی مسائل پیداہوں گے،معیشتیں سکڑیں گی، بیروزگاری کی شرح بلند ہوگی اورسب سے بڑھ کریہ کہ افراطِ زرمیں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔ یہ تمام تبدیلیاں پورے خطے کو عدم توازن سے دوچارکریں گی۔اب اس خطے میں بھی شمسی توانائی اورقابل تجدید توانائی کے دیگر ذرائع سے استفادے کاتصّورتیزی سے پروان چڑھ رہاہے۔ ایشیاکی ابھرتی ہوئی معیشتیں توانائی کے معاملے میں مشرق وسطیٰ پرزیادہ انحصارکررہی ہیں مگرساتھ ہی ساتھ وہ کلین انرجی کے حصول کویقینی بنانے کیلئےبھی مشرق وسطیٰ سے شراکت داری کررہی ہیں تاکہ ماحول کوغیرمعمولی نقصان سے بچایاجاسکے۔ شمسی توانائی اور پن بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔

نیا انرجی سیکیورٹی لینڈ اسکیپ مشرق وسطیٰ کی طرف چین کے بڑھتے ہوئے جھکاؤسے عبارت ہے۔ چین میں کھلے بازارکیمعیشت کواپنانے کی اس سال سلورجوبلی منائی جارہی ہے۔کھلے بازارکی معیشت کے اصول اپنانے سے چین محض ڈھائی عشروں میں حیران کن تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اب دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کی راہ پرگامزن ہے۔۲۰۰۴ء سے۲۰۱۴ء کے دوران چین اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارت میں۶۰۰فیصد سے زائداضافہ ہوا۔اس وقت چین کی تیل کی نصف سے زائددرآمدات کاتعلق مشرق وسطیٰ سے ہے۔ مصر،عراق، عمان،قطر،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے چین کی تجارت میں ڈرامائی سطح پراضافہ ہواہے۔ چین نے کلین انرجی لیڈرکی حیثیت سے بھی اپنی پوزیشن کوخوب منوایاہے۔ اس نے اپنے ہاں بھی کلین انرجی کوفروغ دیاہے اور اب اس کی متعدد کمپنیاں مشرق وسطیٰ میں کلین انرجی کوتیزی سے فروغ دینے کی راہ پرگامزن ہیں۔ اس حوالے سے سرمایہ کاری اورشراکت داری بڑھتی جا رہی ہے۔

تیل اورگیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے لین دین کے علاوہ کلین انرجی کے شعبے میں بھی اشتراکِ عمل اس قدربڑھ گیاہے کہ۲۰۱۶ءمیں چین کی اسٹیٹ کونسل نے آنے والے عشروں کے دوران تجارت،سرمایہ کاری اورشراکت داری کے حوالے سے جامع اورہمہ جہت عرب پالیسی پیپرجاری کیا۔ چین نے اس معاملے میں تین مراحل پرمبنی سوچ اپنائی ہے۔پہلے مرحلے میں تومشرق وسطیٰ سے تیل اورگیس کاحصول یقینی بنائے رکھنے پرتوجہ دی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں اس بات کویقینی بنانے پرزوردیاگیاہے کہ مشرق وسطیٰ کے جن ممالک سے تیل اورگیس درآمد کی جانی ہے اُن کابنیادی ڈھانچا مضبوط رہے، تاکہ وہ توانائی کی برآمدات میں اضافے کی پوزیشن میں رہیں اورتیسرے مرحلے میں ان ممالک سے کلین انرجی کے شعبے میں اشتراکِ عمل کیاجائے۔اس حوالے سے سرمایہ اورشراکت داری کواوّلیت دی گئی ہے۔ انرجی سیکورٹی کے حوالے سے عالمی سطح پرتیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال کے تناظرمیں چین کا عرب پالیسی پیپرخاصامثبت اورمعنی خیزہے کیونکہ اس پرعمل کے نتیجے میں چین اورمشرق وسطیٰ کے درمیان تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے اورچین کو توانائی کے حصول میں کسی غیرضروری الجھن کاسامنانہیں کرناپڑے گا۔

چین اورمشرق وسطیٰ کے درمیان اشتراکِ عمل کی نئی حکمت عملی کورو بہ عمل لانے میں چین کاایک ہزارارب ڈالرکاون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کلیدی کردار ادا کرے گاکیونکہ نئی شاہراہِ ریشم قائم کرنے کے تصور کے ساتھ منظرعام پر لائے جانے والے اس منصوبے کے تحت۶۰سے زائدممالک میں بنیادی ڈھانچے کومضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کوبھی مضبوط بنایاجائے گا۔ اس منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ کے ان ممالک میں بنیادی ڈھانچا مضبوط کیاجائے گاجو صدیوں سے یورپ،ایشیااورافریقاکے درمیان تجارتی راستوں،دو راہوں اورچوراہوں کاکرداراداکرتے آئے ہیں۔ون بیلٹ ون روڈمنصوبے کیلئے ۴۰؍ارب ڈالرکانیوسلک روڈ فنڈ مختص کیاجائے گا۔ایشین انفرااسٹرکچرانویسٹمنٹ بینک۱۰۰؍ارب ڈالرفراہم کرے گااورچین کے۷۵۰؍ارب ڈالرکے خودمختار انویسٹمنٹ فنڈبھی دستیاب ہوں گے۔علاوہ ازیں چین کا۳ہزارارب ڈالرسے زیادہ زرمبادلہ بھی بیک اپ کے طور پر موجود ہوگا۔

ون بیلٹ ون روڈ جدید تاریخ کا ایک شاندار منصوبہ ہے جس میں کئی خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ اس منصوبے سے مشرق وسطیٰ میں توانائی کے روایتی ذرائع تیزی سے تبدیل ہوں گے۔ بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ سرمایہ کاری کا ڈھانچا تبدیل ہوگابالخصوص قدرتی گیس کے حوالے سے۔ چین اور وسطی ایشیا کے درمیان۱۰؍ارب ڈالرکی لاگت سے ڈالی جانے والی قدرتی گیس کی پائپ لائن،پاکستان میں گوادرسے چین تک۴۶؍ارب ڈالرکاایل این جی ٹرمینل اورپائپ لائن کامنصوبہ،سعودی عرب میں ریفائنری کامنصوبہ اورمصراورمتحدہ عرب امارات میں گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے چند منصوبے اس عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔

یہ سب کچھ اگر شفاف بنیادوں پر ہوگا تو بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ متعلقہ خطے اور ممالک چاہتے ہیں کہ انہیں بہتر انداز سے شراکت دار بنایا جائے۔ اس حوالے سے زیادہ شفاف معاہدوں کیلئےآواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ چین اور دیگر قوتیں بھی چاہتی ہیں کہ معاملات زیادہ سے زیادہ شفاف رہیں تاکہ غیر ضروری الجھنیں پیدا نہ ہوں۔ متعلقہ ممالک میں بہت سے معاشرتی گروہ مختلف حوالوں سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ اتنے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں سب کو برابر کا حصہ نہیں ملے گا۔ یعنی کئی علاقے قربانیاں تو بڑے پیمانے پر دیں گے مگر زیادہ فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔ اس نوع کے تمام خدشات دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کئی منصوبے ایسے ہیں جن سے زہریلے مادوں کا ماحول میں داخل ہونا عین ممکن ہے۔ اس حوالے سے ظاہر کیے جانے والے تحفظات دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مشرق وسطیٰ کا شمار پانی کی شدید ترین قلت سے دوچار خطوں میں ہوتا ہے اور قابل کاشت اراضی بھی اس خطے میں بہت کم ہے۔ ایسے میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں میں مشرق وسطیٰ کو معاشرتی اور ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ دی نیو سلک روڈ فنڈ نے اب تک معاشرت اور ماحول سے متعلق معیارات جاری نہیں کیے ہیں تاہم دی ایشین انفرااسٹرکچرانویسٹمنٹ بینک نے ماحول اورمعاشرت سے متعلق اپنے فریم ورک کی تیاری کیلئےعوامی سطح پر بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

اس پالیسی کے تحت بینک اپنے سرمایہ کاری منصوبوں کوپروان چڑھانے کے عمل کے دوران پہلے سے اورمفت مشاورت کااہتمام کرے گا۔ مقامی شراکت داروں اور بین الاقوامی اداروں کے اشتراکِ عمل سے تیل اورگیس کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ماحول کیلئےپیداہونے والے منفی اثرات کو کنٹرول کرنے میں غیر معمولی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

اس تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال کاایک واضح اثرتویہ ہے کہ اب مشرق وسطیٰ میں بجلی کااستعمال غیرمعمولی حدتک بڑھ چکاہے۔ برآمد کے ذریعے آمدن کا ذریعہ بننے والے وسائل کوزیادہ سے زیادہ صرف کیاجارہاہے۔ اگریہ رجحان جاری رہاتومشرق وسطیٰ کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل بڑی حدتک ضائع ہوجائیں گے۔یہی سبب ہے کہ اب توانائی کے متبادل یاغیر روایتی طریقے پروان چڑھانے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ خطے کے کئی ممالک توانائی کے پائیدار ذرائع تلاش کرنے کی راہ پر تیزی سے گامزن ہیں۔

چین نے توانائی کے پائیدارذرائع کو پروان چڑھانے کے حوالے سے غیرمعمولی ترقی کی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک ون بیلٹ ون روڈاور دیگر منصوبوں کی چھتری تلے چین کی رہنمائی میں توانائی کے پائیدار ذرائع کی طرف تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔۲۰۰۳ء سے۲۰۱۳ءکے دوران چین نے سولرٹیکنالوجی کی عالمی برآمدات میں۱۷۴؍ارب ڈالر حاصل کیے جومجموعی برآمدات کا۴۴ فیصد ہے۔ چین نے ۲۰۱۵ء میں دی گرین ایکولوجیکل سلک روڈانویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا،جو توانائی کے پائیدار ذرائع کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ چند چینی اداروں اور اقوام متحدہ نے مل کر اس فنڈ میں۴؍ارب۸۰کروڑڈالرکی بنیادی سرمایہ کاری کی ہے۔

ون بیلٹ ون روڈمنصوبے کے تحت توانائی کے غیرروایتی ذرائع میں غیر معمولی سرمایہ کاری اور پیش رفت کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ذہن سازی بھی ناگزیرہے۔ مشرق وسطٰی کے بڑے ممالک کو اس حوالے سے راضی کرنا لازم ہے تاکہ توانائی کے روایتی ذرائع میں سرمایہ کاری کا گراف نیچے لایا جا سکے۔ اس حوالے سے ایشیا ، افریقا اور یورپ کو بھرپور اشتراکِ عمل کرنا ہو گا۔ مصر نے حال ہی میں نیوسوئزکینال زون قائم کیاہےجس کابنیادی مقصد مقامی آبادی کوبہترمعاشی امکانات سے ہم کنارکرناہے۔ چین اورمصر کے درمیان تجارت کاحجم بڑھتاہی جارہاہے۔دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریب آرہے ہیں ۔ چین نے مصرمیں توانائی کے غیرروایتی ذرائع کوفروغ دینے میں اہم کردارادا کیا ہے۔ تعاون کے نئے شعبے تلاش کیے جارہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کے ۱۵؍ارب ڈالر کے منصوبوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں نیو سوئز کینال زون میں سرمایہ کاری کا حجم۴۰ کروڑڈالرسے بڑھاکرڈھائی ارب ڈالرتک لے جاناہے۔چین سوئزکینال کے علاقے میں۵۰میگاواٹ کاسولرپاور پلانٹ لگانے میں بھی مصر کی مدد کرے گا۔
 
سعودی عرب بھی چین کا تزویراتی شراکت دار بننے کو تیار ہے۔ تیل کے غیر معمولی ذخائر اور برآمدات کے حوالے سے اہم ملک ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی اپنے وژن ۲۰۳۰ء کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ سعودی عرب میں سیاسی اور معاشی سطح پر بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ نئی سعودی قیادت نے ملک کو بہت حد تک بدل ڈالنے کی تیاری کی ہے۔ اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ایسے میں چین اور سعودی عرب کا قریب آنا فطری امر ہے۔ سعودی عرب بھی توانائی کے پائیدار ذرائع اپنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس حوالے سے وہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ عوام کو کلین انرجی کے حوالے سے باشعور بنانے کی ضرورت باقی ہے۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ توانائی کے روایتی ذرائع کا بڑھتا ہوا استعمال ماحول کو شدید نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔

چین سے اشتراکِ عمل کے معاملے میں متحدہ عرب امارات بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے نئے طویل المیعاد منصوبے میں ۲۰۳۰ء تک توانائی کے شعبے میں کلین انرجی کا حصہ ۳۰ فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ابوظہبی کے سولر پاور پراجیکٹ میں۴ء۲امریکی سینٹ فی کلوواٹ کاٹیرف مقررکرکے عالمی ریکارڈ قائم کیاہے۔یہ منصوبہ۲۰۱۹ءمیں مکمل ہوگا۔۸۰ کروڑڈالرکی لاگت سے قائم کیاجانے والایہ ایک ہزارمیگاواٹ کا سولرپاورپراجیکٹ دنیاکا سب سے بڑاسولرپاورپراجیکٹ ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کی قیادت دبئی میں ورلڈ گرین اکانومی آرگنائزیشن قائم کرنے کابھی ارادہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے چین میں پہلے ہی بہت کچھ کیاجاچکاہے۔گرین اکانومی کاخواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے حوالے سے چین نے عالمی سطح پراہم کرداراداکیاہے اوراب بھی وہی قائدانہ حیثیت کامالک ہے۔

ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مدد سے شمال تا جنوب درجنوں ممالک کی معیشت میں انقلاب لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔توانائی کے روایتی ذرائع پرانحصار میں اضافہ کرکے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے پورے خطے میں معاشی،سماجی اورماحولی اعتبارسے خوشگوار تبدیلیاں رونماہوں گی۔

چین،جاپان،جنوبی کوریا،ملائیشیااوردیگرایشیائی ممالک کی تیزرفتارترقی اب تک ایک خاص علاقے تک محدودتھی۔ اب چین باہرنکلاہے تومشرق وسطیٰ،شمالی افریقا اوردیگرخطوں کیلئےبھی پنپنے کے بہترمواقع پیداہوئے ہیں۔ مشرق وسطٰی ایک طویل مدت سے بحرانوں کاشکارہے۔ وقت آگیاہے کہ اب اسے اس کیفیت سے نکالاجائے۔ شفافیت،بہتر حکمرانی،انصاف اورجوابدہی کوپروان چڑھاکربہت کچھ درست کیاجاسکتاہے۔ ترقی میں عوام کو بھی حصہ ملنا چاہیے۔ افلاس کی سطح نیچے لانا بے حد ضروری ہے۔

ابھرتے ہوئے ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ابھرتی اور پنپتی ہوئی شراکت داری اگربہت سے مواقع فراہم کررہی ہے توبہت سے چیلنج بھی درپیش ہوں گے۔ ایشیائی طاقتیں اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال کرنے کی راہ پرگامزن ہیں۔ ایسے میں لازم ہے کہ سیاسی بصیرت ہرگام موجوداورفعال ہو۔تیزی سے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئےسیاسی بصیرت کاہونالازم ہے۔اگرایسانہ ہواتوبہت کچھ داؤپرلگ جائے گا۔جو منظرنامہ ابھررہاہے اس میں غیر معمولی معاشی ثمرات ناممکن نہیں مگریہ سب کچھ کسی کام کانہ ہوگااگرغریبوں کوکچھ نہ ملا۔ لازم ہے کہ عام آدمی کے مفاد کاپوراخیال رکھاجائے اور اسے وہ سب کچھ دیاجائے جوبہترزندگی کیلئےناگزیرہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 468 Articles with 154987 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2017 Views: 385

Comments

آپ کی رائے